جج اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں اور اپنی تاریخ کا حساب دیں: خواجہ آصف

  • منگل 02 / مئ / 2023

مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جج اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں اور اپنی تاریخ کا حساب دیں۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے آئین بنانے کی طاقت ایک وردی والے شخص کے سپرد کی اور اسے آئینی ترمیم کا بھی اختیار دیا، ان کا بھی کوئی احتساب ہوگا۔

انہوں نے فوجی آمروں کی جانب سے آئین معطل کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کا بار بار خون ہوا۔ کیا ان عدالتی کارروائیوں کی پروسیڈنگ منگوائی جائیں گی؟ سپریم کورٹ اپنا ماضی صاف کرنے کے لیے کیا کرے گی؟ ہم لوگ اپنے جرائم کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن متحارب تھے، بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے چارٹرڈ آف ڈیموکریسی سائن کیا۔ اس کے بعد دو اسمبلیوں نے مدت پوری کی۔

ان کا کہنا تھا یہ مقتدر ادارہ آئین کا محافظ ہے۔ آئین سے ماورا کوئی چیز نہیں ہوگی۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تاریخ کا حساب دیا جائے۔  ہم ہر پانچ سال بعد عوام کو حساب دیتے ہیں۔ ہماری تنخواہ ایک لاکھ 68 ہزار ہے۔ ان سے پوچھیں ان کی کیا تنخواہ ہے۔

انہوں نے کہا  ایک سپیشل کمٹی بنائی جائے۔ جو آئین کی پامالی کا حساب لے۔ ہم اپنے پُرکھوں کا حساب دے رہے ہیں یہ اپنے پُرکھوں کا حساب دیں۔ انہوں نے ججوں سے کہا ’اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں‘۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جو لوگ اس دنیا میں نہیں ان پر بھی مقدمہ چلایا جائے۔ جو زندہ ہیں انہیں بھی بلائیں۔ آئین شکنی کرنے والوں کو بلائیں۔ پارلیمنٹ ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ پارلیمنٹ وزیر اعظم کو بلی نہیں چڑھائے گی۔

انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’کمیٹی بنائیں اور ججوں پر مقدمے ہوں چاہے وہ زندہ ہیں یا مر گئے۔ تاکہ نئی نسل کو پتا چلے کہ ان کی کیا اوقات ہے‘۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 1947 سے لے کر اب تک انہوں نے کیا کیا گُل کھلائے ہیں۔ جتنے حملے اِنہوں نے کیے ہیں پارلیمنٹ نے نہیں کیے۔ اپنی ماضی کی غلطیوں پر ہم سب سے معافی مانگتے ہیں انہیں بھی معافی مانگنے دیں۔

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایک منظم طریقے سے عدالتی نظام کو غیر فعال کیا جا رہا ہے۔ ایک نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ کل مریم نواز نے اپنی تقریر میں چیف جسٹس کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا۔ 16 میں سے آٹھ ججز ن لیگ کے نشانے پر ہیں۔ ن لیگ ان ججوں کو ٹارگٹ کر رہی ہے اور اس کی وجہ الیکشن نہیں، اور نہ ان ججوں کی ذات سے کوئی ایشو ہے۔ یہ سب ایک مقصد کے تحت ہو رہا ہے وہ یہ کہ چیف جسٹس اور اعجاز الاحسن کا تین رکنی بیچ جو نیب کے کیس کی سماعت کر رہا ہے وہ ڈسمس ہو جائے۔

نواز اور زرداری فیملینز کی گردنیں اس کیس میں پھنسی ہوئی ہیں اگر سپریم کورٹ نے نیب ترمیم کو کالعدم قرار دے دیا اور مقدمے بحال ہو گئے تو ان کا رجیم چینج کا مقصد ختم ہو جائے گا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ایک خاص انداز میں آڈیو لیکس کی جا رہی ہے اور مریم نواز نے آن ریکارڈ کہا کہ ان کے پاس ویڈیو بھی ہیں۔ تو ہمیں ان کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے ججز سے مخاطب ہو کر کہا کہ پورا پاکستان ان کے پیچھے کھڑا ہے بلیک میلنگ میں آئے بغیر آزاد فیصلے کریں۔ آئین اور قانون پر فیصلہ دیں۔ عمل درآمد پاکستان کے لوگوں کا کام ہے۔

فواد چودری نے کہا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر نے اپنے اقدامات سے اس عہدے کی عزت میں کمی کی ہے۔ ایک کروڑ اوور سیز پاکستانی ووٹ کے حق سے محروم ہے صرف الیکشن کمشنر کے رویے کے وجہ سے ہے۔