ایک ہی راستہ ہے: نیا جنم
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 06 / مئ / 2023
ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، نئی ایجادات کا لاوا ابل رہا ہے۔ مقابلہ ہر آن مشکل اور سخت تر ہو رہا ہے۔ ان حالات میں جو ادارے خود کو نہیں بدلیں گے، انہیں ان کے مقابل روند کر آگے نکل جائیں گے۔
ہماری کمپنی کی عمر بمشکل بیس سال ہے مگر ہم تین بار اپنا انتظامی ڈھانچہ مکمل تبدیل کر چکے ہیں۔ اس عمل کو ہم
Cannibalization
کہتے ہیں یعنی نیا جنم۔
کمپیوٹر بنانے والی تائیوان کی معروف ترین کمپنی ایسر کے شریک بانی اور چئیرمین کی گفتگو کے وقت 1996 میں کمپنی کی عمر بیس سال کے لگ بھگ تھی، اس کا سالانہ کاروباری سائز 5.6 ارب ڈالرز تھا۔ تیس سے زائد ممالک میں اس کی 35پروڈ کشن لائینز کام کر رہی تھیں۔ نوجوان سٹین شحح نے 1976 میں الیکٹرونکس میں انجینئرنگ مکمل کی۔
اس زمانے میں امریکا کے مشہور زمانہ سیلیکان ویلی میں مائکرو چپ اور سیمی کنڈکٹر کی اٹھان شروع ہو چکی تھی جس نے بعدازاں 80 کی دِہائی میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کردیا۔ نوجوان سٹین شحح نے اس ٹیکنالوجی کے دوررس امکانات کو بھانپ لیا اور اسی فیلڈ میں نام بنانے میں جُت گیا۔ بیوی کے ساتھ مل کر اسی سال ایک کمپنی قائم کی۔ اسّی اور نوے کی دِہائی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی تیزی سے پھیلی۔ ناقدین نے اسے ٹیکنالوجی بلبلے کے نام سے پکارا۔ مقابلہ اور ایجادات کا سونامی اس وقت تھما جب یہ غبارہ پھٹا۔ تاہم اس غبار سے کچھ کمپنیاں نیا جنم لے کر نئی شان سے ابھریں مگر زیادہ تر ’اسٹارٹ اپ ‘ کا چھان بورا ہو کر رزق خاک ہوگئیں ۔
سٹین شحح نے نوے کی دِہائی کے آخر میں ایک کتاب
Growing Global
لکھی۔ اس کتاب میں جہاں اس نے اپنے کاروبار کی کامیابی کی وضاحت کی، وہیں اس نے یہ نکتہ بیان کیا یعنی اپنا پرانا ویژن اور انتظامی ڈھانچہ خود اپنے ہاتھوں سے ڈھانے کے بعد ایک نئے ویژن اورنئے انتظامی ڈھانچہ کا نیا جنم ترقی کے لیے ناگزیر ہے ۔ آسان سا فلسفہ ہے۔ قبل اس کے کہ کوئی روند کر آگے نکل جائے، خود کو نئے چیلنج کے مطابق ڈھال لو، بچ جاؤ گے۔
1982 میں مینیجمنٹ کی ایک شاہکار کتاب شائع ہوئی
In Search of Excelence
اس کتاب کے مندرجات نے دھوم مچا دی۔ اس کتاب میں ایک وسیع البنیاد ریسرچ کی بنا پر 43ایسی کمپنیوں کا انتخاب کیا گیا جو مصنفین کے مطابق باکمال یعنی ایکسیلنس کے معیار پر پورا اترتی تھیں۔ ان تمام باکمال اور کامیاب کمپنیوں میں آٹھ مشترکہ کامیابی کے اصول دریافت کیے گئے ۔
کتاب کی اشاعت کے پچیس سال بعد انہی کمپنیوں کا دوبارہ جائزہ لیا گیا تو انکشاف ہوا کہ ان میں سے تقریباً نصف کمپنیاں نقصان کی نذر ہو گئیں یا نئی ٹیکنالوجی کے سامنے نہ ٹھہر سکیں یا پھر ان کی ڈانواں ڈول پوزیشن دیکھ کر کسی تگڑے مقابل نے ڈالر پھینک کر انہیں اپنے نام کر لیا۔ یہ نتائج کتاب میں اخذ نتائج سے زیادہ حیران کن تھے۔ کیوں؟ ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں! روندی جانے والی کارپوریشنز میں ایک قدر مشترک تھی: وہ اپنے آپ کو تیزی سے بدلتے مارکیٹ کے تقاضوں اور نئی ٹیکنالوجی کے لیے بروقت تیار نہ کر سکیں۔
یہ کاروباری اصول ملکوں پر بھی منطبق ہوتے ہیں۔ جس جس ملک نے پرانے خمیر سے نئے جنم کا فیصلہ کر لیا اور اس پر کامیابی سے عمل بھی کر لیا، ان ملکوں نے صدیوں کا سفر سالوں میں طے کر لیا۔ دوسری طرف وہ ممالک ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو تبدیل نہ کرنے کی ہٹ دھرمی اختیار کی وہ بے اختیار اور مسائل کا شکار ہوئے۔ نئے جنم کے عمل سے گزرنے والے ممالک میں سنگاپور، تائیوان، شمالی کوریا، ملائیشیا، چین اور ہانگ کانگ شامل ہیں۔
اس فہرست میں تازہ ترین اضافہ ویت نام ہے۔ کچھ ہی فاصلے پر طویل آمریت سے چھٹکارا پانے والا انڈونیشیا بھی ہے جو اب اگلے دس سال کی طاقتور ترین معیشتوں کے ہر چارٹ کا حصہ ہے۔ دوسری فہرست میں شامل ممالک جو جدیدیت اور نئے تقاضوں سے خائف رہے یا اپنی پرانی روش کو سینے سے سنبھال کر رکھا ان میں پاکستان، سری لنکا، مصر، لبنان، سوڈان، تیونس سمیت کئی ممالک شامل ہیں۔
پاکستان نے دنیا کے اس عمل سے کچھ سیکھا؟ سمجھانے کو میڈیا کی چند ہیڈلائینز ہی کافی ہیں: پارلیمنٹ سپریم ہے۔ سپریم کورٹ کا حکم سپریم ہے۔ الیکشن کی تاریخ دینا سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار نہیں۔ الیکشن، اسمبلیاں ٹوٹنے کے 90 روز کے بعد لازمی ہیں، ورنہ سمجھ لیں آئین ختم شد۔ الیکشن ایک ہی روز ضروری ورنہ انتشار کا خطرہ ہے۔ تمام شرائط کے باوجود آئی ایم ایف پروگرام بحال نہیں ہو سکا۔ بلوم برگ کے مطابق پاکستان میں افراطِ زر ڈیفالٹ سری لنکا سے بھی زائد ہے۔ ہم حکومت میں آئے تو نوجوانوں کو ملازمتیں دیں گے۔
ہم اتحادی ہیں لیکن فنانس منسٹری ہمارے پاس نہیں۔ پبلک کاپوریشنز کا سالانہ نقصان سات سو ارب روپے سے زائد۔ بجلی کا سرکلر ڈیٹ ساڑھے اڑھائی ہزار ارب سے متجاوز، گیس کا سرکلر ڈیٹ ڈیڑھ ہزار ارب روپے سے زائد۔پبلک کارپوریشنز کی نج کاری نامنظور۔ چین، سعودی عرب اور یو اے ای نے زر مبادلہ کا بھرم رکھنے کے لیے ڈیپازٹس رول اوور کر دیے۔ لارج اسکیل انڈسٹری کی پیداوار میں کمی۔ برآمدات میں گزشتہ ماہ 27% کمی۔ ملک سے نقل مکانی کرنے والے نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ۔
پاکستان میں کرپشن، بد انتظامی، سیاسی سرپرستی میں اختیارات اور انتظامی ڈھانچے پر تصرف اور رول آف لا سے گریز، وہ چند بنیادی وجوہات ہیں جنہوں نے ملک کو اس حال تک پہنچایا، ماضی کے سبھی حکمران کم یا زیادہ اس خراب حالی کے ذمے دار ہیں لیکن حکمران اشرافیہ اپنی غلطیوں کا ادراک کرنے پر آمادہ ہیں اور نہ ہی نئے جنم کا کشٹ اٹھانے کو تیار ہیں ۔
سٹین شحح اور اس کی کمپنی، مشہور زمانہ باکمال کارپوریشنز کا انجام اور حالیہ سالوں میں نئے جنم کے حامل ممالک کا جائزہ گواہ ہے کہ جب تک قوم اور اس کے حاکم ایک نئے جنم کے لیے تیار نہیں، اس کے نصیب میں آٹے کی لائینوں میں خجالت، مہنگائی کا ہتھوڑا اور انتشار کا سونامی منتظر ہے۔ باعزت زندگی کا ایک ہی راستہ ہے: نیا جنم!