گندم کی ریکارڈ پیداوار اور عوام

پاکستان کے خلاف ’ففتھ جنریشن وار‘ ایک عرصے سے جاری ہے اور اس جنگ کے طے کردہ اہداف پر بڑی سرعت اور منظم طریقے سے کام ہو رہا ہے اور دشمن بڑی حد تک طے کردہ اہداف حاصل بھی کر چکا ہے۔

پاکستان میں جاری افراتفری، سیاسی انارکی،معاشی بدحالی اور سماجی ٹوٹ پھوٹ اسی جنگ کے تباہ کن نتائج ہیں یہ جنگ فضا اور خلا میں اس طرح لڑی جاتی ہے کہ جس ملک یا قوم کے خلاف مورچہ بندی کی جاتی ہے اس کے اپنے ہی عوام، داخلی عوامل، سیاست دان، قانون دان، عساکر اور دیگر طبقات اس جنگ میں شامل کر لئے جاتے ہیں۔بہت کم لوگ شعوری طور پر شریک ہوتے ہیں زیادہ تر عاملین بھول پن سے ایسی تخریب کاری میں شریک ہو جاتے ہیں۔پاکستان کا جاری بحران جو ریاست کو ناکامی کی طرف لے جا رہا ہے۔اسی جنگ کی کامیابی کا نتیجہ ہے پاکستان کا طاقتور ترین ادارہ، ہماری عسکری اسٹیبلشمنٹ،اپنا سر چھپائے نیوٹرل ہو چکی ہے۔ ہر گلی محلے میں اس کے سیاسی کردار پر غلاظت اچھالی جا رہی ہے۔ سیاست میں مداخلت،حکومتیں بنانے، ہٹانے اور سیاست د انوں کو جلانے کا کام تو فوج طویل عرصے سے کر رہی ہے اور فوج کا یہ کردار کوئی ڈھکا چھپا نہیں تھا ۔ لیکن کچھ ہی عرصہ پہلے سے فوج کے اس کردار کو بڑے گھناؤنے انداز میں پیش کیا جانا شروع کر دیا گیا۔فوج میں تقسیم کا تاثر بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے گندگی پھیلائی جا رہی ہے۔سپریم کورٹ نے کوئی پہلی مرتبہ اس طرح کے فیصلے نہیں جاری کئے جس سے فرائض کی حمایت اور مخالفت کا تاثر پیدا ہوا ہے۔سپریم کورٹ قیام پاکستان کے بعد سے ہی اسی قسم کے فیصلے کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتی ہے لیکن اب ایسے فیصلے اچھالے جا رہے ہیں۔سپریم کورٹ کے ججوں کے درمیان گروہ بندی طشت ازبام ہو چکی ہے۔  ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے یہ آئینی ادارہ مکمل طور پر بے اعتبار ہو گیا ہے اپنی وقعت کھو چکا ہے۔ حقائق اپنی جگہ موجود ہیں۔جانبداری بھی واضح ہے لیکن یہ سب کچھ نیا تو نہیں ہے۔ اس سب کچھ کو جس طرح قومی سیاسی منظر پر پھیلایا جا چکا ہے ، وہ اسی جنگ کے زیر اثر نظر آ رہا ہے۔

کیا آج کل جو سیاست میں ہو رہا ہے وہ اس سے پہلے نہیں ہوتا رہا ہے۔کیا ماضی قریب میں سیاست دان اسی طرح نہیں لڑتے رہے ہیں جیسے آج کل پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی وغیرہ کے درمیان لڑائی جاری ہے۔  کیا ماضی بعید میں بھی ایسا ہی نہیں ہیں ہوتا رہا،لیکن ویسا بھی اگر آج کل ہو رہا ہے تو اس سے جو تا ثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،  وہ اسی جنگ کا شاخسانہ نظر آتا ہے۔سوشل میڈیا نے ہماری معاشرتی، سماجی اور اخلاقی اقدار کی جو ایسی تیسی کی ہے وہ اسی جنگ کا کیا دھرا ہے۔ ایک ایسی نئی یوتھ جنریشن پروان چڑھا دی گئی ہے جو کسی اخلاقی، سماجی اور مذہبی ضابطے کی پابند نہیں ہے ۔وہ اپنی ہی اداؤں کی اسیر ہو چکی ہے، اپنی ہی دھن میں مگن ہے وہ کسی منطق اور دلیل سے قائل ہونے کے لئے ہر گز ہر گز تیار نہیں ہے۔یہ بھی اسی جنگ کا نتیجہ ہے۔

جدید کمیونیکیشن کے ذرائع کے فروغ دیتے وقت کیا کسی نے یہ سوچا تھا کہ اس فروغ کے اس آزادی ابلاغ و اطلاع منفی اثرات پر کیسے کنٹرول کیا جائے گا۔حال ہی میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ گندہ/جنسی مواد پاکستان میں دیکھا جاتا ہے۔ یعنی انٹرنیٹ/موبائل فون کے استعمال سے فحش اور مخرب اخلاق مواد تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ ہم نے چینلز کے لائسنسوں کا اجرا دِل کھول کر کیا لیکن ہم نے ایسا کچھ نہیں سوچا کہ الیکٹرانک میڈیا کے حجم میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کے مواد کو کس طرح ریگولیٹ کیا جائے گا۔ میڈیا کے مضر اثرات سے قوم کو کس طرح بچایا جائے گا۔ ہم نے جو کچھ کیا اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے، قوم اِس وقت جس فکری و عملی انتشار کا شکار ہے اس میں ہمارے  ’آزاد میڈیا‘  کا بھی بہت بڑا کردار ہے۔

یہ سب شاخسانے بظاہر الگ الگ نظر آتے ہیں لیکن فی الحقیقت یہ سب کچھ  ففتھ جنریشن وار کے منصوبہ سازوں کی منظم کاوشوں کا نتیجہ ہیں، بیان کردہ حالات و واقعات کا نتیجہ  ’ریاست کی ناکامی‘ کی صورت میں ہمیں نظر آنے لگا ہے۔

 نائن الیون کے بعد سے جب سے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ شروع ہوئی اسی دوران پاکستان کے خلاف  ففتھ جنریشن وار بھی لانچ کر دی گئی تھی ۔دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران مطلوبہ نتائج تک پہنچنے کی شعوری اور منظم کاوشیں کی گئیں۔پاکستان آج سیاسی، معاشی، معاشرتی اور آئینی بحران یا تباہی کے دہانے تک پہنچایا جا چکا ہے۔ پاکستان ناکام ریاست بننے جا رہا ہے، یہ تاثر پختہ ہو چکا ہے بلکہ لوگوں کے ذہنوں میں  یہ بات ثبت کی جا چکی ہے کہ پاکستان کے مسائل حل ہونے والے نہیں ہیں،پاکستان اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے وغیرہ وغیرہ۔

ہمارا میڈیا پرنٹ میڈیا الیکٹرانک اور ڈیجیٹل سب  منفی اور مایوس کن خبریں اور تجزیے پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ناامیدی اور ناکامی کا چرچا عام ہے، کچھ باتیں مبنی برحقیقت بھی ہوں گی جیسے ان دِنوں موسمیاتی تبدیلی کے زیر اثر بے موسمی بارشیں جاری ہیں۔ژالہ باری بھی ہوتی رہی ہے اس سے کھڑی فصلیں گر بھی گئی تھیں تو ہمارے میڈیا میں اس حوالے سے ایسی خبریں اور تجزیے جاری کیے گئے کہ بس اس دفعہ گندم کی فصل سے یافت کم ہو گی اور قحط جیسی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔

قوم پہلے ہی آٹے، چینی کے بحران میں پس رہی تھی ۔ایسی خبروں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ تباہی و بربادی کے تاثر میں اور اضافہ ہوا لیکن جب وزیراعظم نے  یہ اعلان کیا کہ اس دفعہ دو کروڑ75 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد کی بمپر کراپ ہوئی ہے جو دس سالوں میں تاریخی پیداوار ہے۔ یہ ایک ایسی خبر ہے جو اس بات کی غماز ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سے مکمل طور پر ناراض نہیں ہوا۔ بالکل روٹھ نہیں گیا، اس کی نظرِ عنایت ابھی تک ہم پر ہے۔ پاکستان کے عوام پر ہے۔ شدید  بے موسمی بارشوں اور بربادیوں کے باوجود بمپر کراپ اللہ کی رحمت نہیں تو اور کیا ہے۔