شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس میں پاکستانی وزیرخارجہ کی شرکت پر بھارتی پریشانی
- تحریر اطہر مسعود وانی
- سوموار 01 / مئ / 2023
شنگھائی تعاون تنظیم کا وزرائے خارجہ اجلاس4اور5مئی کو بھارت کے شہرگوا میں منعقد ہوگا۔ بھارت میں شنگھائی تعاون تنظیم کے مختلف شعبوں کے اجلاس مختلف شعبوں میں منعقد ہو رہے ہیں اور ان میں سے کئی میں پاکستان نے شرکت نہیں کی۔
بھارت کو توقع تھی کہ پاکستان وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا لیکن جب پاکستان نے وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کی شرکت کا اعلان کیا تو بھارت اور اس کی لابیوں نے پاکستان کے خلاف سازشی انداز میں پروپیگنڈہ مہم شروع کردی۔ بھارت یہ خطرہ محسوس کررہا ہے کہ بلاول بھٹو کانفرنس اور اس موقع پرمیڈیا سے گفتگو میں مسئلہ کشمیر کی بات کرسکتے ہیں جس سے اس عالمی تنظیم کے اجلاس کے موقع پر مسئلہ کشمیر نمایاں ہو گا۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک یوریشیائی سیاسی، اقتصادی، بین الاقوامی سلامتی اور دفاعی تنظیم ہے۔ یہ جغرافیائی دائرہ کار اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے جو یوریشیا کے تقریبا 60% رقبے پر محیط ہے۔ دنیا کی آبادی کا 40%۔ اس کا مشترکہ جی ڈی پی عالمی جی ڈی پی کا تقریباً 20% ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر پر 7 جولائی 2002 کو دستخط کیے گئے اور 19 ستمبر 2003 کو نافذ ہوا۔ اس کے بعد سے 8 ملک اس کے رکن بن چکے ہیں جن میں چین، روس ، قازقستان ، کرغزستان ، پاکستان، تاجکستان، ازبکستان اوربھارت شامل ہیں۔
مبصرملکوں میں افغانستان، بیلاروس ، منگولیا ، ایران اور ڈائیلاگ پارٹنرز میانمار، آذربائیجان، کمبوڈیا ، مصر ، نیپال، قطر، سعودی عرب، سری لنکا اور ترکی شامل ہیں جبکہ مہمان شرکا میں آسیان، سی آئی ایس، ترکمانستان اور اقوام متحدہ شامل ہیں۔
پاکستانی وزیرخارجہ کی شرکت سے خوفزدہ بھارتی لابیاں یہ گمراہ کن پروپیگنڈہ بھی کررہی ہیں کہ بھارت کے 5اگست2019کے مقبوضہ جموں و کشمیرسے متعلق ہٹ دھرمی پہ مبنی جارحانہ اقدامات کے خلاف پاکستان نے جو پوزیشن اختیارکی، اب شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت سے پاکستان اس پوزیشن کو کمپرومائیز کررہا ہے۔ انہی دنوں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اجلاس میں پاکستان کی طرف سے دیرینہ مسئلہ کشمیرکے حل کا معاملہ اٹھائے جانے سے بھی بھارت پریشانی کا شکار ہے اور سلامتی کونسل میںکشمیرکو اپنا اٹوٹ انگ کہنے کے سوا کوئی دلیل پیش نہیں کرسکا۔ جس سے عالمی سطح پہ مسئلہ کشمیرپر بھارت کی کمزورپوزیشن کھل کرسامنے آ گئی۔
اب بھارت کو یہ خوف بھی ہے کہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے دورہ امریکہ کے دوران جس طرح بھارتی حکومت کے اقلیتوں کے خلاف اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کو نازی ازم سے تعبیرکرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم کو گجرات کا قصائی بھی قراردیا، اس سے بھارت یہ خطرہ محسوس کررہا ہے کہ گوا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پرپاکستانی وزیرخارجہ مسئلہ کشمیراٹھاتے ہوئے ایک بارپھر بھارت کو عالمی سطح پہ ہزیمت سے دوچارکرسکتے ہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے دورہ بھارت کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں شنگھائی تعاون تنظیم کونسل ایس سی او، کے اجلاس میں ان کی شرکت شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر سے پاکستان کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ اس دورے کو دو طرفہ دورے کے طور پر نہیں بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ بھارت اس حوالے سے مجبورہے کہ وہ اپنے ملک میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام رکن ممالک کو شرکت کی دعوت دے۔ اس حوالے سے بھارت کے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے۔ بھارت کی انتہا پسند تنظیموں نے مقبوضہ کشمیرکے پونچھ علاقے میں 5 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے ایک واقعہ کے بعد بھارتی حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی ذمہ داری پاکستان پی ڈالتے ہوئے پاکستانی وزیرخارجہ کو بھارت میں منعقدہ ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت سے روکا جائے۔.
یہاں یہ بات واضح کرنا بھی اہم ہے کہ بھارت تواترسے مقبوضہ جموں و کشمیرمیں کشمیریوں کی مسئلہ کشمیرکو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹرکے مطابق پرامن اور منصفانہ طورپرحل کرنے کے مطالبے کے ساتھ بھارت کے خلاف آزادی کی مزاحمتی تحریک کو پاکستان کی طرف سے مسلط کردہ دہشت گردی کے طورپرپیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انڈیا 1948 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ شکایت لے کر گیا تھا کہ پاکستان کشمیر میں مداخلت کر رہا ہے۔ سلامتی کونسل نے پاکستان اور انڈیا کے بیانات ا ور کشمیر کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد د ونوں ملکوں کی رضامندی سے فیصلہ کیا کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی رائے شماری سے طے کیا جائے۔
75 سال گزر جانے کے بعد بھی انڈیا کشمیر میں پاکستان کی مداخلت کا الزام لگارہا ہے جس کا فیصلہ سلامتی کونسل کر چکی ہے۔ اب مرحلہ سلامتی کونسل کی قرارداد وں پر عملدرآمد کا ہے۔ بھارت کا کشمیریوں کی آزادی کی مزاحمتی تحریک کومقبوضہ جموں و کشمیرمیں پاکستان کی مداخلت قراردینا عالمی سطح پر مسترد شدہ معاملہ ہے۔ اور بھارت کا خلاف حقائق پروپیگنڈہ عالمی ادارہ میں مسترد کیا جا چکا ہے۔