چیف جسٹس تحریک انصاف کے سیاسی جال سے بچیں
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 03 / مئ / 2023
تحریک انصاف نے حکومتی پارٹیوں کے ساتھ مذاکرات کی تفصیل سپریم کورٹ میں جمع کرواتے ہوئے استدعا کی ہے کہ پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے حکم پر عمل کروایا جائے۔ اسی دوران میں عمران خان نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے ہفتہ کی شام کو ایک گھنٹے کے لئے احتجاج کی اپیل بھی کی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ تحریک انصاف نے جیسے 2018 میں فوج کی اعانت سے اقتدار حاصل کیا تھا، ویسے ہی وہ اب یہ مقصد سپریم کورٹ کے کندھوں پرسوار ہو کر حاصل کرنا چاہتی ہے۔
ادھر الیکشن کمیشن نے 4 اپریل کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی ہے۔ اس درخواست میں عملی مشکلات اور صورت حال کا احاطہ کرنے کے علاوہ عدالت کو باور کروایا گیا ہے کہ پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرکے سپریم کورٹ نے اپنی آئینی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ ملکی آئین اداروں کے درمیان توازن پیدا کرتا ہے۔ صوبائی اسمبلی توڑنے کے بعد کسی صوبے میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا بہر صورت سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ یہ درخواست چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو اس مشکل بحران سے نکلنے کا نادر موقع فراہم کرتی ہے جس میں جسٹس بندیال اپنی ہٹ دھرمی اور غلط اندازوں کے سبب اپنے علاوہ سپریم کورٹ کو دھکیل چکے ہیں۔ اب تحمل کا مظاہرہ کرکے اور نظر ثانی کی درخواست کو سماعت کے لئے مقرر کرکے اس بحران کو ٹالا جاسکتا ہے۔ بصورت دیگر عمران خان تو عمر عطا بندیال کو سیاسی ہتھکنڈا بنا کر ان کے حق میں احتجاج کرنے کا اعلان کر ہی چکے ہیں۔
کسی بھی عدالتی فیصلہ پر نظر ثانی کرنا بنیادی قانونی ضرورت ہے اور اس سے انصاف کے تقاضے پورے ہونے میں مدد ملتی ہے۔ آئینی طور سے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلہ پر نظر ثانی کی گنجائش اسی لئے رکھی گئی ہے کہ ججوں سے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔ نظرثانی کی صورت میں ایسی کسی غلطی کی تلافی ممکن ہوتی ہے۔ 4 اپریل کے فیصلہ میں پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کا تعین کرکے اور اس کے بعد اس معاملہ میں مزید سماعت کے دوران اسٹیٹ بنک کو براہ راست 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو فراہم کرنے کا حکم دے کر سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نےنہ صرف یہ کہ اپنے اختیار اور آئینی حدود سے تجاوز کیا تھا بلکہ عملی مسائل کا جائزہ لینے، اس معاملہ کے دیگر پہلوؤں پر غور کے ذریعے مکمل تصویر کو سمجھنے اور کوئی متوازن راستہ نکالنے کی ضرورت کو بھی نظر انداز کیا۔ چیف جسٹس کے ریمارکس میں اکثر و بیشتر آئین کے احترام کی بات کی جاتی ہے لیکن ان کے اپنے احکامات کے بارے میں یقین سے یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ وہ آئینی حدود میں رہتے ہوئے جاری ہوتے ہیں۔ خاص طور سے آئینی شق 63 اے کی تشریح کرتے ہوئے جیسے آئینی تقاضوں سے تجاوز کی مثال قائم کی گئی ہے، اس پر سیاسی پارٹیوں ہی کی طرف سے نہیں بلکہ خود سپریم کورٹ کے فاضل ججوں کی طرف سے بھی حیرت و پریشانی کا اظہار سامنے آچکا ہے۔
سپریم کورٹ بلاشبہ ملکی آئین اور مروجہ قوانین کی پابند ہوتی ہے اور انہی کی روشنی میں فیصلے کرسکتی ہے۔ لیکن حالیہ عدالتی طرز عمل سے یہ تاثر قوی ہؤا ہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں بعض جج حضرات یک طرفہ حکم صادر کرنے کے شوق میں ہر حد سے گزر جانا چاہتے ہیں اور جو قانون ان کے راستے میں آئے، اسے مسترد کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کونافذ ہونے سے پہلے ہی غیر مؤثر کردیا گیا حالانکہ عدالت کے سامنے نہ تو اس ایکٹ کے خلاف اپیل کرنے والے درخواست دہندگان کے وکلا نے دلائل دئے تھے اور نہ ہی حکومتی وکلا نے بتایا تھا کہ یہ قانون بنانے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔ فوری طور سے ہم خیال ججوں کا آٹھ رکنی بنچ بنا کر کسی باقاعدہ سماعت کے بغیر ہی کسی قانون کے نفاذ سے پہلے ہی اسے کالعدم قرار دینے کا حکم دینا عدالتی نہیں ، سیاسی طرز عمل دکھائی دیتا ہے۔ عدالت کسی معاملہ میں بھی جذبات یا ذاتی مفادات سے متاثر ہوکر کوئی فیصلہ نہیں کرتی بلکہ اسے قانونی بنیاد، جواز اورفریقین کے دلائل کی روشنی میں راستہ نکالنا پڑتا ہے۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے خلاف عدالتی حکم سے نہ صرف کسی قانون کے نفاذ سے پہلے اسے معطل کرنے کی غیر معمولی نظیر قائم کی گئی بلکہ اس عدالتی روایت کو بھی نظر انداز کردیا گیا کہ عدالت فریقین کے دلائل سننے کے بعد ہی کسی رائے کا اظہار کرے۔ اس قانون پر عمل درآمد روکنے کا حکم ججوں کی ذاتی خواہش کا اظہار تھا، کسی قانونی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش نہیں تھی۔ بعد از وقت چیف جسٹس کے یہ کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عدالت نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا بلکہ یہ تو عارضی حکم ہے۔ جب عارضی حکم اتنا حتمی ہو تو درحقیقت اس پر مزید غور و خوض کا طریقہ محض دھوکہ دکھائی دیتا ہے۔ عدالت اپنی منشا ظاہر کرچکی ہے اور اسے نافذ کرنے کا حکم بھی دیا جاچکا ہے۔
چیف جسٹس نے گزشتہ روز اس معاملہ کی سماعت کی دوران ایک بار پھر سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کو عدالتی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ یہ ایک سیاسی بیان ہے جس کا قانونی معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے علاوہ قانون کے متن سے ایک بھی ایسا فقرہ تلاش نہیں کیا جاسکتا جس میں عدلیہ کی آزادی یا اختیار پر کوئی قدغن لگانے کی بات کی گئی ہو۔ البتہ چیف جسٹس جن اختیارات کو تن تنہا انفرادی حق سمجھ کر استعمال کرتے رہے تھے، انہیں سینئر ججوں کی سہ رکنی کمیٹی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس طریقہ سے گو کہ چیف جسٹس کے انتظامی اختیارات محدود ہوتے ہیں لیکن سپریم کورٹ بطور ادارہ مستحکم ہوتی۔ لیکن چیف جسٹس کو اپنے کامل اختیار میں ہی سپریم کورٹ کی خود مختاری دکھائی دیتی ہے جو آئین و قانون کی غلط اور گمراہ کن تشریح سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔
اب چیف جسٹس نے اس قانون کے حوالے سے سماعت کی سربراہی کرتے ہوئے پارلیمانی ریکارڈ طلب کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ پارلیمنٹ میں اس عدالتی حکم پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ نہ جانے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کسی اختیار کے تحت ملکی پارلیمنٹ کا ریکارڈ طلب کررہے ہیں حالانکہ پارلیمنٹ تو قانون سازی اور آئینی ترمیم کا اختیار رکھنے والا ایک ایسا آئینی ادارہ ہے جس کی کارروائی کو آئین خود تحفظ فراہم کرتا ہے۔ چیف جسٹس نے حکم دے کر ایک نئے طوفان کو دعوت دی ہے۔ تاہم اب ان کے لئے طوفان سے نکلنے اور خود کو اور سپریم کورٹ کو مزید ہزیمت سے بچانے کا وقت آگیا ہے۔ چیف جسٹس سمیت عدالت عظمی کے سب ججوں پر لازم ہے کہ وہ سیاست کو عدالتی کارروائی اور اپنی ذاتی حیثیت پر حاوی ہونے کا موقع نہ دیں ورنہ سیاست دان عدالت کو اپنی سیاسی پارٹی کا حصہ سمجھتے ہوئے ، اسے سیاسی مقصد کے لئے استعمال کرنے میں ذرا دیر نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس سے اظہار یک جہتی کے لئے عمران خان کی طرف سے احتجاج کرنے کی اپیل ، اسی کا ایک نمونہ ہے۔
اصولی طور سے تو چیف جسٹس کو عمران خان کو یہ بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس دے کر طلب کرنا چاہئے۔ کسی چیف جسٹس کی حمایت میں احتجاج کی کال دے کر درحقیقت عوام کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ چیف جسٹس بے بس اور کمزور ہے ، اس لئے عوام باہر نکلیں اور اس کی حفاظت کا اہتمام کریں؟ کیا ملک کے چیف جسٹس اس طرز عمل کو قبول کرکے اپنی بے بسی کے اعلان کو قبول کرلیں گے؟ اگر چیف جسٹس اس معاملہ میں خاموش رہتے ہیں اور ملک کی ایک سیاسی پارٹی کو عدالت کے نام پر سیاست کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو وہ خود تو شاید مضبوط نہ ہوں لیکن سپریم کورٹ کو مزید کمزور کرنے کا موجب ضرور بنیں گے۔
تحریک انصاف کی طرف سے سیاسی پارٹیوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی ’رپورٹ‘ عدالت میں جمع کرواکے بھی درحقیقت بنیادی جمہوری طریقے، آئینی ضرورت اور پارلیمانی بالادستی کے اصول کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف اور حکومتی اتحاد کے درمیان مذاکرات سینیٹ کے چئیر مین صاد ق سنجرانی کی دعوت پر منعقد ہوئے تھے۔ اگر کسی پارٹی کو اس بارے میں کوئی رپورٹ پیش کرنے کا شوق تھا تو وہ چئیرمین سینیٹ کو پیش کرنی چاہئے تھی۔ سیاسی مذاکرات سے ملک کے چیف جسٹس کا کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔ چیف جسٹس خود اپنے ریمارکس میں وضاحت کرچکے ہیں کہ عدالت سیاسی پارٹیوں کو مذاکرات کا حکم نہیں دے سکتی۔ جیسے عمران خان، چیف جسٹس کے لئے احتجاج کے نام پر سپریم کورٹ کو سیاست میں گھسیٹنے کی افسوسناک کوشش کررہے ہیں ، بعینہ سپریم کورٹ میں سیاسی مذاکرات کی رپورٹ پیش کرکے درحقیقت عدالت عظمی کو اپنی سیاست میں فریق بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ چیف جسٹس کو اس جال میں پھنسنے سے گریز کرنا چاہئے۔
چیف جسٹس کی طرف سے مزید خاموشی کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے عدالتی حکم پر نظر ثانی کرنے اور تمام حقائق و عوامل کو پیش نظر رکھ کر متوازن فیصلے دینے کا وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ سپریم کورٹ نہ صرف پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کا حکم واپس لے بلکہ اس بات کا جائزہ بھی لیا جائے کہ اسمبلیاں توڑنے کے جس سیاسی اقدام پر یہ قضیہ شروع ہؤا ہے، وہ کس حد تک آئینی تقاضوں کے مطابق تھا۔ اسی طرح چیف جسٹس کو یکم مارچ کو سوموٹو اختیار کے تحت جاری ہونے والے حکم سے بھی رجوع کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ججوں کی اکثریت آئینی شق 184 (3) کے تحت صوبائی انتخابات پر فیصلہ کرنے کی مخالفت کرچکی ہے۔