بلاول بھٹو زرداری کے دورہ پر بھارتی وزیر خارجہ کی بدحواسی
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 06 / مئ / 2023
بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر نے دعویٰ کیاہے کہ بھارت دہشت گردی کا شکار ہے اور وہ ایک ایسے ملک کے نمائیندے کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا جو دہشت گردی کی صنعت کا ترجمان ہے۔ حالانکہ بھارت نے خود ہی پاکستانی وزیر خارجہ کو گوا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے دورہ کی دعوت دی تھی۔ اس طرح جے شنکر کا بیان بھارت کے قول و فعل کے تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ بیان درحقیقت بلاول کے دورہ کی کامیابی پر بھارت کی بدحواسی کا اظہار ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اس بات سے اختلاف ممکن نہیں ہے کہ دہشت گردی کو سفارتی ہتھکنڈے اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی پوزیشن واضح کی اور دہشت گردی کے خلاف مل جل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے بھارتی ہم منصب جے شنکر نے میڈیا سے گفتگو میں پاکستان پر یک طرفہ طور سے دہشت گردی کا الزام عائد کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان کی تصدیق کردی ہے۔
جے شنکر نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کو دہشت گردی کی صنعت کے ترجمان ملک کا نمائیندہ قرار دیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان دہشت گردی کو فروغ دینے والا ملک ہے۔ اسے دہشت گردی کا شکار ہونے والے ملک کے ساتھ بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دہشت گردی کا شکار اور اس کی سرپرستی کرنے والے بات چیت کریں۔ جے شنکر وسیع تجربہ رکھنے والے سفارت کار ہیں۔ نریندر مودی کی طرف سے وزیر خارجہ مقرر ہونے سے پہلے وہ بھارتی وزارت خارجہ کے سیکرٹری کے عہدے پر فائز رہے تھے۔ اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انہیں سفارتی نزاکتوں کا احساس نہیں ہے یا وہ موقع کی مناسبت سے متوازن بات کرنے کے فن سے ناآشنا ہیں۔ تاہم اس میڈیا ٹاک میں بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان کے بارے میں نفرت انگیز اور متعصبانہ گفتگو درحقیقت بلاول بھٹو کے مؤقف کی تصدیق ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ بھارت عدم تحفظ کا شکار ہے جس کی وجہ سے وزیر خارجہ جے شنکر نے ان کے دورہ کے بعد ناروا انداز میں بھارتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان نے شنگھائی کانفرنس کے دوران اپنا یہ نقطہ نظر دو ٹوک انداز میں بیان کیا ہے کہ ہر مسلمان کو دہشت گرد قرار دینے اور بھارتی مسلمانوں پر الزامات لگانے کا طریقہ درحقیقت اسلاموفوبیا ہے جس سے نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا تھا کہ بھارت کی طرف سے دہشت گردی کو سیاسی و سفارتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس سے فاصلے پیدا ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا دہشت گردی کے الزامات عائد کرکے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہندو ووٹوں کی حمایت تو حاصل کرسکتی ہے ، یوں اس جھوٹ کی بنیاد پر سیاسی انتخابی فائدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے لیکن اس سے نہ دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے اور نہ ہی پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آسکتی ہے۔
بھارت نے میزبان ملک کے طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لئے پاکستانی وزیر خارجہ کو گوا کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ ایس سی او کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران بھارت کے وزیر خارجہ نے بلاول بھٹو زرداری اور دیگر ملکوں کے نمائیندوں کے ساتھ بات چیت میں حصہ لیا اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ لیکن کانفرنس کے بعد انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کے دو ٹوک اورکھرے مؤقف اور بھارتی میڈیا میں ان کی پزیرائی سے بدحواس ہو کر بلاول بھٹو اور پاکستان کے خلاف نفرت انگیز گفتگو کی۔ بلاول بھٹو زرداری نے اسی بھارتی رویہ کے بارے میں کہا تھا کہ دہشت گردی کو سیاسی فائدے اور سفارتی پوائینٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کرنے کا طریقہ ترک کیا جائے۔ جے شنکر کی پریس کانفرنس نے نوجوان بلاول بھٹو زرداری کی باتوں کو سو فیصد درست ثابت کردیا۔ کہنہ مشق اور وسیع سفارتی تجربہ رکھنے والے جے شنکر نے بی جے پی کے سیاسی ایجنڈے کے لئے بے بنیاد اور لایعنی باتیں عام کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ بھارت چونکہ دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور پاکستان دہشت گردی پھیلاتا ہے، اس لئے یہ دونوں ملک ایک جگہ نہیں بیٹھ سکتے ۔
اسے مضحکہ خیزی کے سوا کیانام دیا جاسکتا ہے کہ جس ملک اور اس کے وزیر خارجہ کو وہ دہشت گردی کا ترجمان قرار دے کر اس کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے سے انکار کرہے ہیں، اس وزیر خارجہ کو خود جے شنکر ہی نے گوا کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی ۔ اور پاکستانی وزیر خارجہ کے طیارے کو بھارتی فضا میں پرواز کرنے کی خصوصی اجازت دی گئی تھی۔ یا تو بھارتی وزیر خارجہ یہ اعلان کرتے کہ بھارت نے پاکستانی وزیر خارجہ کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں بلا کر غلطی کی تھی اور مستقبل میں ایسی غلطی سے گریز کیا جائے گا۔ لیکن وہ ایسا کوئی اعلان نہیں کرسکے۔ بلکہ قیاس اغلب ہے کہ اس سال کے آخر میں جب شنگھائی تعاون کانفرنس کے سربراہان کی کانفرنس نئی دہلی میں منعقد ہوگی تو بھارت پاکستانی وزیر اعظم کو بھی مدعو کرے گا۔ اسی لئے بھارت جیسے بڑے ملک کے وزیر خارجہ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر ایسی بے معنی گفتگو سے گریز کی ضرورت تھی۔ لیکن ان کی مجبوری یہ ہے کہ سال بھر بعد عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ تیسری بار کامیابی حاصل کرنے کے لئے نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو ابھی سے کوئی ایسا ہتھکنڈا اختیار کرنا ہے جو انتخابی مہم کے دوران کامیاب ہوسکے۔ پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کے سوا مودی سرکار کے پاس کوئی دوسرا کارگر سیاسی نعرہ نہیں ہے۔ جے شنکر نے وہی طریقہ اختیار کیا ہے۔
حالانکہ بلاول بھٹو زرداری نے نہ صرف یہ اپیل کی تھی کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اسے سفارتی پوائینٹ اسکورنگ کے طور پر استعمال نہ کیا جائے بلکہ یہ بھی واضح کیا تھا کہ بھارتی انتخابات میں پاکستان دشمنی کو فروخت کرنے کا رجحان عام ہے حالانکہ پاکستانی سیاست میں بھارت کے خلاف نعروں کو سیاسی ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جاتا۔ جے شنکر نے صحافیوں کے سوالوں کے تند و تیز جواب دے کر اور اپنے تئیں پاکستان اور بلاول بھٹو زرداری کو نشانے پر رکھ کر پارٹی سیاست کے حوالے سے تو ضرور اہم کام کیا ہے لیکن انہوں نے علاقے میں بے چینی پیدا کرنے اور دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان دشمنی برقرار رکھنے کا عندیہ دے کر درحقیقت سرحد کے دونوں طرف انتہاپسند اور شدت پسند عناصر کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ یہی سیاسی رویہ درحقیقت دہشت گردی کے فروغ کا سبب بنتا ہے۔ بھارت خود پاکستان میں دہشت گردی کی منظم کارروائیوں میں ملوث رہاہے۔ پاکستان میں قید کلبھوشن یادیو اسی بھارتی حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایسے میں محض بھارتی وزیر خارجہ کے دعوؤں میں خود کو مظلوم قرار دینے سے حقائق تبدیل نہیں ہوسکتے۔
جے شنکر کا یہ مؤقف عالمی تناظر میں بھی بے بنیاد ہے کہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے، دہشت گردی کرنے والوں کے ساتھ بات چیت نہیں کرتے۔ حال ہی میں امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ہی افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے کا اہتمام کیا تھا اور یہ امید قائم کی تھی کہ اس طرح شدت پسندی کا خاتمہ ہوسکے گا۔ حالانکہ امریکہ مسلسل افغان طالبان کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے۔ صرف جے شنکر کے کہنے سے یہ تسلیم نہیں کی اجاسکتا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار نہیں ہے، بلکہ دہشت گردی کا سرپرست ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے 80ہزار سے زائد فوجیوں اور شہریوں نے جام شہادت نوش کیا ہے ۔ ان اعداد و شمار کو اقوام متحدہ سمیت دنیاکے تمام ممالک تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس بھارت مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دے کر پاکستان پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتا ہے اور خود سرخرو ہونا چاہتا ہے۔ حالانکہ اگر مقبوضہ کشمیر واقعی بھارت کا ’داخلی‘ معاملہ ہے جس سے پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے تو وہاں جاری تحریک آزادی کا الزام پاکستان پر کیوں کر عائد کیا جاسکتا ہے؟
گوا کانفرنس کے حوالے سے بھارت اور جے شنکر کی حقیقی بدحواسی درحقیقت پاکستانی وزیر خارجہ کا دورہ اور اس دوران نپی تلی اور متوازن بات چیت تھی۔ بھارت کا خیال تھا کہ دشمنی کے موجودہ ماحول میں پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت سے خود ہی معذرت کرلے گا۔ تاہم بلاول بھٹو زرداری کے دورہ نے اس کا یہ خواب چکنا چور کردیا۔ بھارتی وزیر خارجہ کے پاس میڈیا کے ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا کہ پاکستان کے ساتھ مواصلت میں کیا عذر مانع ہے۔ دوسری طرف متعدد بھارتی میڈیا ہاؤسز سے انٹرویوز میں بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کا مؤقف بڑے شفاف انداز میں بھارتی عوام کے سامنے رکھا۔ یہ پاکستان کی بڑی سیاسی و سفارتی کامیابی تھی۔ بھارتی وزیر خارجہ سے نوجوان پاکستانی وزیر خارجہ کی یہ ہوشمندی برداشت نہیں ہوسکی اور وہ خود بدحواسی میں منہ سے جھاگ اڑاتے رہ گئے۔
جے شنکر کا یہ مؤقف بھی قابل تعریف نہیں ہے کہ بھارت نے بلاول بھٹو کی آمد کے موقع پر پاکستان سے مواصلت و مفاہمت کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش نہیں کی۔ حالانکہ بھارتی عوام کے فائدے اور علاقائی امن کی اہمیت کے پیش نظر انہیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے تھا۔ بلاول بھٹو زرداری نے روانگی سے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ بھارتی لیڈروں سے ملنے نہیں بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت اور رکن ممالک کے لیڈروں سے ملنے گو ا جارہے ہیں۔ یہ تو بھارت اور جے شنکر کی سفارتی ناکامی ہے کہ وہ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ مواصلت کا کوئی جواز تلاش نہیں کرسکے۔ جے شنکر کی بدحواسی اور گھسی پٹی باتوں پر مبنی جواب ہی بلاول کے دورہ گوا کی کامیابی کی دلیل ہے۔ پاکستان میں اس دورہ کے ناقدین کو بھی اس سے سبق سیکھنا چاہئے۔