عمران خان حکومت کو الٹی میٹم دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 30 / اپریل / 2023
تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے متنبہ کیا ہے کہ حکومت اگر 14 مئی تک قومی و دیگر اسمبلیاں توڑ نے کا اعلان کرتی ہے ، تبھی ایک ہی دن عام انتخابات کے سوال پر بات ہوسکتی ہے۔ بصورت دیگر مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف نے یکم کئی کو احتجاج کرنے اور سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے ۔ اور واضح کیا ہے کہ اگر حکومت اس مطالبے کو نہیں مانے گی تو پھر لانگ مارچ ہوگا۔
عمران خان کی بے چینی کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے لیکن موجودہ حالات میں ان سے یہ توقع نہیں کی جارہی تھی کہ وہ ایک طرف حکومتی پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کا ڈھونگ رچا رہے ہیں تو دوسری طرف انہیں ناکام بنانے کا اعلان بھی خود ہی کررہے ہیں۔ شاید اسی لئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان احتجاج کا نیا سلسلہ شروع کرنے کا شوق بھی پورا کرلیں تاکہ یہ مذاکرات کا سلسلہ تو ختم ہو۔
ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیاں مسلم لیگ (ن) اور جمیعت علمائے اسلام (ف) عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کی حامی نہیں ہیں۔ وہ انہیں سیاسی لیڈر کی بجائے تخریب کار قرار دیتی ہیں۔ اگرچہ ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر کے بارے میں یہ اعلان کرنا درست طریقہ نہیں ہے کہ وہ سیاسی جد و جہد کی بجائے شر پسندی کے لئے سیاسی گروہ بندی کررہا ہے۔ لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو اس رویہ کے بانی خود عمران خان ہی ہیں۔ وہ حکومتی پارٹیوں اور خاص طور سے شریف اور زرداری خاندان کو ’چوروں کا ٹولہ‘ قرار دیتے ہوئے کسی بھی قیمت پر ان کے ساتھ بات چیت نہ کرنے کا عندیہ دیتے رہے ہیں۔ اب بھی اگرچہ ان کی پارٹی کا وفد حکومتی جماعتوں کے وفد سے دو ملاقاتیں کرچکا ہے اور انتخابات کی تاریخوں پر اتفاق رائے کے لئے تیسری ملاقات 2 مئی کو طے ہے لیکن عمران خان کے اعلان نے یہ امید ختم کردی ہے کہ اس ملاقات سے کوئی نتیجہ برآمد ہوگا۔
تحریک انصاف اور عمران خان اپنی مقبولیت کے بارے میں غیر ضروری اعتماد کا مظاہرہ کررہے ہیں حالانکہ اس کا تعین تو تب ہی ہوگا جب انتخابات ہوں گے اور ان کے نتائج سامنے آئیں گے۔ بظاہر عمران خان کو ذاتی طور سے مقبولیت حاصل ہے اور ملک کے اندر اور بیرون ملک ان ک حامیوں کی بڑی تعداد موجود ہے لیکن جب وہ اسمبلیوں کے لئے امید وار نامزد کرتے ہوئے الیکٹ ایبلز تلاش کرکے ، انہیں ہی اپنا امید وار مقرر کرتے ہیں تو اسی سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ عمران خان خود بھی عمومی مقبولیت اور انتخابی جیت کے فرق کو سمجھتے ہیں لیکن اس کا اعتراف کرنے میں حجاب محسوس کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ سیاسی ہتھکنڈا بھی ہوسکتا ہے تاکہ عوام کے علاوہ سیاسی مخالفین کو اس دھونس میں رکھا جاسکے کہ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف ہی انتخابات جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔ یہ تفہیم ایک سیاسی لیڈر یا پارٹی کی خوش فہمی تو ہوسکتی ہے لیکن انہیں معروضی حالات میں انتخابی نتائج قرار دینا ممکن نہیں ہے۔
البتہ حکومتی اتحاد کی طرف سے انتخابات کے انعقاد پر لیت و لعل سے بھی اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ حکومت شکست کے خوف سے فوری انتخابات سے گھبرا رہی ہے۔ معاشی مسائل ، مہنگائی کی صورت حال ، دہشت گردی کے بگڑتے ہوئے حالات اور ملک میں امن و امان کی عمومی کیفیت کے علاہ سیاسی تصادم نے عوام کو موجودہ حالات میں شدید پریشان کیا ہے۔ یہ حالات کسی بھی حکمران سیاسی جماعت کے لئے مشکل کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاہم حکومتی رویہ کو انتخابات میں تعطل کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عمران خان نے دو صوبوں کی اسمبلیاں توڑتے ہوئے ضرور یہ اندازہ لگایا تھا کہ آئینی شق کے تحت وہاں 90 روز کے اندر انتخابات ہوجائیں گے اور وہ ان دو صوبوں میں حکومتیں بنا کر مرکزی حکومت پر دباؤ میں اضافہ کریں گے۔ تاہم اس وقت انہوں نے اس آئینی ضرورت پر غور نہیں کیا کہ اگر دو صوبوں میں انتخاب ہوگئے تو قومی اسمبلی کے انعقاد کے وقت ان صوبوں میں نگران حکومتوں کی آئینی ضرورت کیسے پوری ہوگی؟ سپریم کورٹ نے بھی یک طرفہ طور سے پوری سیاسی و آئینی صورت حال کا جائزہ لئے بغیر یکے بعد دیگرے پنجاب و خیبر پختون خوا اور پھر پنجاب میں انتخاب سے متعلق احکامات دینے شروع کردئے۔ یہ سیاسی و عدالتی رویہ بحران میں اضافہ کا سبب بنا ہے۔
ایک صورت تو یہ ہوسکتی تھی کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں اب انتخابات ہوجاتے اور پھر جب قومی اسمبلی توڑی جاتی تو اس وقت تمام صوبائی اسمبلیاں بھی ٹوٹ جاتیں اور پورے ملک میں عام انتخابات بیک وقت منعقد ہوتے۔ البتہ یہ طریقہ مالی اور عملی لحاظ سے اختیار کرنا ممکن نہیں تھا۔ پاکستان کو جس معاشی مشکل و پریشانی کا سامنا ہے، اس میں سیاسی بحران ختم ہونا ضروری ہے لیکن عمران خان اور تحریک انصاف سیاسی تصادم کم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کی ایک ہی شرط ہے کہ اقتدار ان کے حوالے کردیا جائے تب ہی ملکی حالات درست ہوسکیں گے۔ حالانکہ یہ بھی عمران خان کی خوش فہمی ہے کہ وہ اقتدار سنبھالتے ہی پاکستان کو معاشی و سفارتی مشکلات سے نکال کر خوشحالی و ترقی کے سفر پر گامزن کردیں گے۔ انہوں نے 2018 میں بھی ایسے ہی دعوے کئے تھے لیکن ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں وہ کوئی وعدہ پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ بلکہ تحریک انصاف کے دور میں بعض دوست ملکوں کے ساتھ تعلقات میں جو دراڑ پڑی تھی ، وہ بھی موجودہ معاشی مسائل کی ایک بڑی وجہ ہے۔
دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے جوش میں عمران خان کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ اسی لئے ان کی طرف سے مفاہمانہ طرز عمل دکھائی نہیں دیتا۔ عمران خان کو نہ آئین کی پرواہ ہے اور نہ ہی وہ انتخابات میں کوئی خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا مطمح نظر اقتدار ہے۔ انتخابات کو وہ اقتدار حاصل کرنے کے ہتھکنڈے کے طور پر دیکھتے ہیں اور اپنی مقبولیت کو بھی دلیل کے طور پر استعمال کرکے موجودہ حکومت کو بدنام کرنا چاہتے ہیں تاکہ کسی بھی طرح وہ اقتدار دوبارہ حاصل کرلیں۔ اس سفر میں جو ان کا ساتھ دے وہ قوم کا محسن اور آئین کا رکھوالا ہے اور جو اس طریقہ کی مخالفت کرے یا عمران خان کی مہم جوئی کو کامیاب کروانے میں معاونت سے گریز کرے، اسے سازشی اور قومی مفاد کا دشمن قرار دیا جاتا ہے۔
عمران خان کی اس جد و جہد میں فوج نے چونکہ متوازن اور غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کا اعلان کیا ہؤا ہے، اس لئے تحریک انصاف کی طرف سے مسلسل فوج پر حملے کئے جاتے ہیں۔ گزشتہ روز اپنے خطاب میں ایک بار پھر انہوں نے فوج کو موجودہ حکومت کا پشت پناہ قرار دیا۔ دوسری طرف چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور ان کے بعض ساتھی ججوں نے چونکہ تحریک انصاف کو سیاسی ریلیف دینے کے لئے متعدد فیصلے دئے ہیں، اس لئے اس وقت عمران خان کو عدلیہ ہی قوم کی نجات دہندہ دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر عدلیہ تحریک انصاف کی پٹیشنز کو مسترد کرنا شروع کردے تو یہی جج عمران خان کی آنکھ کا کانٹا بن جائیں گے۔ جیسے کہ جنرل باجوہ جب تک عمران خان کو اقتدار دلوانے اور اس پر قابض رہنے میں معاونت کرتے رہے،اس وقت تک تو وہ جمہوریت کے علمبردار و محافظ قرار پاتے تھے اور انہیں قوم کے ’باپ‘ کا درجہ دیا جاتا تھا۔ یہ مقام اب ملک کے چیف جسٹس کو عطا کیا جاچکا ہے۔
عمران خان نے اس امید پر پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں توڑ ی تھیں کہ حکومت قومی اسمبلی اور دیگر دو صوبوں کی اسمبلیاں توڑنے پر مجبور ہوجائے گی اور انہیں اپنی خواہش کے مطابق عام انتخابات کا تحفہ مل جائے گا۔ ان کا یہ اندازہ غلط ثابت ہؤا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس حکمت عملی کی ناکامی پر وہ سپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کرتے اور اپنے ساتھیوں کے علاوہ پاکستانی عوام سے بھی اپنی غلطی کی معافی مانگ کر مقررہ وقت پر انتخابات کا انتظار کرتے۔ انہوں نے ساری زندگی کرکٹ کھیلی ہے اور بخوبی جانتے ہیں کہ کسی میچ میں شکست کے بعد اسے قبول کرنے ولا کپتان ہی حقیقی لیڈر ہوتا ہے۔ اپنی شکست کو سازش اور جیتنے والی ٹیم کی بدنیتی قرار دینے والے کپتان کو کوئی بھی اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتا۔ لیکن عمران خان سیاسی کھیل میں اچھے اسپورٹس مین بھی ثابت نہیں ہوئے۔
تحریک انصاف اور عمران خان کو سمجھنے کی ضرورت اب وہ الٹی میٹم دینے اور ڈرا دھمکا کر شرائط منوانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ان پر ملک میں سیاسی انتشار جاری رکھنے کا الزام عائد ہوتا ہے۔ وہ جمہوریت اور انتخابات کے نام پر اس الزام سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے ۔ کیوں کہ پاکستانی عوام کو ’منتخب حکومت کی ضرورت‘ کے علاوہ دیگر مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ملک میں امن بحال ہو تو سرمایہ کاری کا سلسلہ شروع ہو اور معاشی بحالی کے سبب روزگار کے حالات بہتر ہونے کی امید باندھی جائے۔ کجا عمران خان اب موجودہ حکومت کی طرف سے بجٹ پیش کرنے کو بھی قومی مفاد کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں۔
اسی دوران آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دشمن عوام اور مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی سازشوں میں سرگرم ہے، عوام اور پاک فوج کے باہمی رشتے کو قائم و دائم رکھا جائے گا‘۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو غور کرنا چاہئے کہ فوج اور عوام میں بداعتمادی کی کوشش کرنے والے عناصر کون ہیں۔ اس غور و خوض کے بعد شاید انہیں اپنی سیاسی حکمت عملی بنانے میں آسانی ہو۔