پاکستان کو بھارتی مزاج سمجھنا چاہئے

بھارت میں شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ختم ہوگیا ہے جس میں بھارت میں ہی جولائی میں ہونے والے سربراہ اجلاس کے ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ پاکستان میں بعض حلقوں کی طرف سے وزیر خارجہ بلاول بھٹوزرداری کی اس کانفرنس میں شرکت پر تنقید کی گئی۔

تاہم سنجیدہ حلقوں کی طرف سے کانفرنس میں شرکت کے اس فیصلے کو درست اقدام قرار دیا گیا کہ اس اہم تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت سے پاکستان کو اپنا موقف، ترجیحات اور تشویش کے امور عالمی برادری کے سامنے بیان کرنے اور ان امورپر عالمی توجہ مبذول کرانے کا ایک اچھا موقع میسر آتا ہے۔ بھارت پروٹوکول کی وجہ سے پاکستان کو شرکت کی دعوت دینے پہ مجبور تھا۔ تاہم شرکت سے پہلے ہی بھارت میں یہ خوف نمایاں طور پر دیکھا گیا کہ پاکستانی وزیر خارجہ بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بھارت کو کمزور صورتحال سے دوچار کر سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایس سی او کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی۔ تاہم بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات نہ ہونا پہلے ہی واضح ہو چکا تھا۔ بھارتی میڈیا میں اس بات کی خصوصی طور پر تشہیر کی گئی کہ  بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے پاکستانی وزیر خارجہ کے علاوہ باقی سب کا مسکراتے ہوئے استقبال کیا جبکہ پاکستانی وزیر خارجہ کی آمد کے موقع پر بھارتی وزیر خارجہ نے ناخوشگوار انداز کی سنجیدگی ظاہر کی۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے چارمئی کو ہی بھارتی حکومت کی میزبانی کو قبل از وقت ہی اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے جلد بازی کا مظاہرہ کیا حالانکہ ابھی اصل مراحل باقی تھے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب میں موسمیاتی بحران، دہشت گردی، افغانستان و دیگر امور پر گفتگوکی۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے یہ تو کہا کہ  بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاستوں کے یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد کے خلاف ہیں، ہمیں اپنے وعدوں کو نبھانے اور اپنے لوگوں کے لیے ایک نئے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے میں غیر مبہم رہنے کی ضرورت ہے۔ جو تنازعات کے تحفظ پر نہیں بلکہ تنازعات کے حل پر مبنی ہے۔  تاہم لفظ کشمیر ان کی زبان پر نہیہں آیا۔  شنگھائی کانفرنس تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان کی طرف سے کشمیر کا نام لینے کی اہمیت اور افادیت کا احساس و ادراک نہ کیا جا سکا۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے  کانفرنس سے خطاب کے بعد صحافیو ں سے گفتگو میں کہا کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے یک طرفہ اقدامات سے نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں بلکہ دو طرفہ معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ بات چیت کے لیے سازگار ماحول بنانے کی ذمہ داری بھارت پر ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بھارت کے یک طرفہ اقدام نے اسے نقصان پہنچایا۔ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیرمیں جی 20 اجلاس منعقد کرانے کے سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور اس وقت ہم ایسا ردعمل دیں گے کہ اسے یاد رکھا جائے گا۔ وزیر خارجہ نے عالمی میڈیا اداروں  بی بی سی  اور  وائس آف امریکہ  کے علاوہ بھارتی میڈیا کو بھی انٹرویو دئے جس میں مسئلہ کشمیر کا ذکر بھی کیا گیا۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی میڈیا سے گفتگو کے بعد بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے میڈیا سے بات چیت میں بلاول بھٹو اور پاکستان سے متعلق کے حوالے سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں کہا کہ بلاول بھٹو کے ساتھ ایس سی او کانفرنس میں وہی سلوک کیا گیا جو دہشت گردی کی صنعت کو فروغ دینے والے ملک کے ترجمان کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ فریق، دہشت گردی کرنے والے کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔ بھارتی وزیر خارجہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ اور کشمیر میں پاکستان کی مداخلت کے الزام کا اعادہ کیا۔ اس حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ بھارت1948میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہی شکایت لے کر گیا تھا کہ پاکستان کشمیر میں مداخلت کر رہا ہے۔ سلامتی کونسل نے پاکستان اور بھارت کے بیانات اور جموں و کشمیر کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد دونوں ملکوں کی رضامندی سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر میں سلامتی کونسل کی نگرانی میں رائے شماری کرائی جائے گی جس کے ذریعے ریاستی باشندے ریاست کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ یوں بھارت وہی الزام بے جا طور پر دہرارہا ہے جس کا فیصلہ سلامتی کونسل کی طرف سے75سال قبل دونوں ملکوں کی رضامندی سے طے کیا جا چکا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس اجلاس سے اس حقیقت کا ایک بار پھر اعادہ ہوا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کی بنیاد ہے اور اس مسئلے کو منصفانہ ، پرامن اور کشمیریوں کی امنگوں اور خواہشات کے ساتھ حل کئے بغیر نہ تو دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا۔ اور نہ ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔ یہاں یہ بیان بے محل نہیں کہ مسئلہ کشمیر محض پاکستان اور بھارت کا باہمی معاملہ نہیں بلکہ ریاست جموں و کشمیر کے باشندگان کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانے کا معاملہ بھی ہے۔ کیونکہ یہ مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ سے تمام خطہ اور ارد گرد کے ممالک کے مفادات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ یوں کشمیر کا مسئلہ ایک عالمی مسئلے کے طو ر پر بھی اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان اور بھارت گزشتہ75سال میں باہمی طور یا اپنے طور پر کشمیر کا مسئلہ کسی بھی طور حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ اس لئے کشمیر کے مسئلے کو انسانی انصاف کے اصولوں کے مطابق حل کرانے کے لئے عالمی مداخلت ناگزیر ہے۔

یوں شنگھائی تعان تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان کی طرف سے کشمیر کانام نہ لینے کی حکمت عملی ایک بڑی غلطی ثابت ہوئی ہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی میڈیا گفتگو میں مسئلہ کشمیر کے تذکرے اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور اس پہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے ردعمل سے بھی واضح ہوا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو کانفرنس میں کشمیر کا ذکر لازمی طور پر کرنا چاہئے تھا۔ میڈیا گفتگو میں مسئلہ کشمیر کے بیان کی اپنی اہمیت ہے۔

ایس سی او اجلاس میں پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو نام لے کر بیان کرنا زیادہ اہمیت کا حامل معاملہ تھا۔ اس تمام صورتحال سے یہ حقیقت بھی ایک بار پھر واضح ہوئی ہے کہ پاکستان کی طر ف سے مفروضوں کی بنیاد پر ، یک طرفہ طور پر بھارت کورعایت دینا مہلک حکمت عملی ثابت ہوئی ہے۔ اور اس حکمت عملی نے پاکستان کو کمزور پوزیشن کی طرف دکھیلا ہے۔ پاکستان کی طرف سے ایسا طرز فکر ، ایسی حکمت عملی اختیار کرنا انڈین مائینڈ سیٹ کو نہ سمجھنے کا شاخسانہ بھی ہے۔