بلاول بھٹو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لئے بھارت پہنچ گئے

  • جمعرات 04 / مئ / 2023

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری شنگھائی تعاون تنظیم  کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے شہر گوا پہنچ گئے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ نے گوا میں بلاول بھٹو کی چینی ہم منصب کن گینگ کے ہمراہ تصاویر شیئر کی ہیں۔ 2011 کے بعد بھارت کا دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی وزیر خارجہ نے گوا پہنچنے کے بعد اپنے بیان میں توقع ظاہر کی ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم  کے وزرائے خارجہ کی کونسل کا اجلاس کامیاب رہے گا۔

اپنی روانگی سے قبل ایک بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل ممالک کے ساتھ باہمی روابط کے منتظر ہیں۔ ’میں گوا میں پاکستانی وفد کی قیادت کروں گا۔ اجلاس میں میری شرکت کا فیصلہ یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان ایس سی او اور اس کی رکنیت کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس پر مرکوز اس دورے کے دوران میں رکن ممالک اور دوست ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ تعمیری گفتگو کا منتظر ہوں۔

آخری بار جولائی 2011 میں اس وقت کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے امن مذاکرات کے لیے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد یہ پاکستان کے کسی وزیر خارجہ کا پہلا دورہ بھارت ہے۔

دریں اثنا وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کا شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ تنظیم کے چارٹر کی پاسداری کے لیے ملک کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ ہم خطے میں امن اور استحکام کی مشترکہ اقدار کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم باہمی تعلق، تجارت اور مشترکہ مفید تعاون کی بنیاد پر یکساں فائدے پر یقین رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں روایتی حریفوں کے درمیان تعلقات کئی عوامل کے باعث تناؤ کا شکار ہیں۔ پاکستان نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ وزیر خارجہ اس دورے کے دوران اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ  بالمشافہ ملاقات نہیں کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے اس دورے کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس دورے کو دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کی علامت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی درخواست نہیں کی ہے۔ اس دورے کو شنگھائی تعاون تنظیم کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے جو 8 رکنی سیاسی اور سیکیورٹی بلاک ہے جس میں روس اور چین بھی شامل ہیں۔ پاکستان،  بھارت کوخود کو مزید تنہا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر غور ہوگا اور کچھ ادارہ جاتی دستاویزات پر دستخط کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ رواں برس 3 اور 4 جولائی کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والی 17ویں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ اجلاس کے ایجنڈے اور فیصلوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔

بھارت نے دیگر وسطی ایشیائی ممالک کے علاوہ چین اور روس کے وزرائے خارجہ کو بھی دعوت نامے بھیجے ہیں۔ ایران شنگھائی تعاون تنظیم کا سب سے نیا رکن ہے اور وہ پہلی بار شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں باضابطہ رکن کے طور پر شرکت کرے گا۔

دریں اثنا سابق وزیر خارجہ اور رہنما پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم فورم ہے جسے پاکستان کو استعمال کرنا چاہیے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کا رکن ہے اور ایس سی او ایک اہم فورم ہے۔ اگر ہم سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی انضمام چاہتے ہیں تو یہ ایک اہم فورم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو خطے کی بہتری کے لیے فورم کا استعمال کرنا چاہیے، اگر بلاول بھٹو اِس کثیرالجہتی فورم کے لیے گئے ہیں تو میری نظر میں کوئی حرج نہیں ہے۔

تاہم پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے بلاول کے دورہ بھارت کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ بلاول بھٹو ویڈیو لنک پر اجلاس میں شرکت کر سکتے تھے لیکن مودی کی محبت میں ان حکمرانوں کے لیے کشمیریوں پر مظالم اور مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ ظلم کی کوئی اہمیت نہیں۔ انہوں نے دورے کی مذمت کی۔