دلیل اور حقائق کی بنیاد پر بات کی جائے: بھارتی میڈیا سے بلاول بھٹو زرداری کے انٹرویو

  • ہفتہ 06 / مئ / 2023

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے لیے گوا میں قیام کے دوران متعدد بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا کو انٹرویو دیے۔ انہوں نے پاک بھات تعلقات اور کشمیر کے سوال پر پاکستانی پوزیشن واضح کی۔

بھارتی ٹی وی چینل ’انڈیا ٹوڈے‘ کے صحافی اور میزبان کو دیے گئے دوٹوک جواب کو لوگوں نے سراہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری 4 اور 5 مئی کو بھارتی شہر گوا میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔

بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 5 اگست 2019 کو کشمیر کی حیثیت تبدیل کیے جانے پر ہی کشیدگی ہوئی اور جب تک انڈیا کشمیر کی قانونی حیثیت بحال نہیں کرتا، تب تک مذاکرات کی کوئی امید نہیں۔ انہوں نے ’بی بی سی ہندی‘ کو دیے گئے انٹرویو میں بھی یہی بات دہرائی اور کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیر کی قانونی حیثیت کی بحالی تک دو طرفہ مذاکرات ناممکن ہیں۔

انہوں نے ’انڈیا ٹوڈے ٹی وی‘ کو بھی انٹرویو دیا جس میں بھارت کی جانب سے پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی پر کھل کر بات کی اور بتایا کہ پاکستان نے بھارتی نیوی کے کمانڈر کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اب تک سمجھوتہ ایکسپریس واقعے پر بھی انصاف کا منتظر ہے۔ پاکستان جاننا چاہتا ہے کہ کلبھوشن یادیو کو بھارت پاکستانی عدالتوں میں بچانے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟

بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے کلبھوشن یادیو اور سمجھوتہ ایکسپریس واقعات پر بات کرنے کے دوران بھارتی صحافی اور میزبان ان کی بات کے درمیان ہی ان سے پوچھتے ہیں کہ اجمل قصاب کون تھے؟ وزیر خارجہ نے بھارتی اینکر کے جواب پر مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ اعداد و شمار اور حقائق پر صبر سے بات کر رہے ہیں جب کہ اینکر ’ہائپر‘ ہو رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ’ہایپر‘ کا لفظ استعمال کرنے پر بھارتی اینکر قدرے خاموش ہوگئے۔ انہوں نے وزیر خارجہ کی سیاست اور ان کی والدہ کی شہادت سمیت ان کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا۔ وزیر خارجہ کی جانب سے انڈیا ٹوڈے کو دیے گئے 20 منٹ دورانیے کے انٹرویو میں انہوں نے بھارت کو پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث قرار دیا اور کشمیر پر اپنا موقف واضح کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت میں ریاستی اور مرکزی انتخابات کے دوران سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے ہندو ازم کو بڑھانے کی خاطر پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جاتے ہیں جب کہ پاکستانی انتخابات میں بھارت کو استعمال نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی سیاست دان صرف سیاست کی خاطر پاکستان پر الزامات لگاتے ہیں۔

انڈین میڈیا نے گذشتہ روز ایک انٹرویو میں پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو سے پوچھا کہ کیا انہیں انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر سے ہاتھ ملانے کا موقع ملا؟ اس پر بلاول نے جواب دیا کہ ’اپنی تمام غیر رسمی ملاقاتوں میں، ہم ہمیشہ ہاتھ ملاتے ہیں۔ ظاہر ہے (ہم نے اس موقع پر بھی ہاتھ ملائے)۔ ہم نے دیگر وزرائے خارجہ کے ساتھ ڈنر کے دوران گفتگو کی، جیسا کہ اس طرح کی تقاریب میں ہوتا ہے، (مگر) ہم نے دو طرفہ رابطے نہیں کیے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ انڈیا میں ہندو جذبات کو ابھارنے کے لیے دہشتگردی کی بات کی جاتی ہے جو درحقیقت اسلاموفوبیا ہے۔ ’یہ ایک اچھی انتخابی حکمت عملی ہو سکتی ہے لیکن انسداد دہشتگردی کی اچھی حکمت عملی نہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے ’گجرات کا قصاب‘ کے الفاظ نہیں دہرائے بلکہ کہا کہ ’ہمیں لفاظ کے انتخاب پر مسئلہ ہوسکتا ہے لیکن سب کو معلوم ہے کہ سیاست اور سفارتکاری کسی کی ذات کے گرد نہیں گھومتی۔‘

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے مسئلے پر انڈیا اور پاکستان سمیت خطے کے دوسرے ممالک کو تعاون کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کے خدشات سننے چاہییں۔ ان کے مطابق فی الحال دونوں ملکوں کے درمیان  بیک چینل بات چیت نہیں ہو رہی۔

جب ان سے پاکستان کے گِرتے زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق سوال کیا گیا تو بلاول نے کہا ’تو کیا میں اپنے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے ، کشمیر میں ناانصافیاں بھول جاؤں؟‘

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دہشت گردی کو سفارتی پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال کرنے کے معا،لہ پر بات کرتے ہوئے بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر  نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے دہشت گردی کرنے والوں کے ساتھ نہیں بیٹھا کرتے بلکہ ان کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔

گوا میں ہونے والے ایس سی او اجلاس کے بعد میڈیا کے سوال پر جے شنکر نے کہا کہ دہشت گردی کو فروغ دینے والے، اس کا جواز دینے والے اور  معذرت کے ساتھ، دہشت گردی کی صنعت کے ترجمان ملک پاکستان کو اس کی پوزیشن کا جواب دیا گیا ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ فریق، دہشت گردی کرنے والے کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔

بلاول بھٹو اور پاکستان سے متعلق کے حوالے سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ ’بلاول بھٹو کے ساتھ ایس سی او کانفرنس میں وہی سلوک کیا گیا جو دہشت گردی کی صنعت کو فروغ دینے والے ملک کے ترجمان کے ساتھ کیا جاتا ہے۔‘

جے شنکر کے مطابق ’دہشت گردی سے متاثرہ خود کا دفاع کرتے ہیں اور دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہیں، یہی ہو رہا ہے۔‘ ان کا یہاں آ کر ایسے منافقانہ بیان دینا کہ جیسے ہم ایک کشتی کے سوار ہیں۔ وہ دہشت گردی کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے حوالے سے موقف واضح رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کی راہداری کے حوالے سے ایس سی او اجلاس میں واضح کیا گیا کہ رابطے ترقی کے لیے اچھے ہیں لیکن رابطے علاقائی خودمختاری اور سالمیت کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ جے شنکر کے مطابق سی پیک انڈیا کی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔