الیکشن کمیشن نے پنجاب انتخابات پر فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کردی
الیکشن کمیشن نے پنجاب میں انتخابات کے معاملہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔
درخواست میں الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انتخابات کے انعقاد سے متعلق آرٹیکلز کو ایک ساتھ پڑھا جائے۔ سپریم کورٹ کے پاس انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں۔ عدالت نے تاریخ دے کر اختیارات سے تجاوز کیا۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت قانون کی تشریح کر سکتی ہے، قانون کو دوبارہ لکھ نہیں سکتی۔ بااختیار الیکشن کمیشن وقت کی ضرورت ہے۔
درخواست میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی اور فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔ بیلٹ پیپرز کی چھپائی اور دیگر امور کے لیے فنڈز نہیں ملے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے قومی اسمبلی کے الیکشن شفاف نہیں ہو سکیں گے۔
درخواست میں الیکشن کمیشن کی جانب سے مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ کا 11 رکنی لارجر بینچ کا فیصلہ موجود ہے۔ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے ماضی میں الیکشن کو 4 ماہ آگے بڑھانے کی اجازت دی تھی۔
الیکشن کمیشن نے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کا انعقاد ناممکن قرار دیتے ہوئے نئی تاریخ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں بالترتیب 14 اور 18 جنوری کو تحلیل ہوئیں۔ قانون کے تحت اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد 90 روز کے اندر انتخابات کرانا ہوتے ہیں۔
اس دوران پاکستان تحریک انصاف نے ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات کرانے کے معاملے پر حکومت کے ساتھ مذاکرات سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے۔ اور سپریم کورٹ سے درخواست کی ہےکہ پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کروائے جائیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں پنجاب میں 14 مئی کو انتخاب کے انعقاد کے لیے معاملے پر باضابطہ طور پر عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا ہے۔ متفرق درخواست تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ تحریک انصاف کی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ دستور سے انحراف کی راہ روکنے کے لیے عدالتی فیصلے کی روشنی میں 14 مئی کو انتخابات کا انعقاد لازم ہے۔
پی ٹی آئی نے درخواست میں کہا کہ فریقین کے مابین اتفاق ہوا کہ بات چیت کو تاخیری حربے کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔ فریقین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اس گفتگو کے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم نامے پر اس وقت تک کوئی اثرات مرتب نہیں ہو ں گے جب تک دونوں کے مابین آئینی حدود کے اندر کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا۔
درخواست میں کہا گیا کہ تحریک انصاف نے ملک میں ایک ہی روز انتخابات کروانے کے لیے 4 شرائط پیش کیں۔ ان شرائط کے مطابق تحریک انصاف ایک ہی روز انتخابات کے لیے تیار ہے بشرطیکہ قومی، سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کو 14 مئی یا اس سے پہلے تحلیل کر دیا جائے۔ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات تینوں اسمبلیوں کی تحلیل کے 60 روز کے اندر یعنی جولائی کے دوسرے ہفتے میں کروائے جائیں۔
پی ٹی آئی نے اپنی درخواست میں کہا کہ پی ڈی ایم اتحاد نے ہماری ان تجاویز سے اتفاق نہیں کیا۔ پی ڈی ایم اتحاد کے مطابق قومی اور سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیاں 30 جولائی کو تحلیل کی جائیں گی۔ ان کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیوں کےانتخابات اسمبلیوں کی تحلیل کے 90 روز کے اندر بیک وقت اکتوبر کے پہلے ہفتے میں منعقد ہوں گے۔ آئینی ترمیم کے ذریعے معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے آئینی ترمیم پر بھی دونوں جماعتوں میں اتفاق رائے کا فقدان ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ مندرجہ بالا نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے معزز عدالت پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے اپنے 4 اپریل کے حکم نامے کے من و عن نفاذ کا اہتمام کرے۔ معزز عدالت کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب میں 14 مئی کو انتخاب کروایا جائے۔