پارلیمینٹ اپنی بالا دستی بالفعل منوائے
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 03 / مئ / 2023
اس ملک بدنصیب میں جمہوریت کے عدم تسلسل نے آج یہ صورتحال پیدا کر دی ہے کہ کوئی بھی خودنمائی و خودستائی کا مارا شخص بائیس کروڑ عوام کے منتخب ادارے پارلیمینٹ کو چیلنج کر سکتا ہے۔
یہاں خاکیوں کے متعلق یہ سمجھا جاتا تھا کہ انہیں جب بھی موقع ملتا ہے وہ عوامی امنگوں کے ترجمان ادارے اور اس کے قائد ایوان پر چڑھائی کر دیتے ہیں جبکہ دیگر ہمنوا طبلہ بجاتے ہوئے محض اوماملکت ایمانکم کا رول ادا کرتے ہیں۔ لیکن آج نیا پہلو جلوہ گر ہوا ہے کہ آمرانہ ذہنیت محض خاکیوں کا خاصا نہیں ہے، یہ سیاہ لبادوں میں بھی پر پرزے نکال سکتی ہے اور اس کی تباہ کاریاں کسی طرح بھی عسکریوں سے کم نہیں رہی ہیں ۔ آج منتخب ایوان سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ وہ وقت گیا جب منتخب وزیر اعظم کو بلی چڑھایا جاتا تھا، پارلیمینٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ جو بھی آتا ہے وہ پارلیمینٹ پر حملہ آور ہو جاتا ہے جن کے اپنے پندرہ بندوں میں اتفاق نہیں وہ ہمیں اتفاق رائے اور مذاکرات کا سبق پڑھا رہے ہیں۔ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ تم پنچایتی رول ادا کرو؟ ہر کسی کا اپنا دائرہ کار ہے اپنی حدود میں رہو۔ ہم پارلیمانی کارروائی کے منٹس دیں گے اور نہ وزیر اعظم کی قربانی بلکہ ہم آئین شکنی پر انگوٹھے لگانے والوں کی باقیات کو یہاں بلائیں گے اور تقاضا کریں گے کہ اپنی غیر آئینی کارروائیوں کا ریکارڈ پیش کرو۔ بھٹو، گیلانی اور نواز شریف کے کیسز کا حساب دو آپ نے جو ناقابل معافی گناہ کئے ہوئے ہیں ان کا جواب دو۔
اس کے برعکس دوسری طرف نہ صرف یہ کہ پارلیمینٹ کے منظور کردہ قانون کو تسلیم کرنے اور اس کے خلاف جاری کردہ حکم امتناعی کو ختم کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے بلکہ اس سلسلے میں فل کورٹ بنانے اور سکینڈل کے حوالے سے ملزم ٹھہرائے جانے والے کو بنچ سے الگ کرنے کی استدعا بھی مسترد کر دی گئی ہے۔ اس سے بھی چار قدم آگے بڑھ کر اپنے ہمنواؤں کو ساتھ بٹھاتے ہوئے باقاعدہ پریس کانفرنس کی گئی ہے جس میں صاف صاف کہہ دیا گیا ہے کہ ہم اپنے حوالے سے پارلیمینٹ کی اتھارٹی کو نہیں مانتے، سیاسی معاملات نے عدالتی ماحول کو آلودہ کر دیا ہے۔ یہ اپنی مرضی کے جج اور مرضی کے فیصلے چاہتے ہیں اگر ہمارا احترام نہ کیا گیا تو پھر ہم سے بھی انصاف کی توقع نہ رکھیں ۔ کیا اتنی بڑی غیر آئینی جسارت پر ہمارے قومی میڈیا میں ہلچل نہیں اٹھنی چاہئے کہ انصاف کی سب سے بڑی کرسی پر براجمان شخص یہ اعلان کر سکتا ہے کہ اگر کسی نے انصاف لینا ہے تو پھر اس کی قیمت میری مرضی کے احترام کی صورت ادا کی جائے۔ جس نوع کا پروٹوکول یا احترام و تقدس میں چاہتا ہوں پہلے مجھے وہ پیش کرو، اس کے بعد ہی انصاف دینے کا سوچا جائے گا۔ کیا دنیا بھر کی جوڈیشری میں کبھی کہیں کوئی ایسے ہوتا ہے کہ ریاستی کرسی انصاف پر متمکن شخص یہ شرط لگا دے کہ پہلے میری قدم بوسی کرو، اس کے بعد انصاف کی امید لگاؤ اگر احترام پیش کرنے میں کسی نوع کی کمی یا کوتاہی ہوگی تو کیا پھر بے انصافی ہو گی؟
کیا پوری دنیا میں کبھی کہیں ایسے ہوتا ہے کہ انصاف کی بڑی کرسی پر براجمان شخص یہ کہہ رہا ہو کہ وہ پارلیمینٹ کی بالادستی یا قانون سازی کی اتھارٹی کو نہیں مانتا۔ پارلیمینٹ کا تشکیل کردہ قانون یا ایکٹ آف پارلیمینٹ ابھی پراسس میں ہو اور وہ اس کے جنم لینے سے پہلے ہی اس پر حکم امتناعی جاری کر دے۔ واویلا یہ ہو کہ انصافی ادارے کے اختیارات چھینے جا رہے ہیں ۔ ہم غیر جانبدارانہ طور پر عدالتی اصلاحات کے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023۔کا جائزہ لیتے ہیں تو کوئی ایک لفظ بھی ایسا نہیں ملتا جس سے عدالتی اختیارات میں کمی کا تاثر بھی ابھرتا ہو۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عدالتی اختیارات جن کا استعمال فرد واحد اپنی من مانی سے کر رہا تھا، انہیں ریگولیٹ کرتے ہوئے سینئر ججز کے ساتھ ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے تاکہ کوئی بھی اقدام باہمی مشاورت سے اٹھایا جائے۔ کیا سینئر ججز کو او ایس ڈی بنا کر فرد واحد کی من مانیوں کا نام عدالتی اختیارات ہے ؟ جبکہ آئین واضح ہے کہ یہ سپریم کورٹ کی اتھارٹی ہے اورسپریم کورٹ سے مراد محض چیف جج نہیں بلکہ دیگر ججز بھی اس میں شامل ہیں ۔
سوالات تو یہ اٹھائے جانے چاہئیں کہ آپ کس آئینی شق کے تحت پارلیمینٹ کی بالادستی کو چیلنج کرتے ہوئے ایکٹ آف پارلیمینٹ کو کئے ہوئے ہیں ؟ پاکستان ہی نہیں ترقی یافتہ ممالک کے آئین بھی یہ کہتے ہیں کہ ایسی ججمنٹ مت دو جو نافذ نہ ہو سکے۔ آپ الیکشن کمیشن کی اتھارٹی کو ہاتھ میں لیتے ہوئے الیکشن ڈیٹ بمع شیڈول اور پھر سٹیٹ بنک کو براہ راست اکیس ارب کی خطیر رقم جاری کرنے کے احکامات کس حیثیت میں دے رہے ہیں ؟ جو ناقابل عمل ثابت ہو چکے ہیں۔ اپنی عزت پر پہلا حملہ تو خود آپ کر چکے ہیں اور اس پر رو دھو بھی چکے ہیں ۔ اب آپ پارلیمینٹ سے کون سا ریکارڈ طلب فرما رہے ہیں۔ وہ جس کی کارروائی کو آئینی تحفظ حاصل ہے جبکہ آئینی طور پر پارلیمینٹ کو قانون سازی کا جو حق ہے اس کے تحت وہ آپ کی تنخواہوں اور بے مہابا مراعات پر بھی نظر ثانی کر سکتی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی آڈیٹر جنرل کو بھی ہدایت جاری کر سکتی ہے اور خود بھی آپ کے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کو تمامتر مالی معاملات میں بلا سکتی ہے اور عدم تعمیل پر وارنٹ گرفتار ی جاری فرماسکتی ہے۔ یہ پوچھ سکتی ہے کہ ڈیم فنڈ کے سترہ ارب روپے کس حیثیت میں پڑے ہیں۔ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی یا ملک ریاض کی رقوم یا یوکے سے آئی رقوم، سٹیمپ ڈیوٹی کی رقوم اور اسلامک انوسٹمنٹ کی رقوم کے کھاتے لے کر پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کے حضور پیش ہوں۔
عوامی نمائندوں کو تو اس سے بڑھ کر جسٹس منیر کی کارستانیوں کے ریکارڈ سے شروع ہوتے ہوئے ارشاد ، انوار اور مشتاق کے ریکارڈ بھی منگوانے چاہئیں جو طاقتوروں کی آئین شکنیوں کو تحفظ دینے کیلئے پاگل ہوئے پڑے تھے۔ جس آئین کے کسی ایک لفظ یا کومے کو بدلنے کا اختیار پوری کی پوری سپریم جوڈیشری کو حاصل نہیں، وہ کس حیثیت سے طالع آزماؤں کو یہ اتھارٹی تفویض کرتے رہے کہ آئین کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھ کر جو چاہو کرو، چاہے بوٹوں تلے روند و یا قیمہ بنا دو۔ اس کے بعد نئی کھیپ نے جو گل کھلائے اس کے کارن آج پوری قوم رو رہی ہے۔ افتخار، گلزار اور کھوسہ کے کیا کہنے۔ ایک شخص تھا بابا رحمتا ہماری حالیہ تباہ کاریوں کا سب سے بڑا ذمہ دار، وہ کیا کیا ڈرامے کرتا رہا ؟
درویش اپنے منتخب نمائندوں کی خدمت میں استدعا کرتا ہے کہ وہ پارلیمینٹ کی بالادستی و ساورنٹی منوانے کے جو دعوے فرما رہے ہیں محض لفاظی دکھانے کی بجائے عملی اقدام کریں۔ بہت ہو گئی پارلیمینٹ کی سبکی۔ آج فرد واحد کو اپنی عزت منوانے کا اتنا شوق اور فکر ہے کہ وہ اپنی خواہش پوری نہ ہونے کی صورت میں کھلے بندوں یہ اعلان کر رہا ہے کہ میں کرسی انصاف پر بیٹھنے کے باوجود انصاف نہیں کروں گا۔ کوئی مجھ سے ایسی توقع نہ رکھے رہ گئی بائیس کروڑ عوام کی عزت وہ جائے بھاڑ میں۔ آئین کی ماں اگر آئین کی پیداوار کے اختیارات کو ریگولیٹ کرتی ہے تو وہ اتنی بڑی جسارت کرتے ہوئے بائیس کروڑ عوام کی امنگوں کے ترجمان ادارے کے بالمقابل کھڑے ہو جاتا ہے، تو آپ لوگ اس بالادست ادارے کی ساورنٹی منوانے کیلئے منتخب حکومت کو یہ ہدایت کیوں نہیں کر رہے کہ افتخار چودھری کی بحالی کیلئے جس نوع کا ایگزیکٹو سرکولر جاری کیا گیا تھا اور جسے بشمول جوڈیشری سب نے تسلیم کیا تھا، اس طرز کا ایگزیکٹو سرکولر جاری کرتے ہوئے طالع آزمائی کی ذہنیت کو کنٹرول کرلے چاہے ہاؤس اریسٹ کرنا پڑے۔ اور نوٹیفیکیشن کے ذریعے سینئر موسٹ کو اس ذمہ داری پر فائز کرے جیسے آرمی چیف کو سنیارٹی کی بنیاد پر فائز کیا گیا ہے۔
اس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کے تحت ادارہ جاتی تطہیر کی جائے اور جن دو ججز کی سپریم جوڈیشری میں کمی ہے سندھ اور کے پی سے سنیارٹی اور میرٹ کی بنیاد پر جس کا جو حق ہے اسے وہ دیا جائے۔ آپ لوگ دوسروں کو خود پر حملہ آور ہونے کے مواقع کیوں دیتے ہیں۔ جو طوفان آنا ہے آ جائے۔ ملک اس وقت جن بحرانوں سے گزر رہا ہے بالخصوص معاشی بربادی کی صورت میں اور آئی ایم ایف سے درپیش الجھنوں کی موجودگی میں کیا ملک کو یونہی غیر ذمہ دار لوگوں کی اٹھکیلیوں کے لئے بے آسرا چھوڑدیا جائے۔ آپ لوگ حوصلے سے ٹھوس قدم اٹھائیں۔ انصافیوں کی عوامی مقبولیت کے جھوٹے دعوے جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے۔ کوئی طوفان نہیں اٹھے گا بلکہ منصفانہ انتخابات سے پہلے سابقہ تمام خرمستیوں کی درستی کرتے ہوئے ترازو کے پلڑے بھی برابر کئے جا سکیں گے۔