ایرانی صدر کا تاریخی دورۂ دمشق
- تحریر عادل فراز
- منگل 09 / مئ / 2023
گزشتہ دنوں ایرانی صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی شام کے دوروزہ دورے پر تھے ۔ عالمی سیاست میں اس دورے کو نمایاں اہمیت حاصل رہی کیونکہ استعماری طاقتوں نے شام کو تسخیر کرنے کے لئے بے شمار دولت خرچ کی تھی ۔
امریکہ اور اسرائیل شام کو عراق اور یمن کی طرح تباہ کردینا چاہتے تھے ۔ وہ چاہتے تھے شام پر اسی طرح قبضہ کرلیا جائے جس طرح فلسطین کی سرزمین پر ان کا غاصبانہ قبضہ ہے ۔ شام کے قدرتی ذخائر پر بھی ان کی نگاہ تھی ۔ لیکن ایرانی مداخلت نے استعماری منصوبوں کو ناکام بنادیا ۔ جس کےبعد ایرانی اور عالمی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی میں مزید اضافہ ہوا۔ استعماری طاقتوں نےایران کو تنہا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ اپنی ہر کوشش میں ناکام رہے ۔ آج ایران خطے کی نمایاں طاقت ہے جو مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ خطے میں بھی ایران کا اثرونفوذ بڑھ رہاہے ۔چین اور روس کے ساتھ اس کی تجارتی ، اقتصادی ،سائنسی اور دفاعی شراکت نے بھی عالمی رائے کو اس کے حق میں تبدیل کیاہے ۔ اسی طرح دنیا کے اہم ملک آج اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھارہے ہیں ، جو اس کی سفارتی کامیابی کی دلیل ہے۔
شامی عوام نے جس جوش و خروش کے ساتھ ابراہیم رئیسی کا استقبال کیا وہ قابل دید تھا ۔ عوام کا پرتپاک استقبال اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ایران نے شام میں کس قدر نفوذ حاصل کرلیاہے ۔ ایران کے لئے شامی حکومت کا اعتماد جیتنا آسان تھا لیکن کسی بھی دوسرے ملک کے عوام کا اعتبار حاصل کرنا نہایت مشکل ہوتاہے۔ شامی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ اگر ایران نے بروقت ان کی مدد نہ کی ہوتی تو آج شام کے حالات یمن سے بھی بدتر ہوتے ۔ داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں نے جس طرح شام پر قبضے کے لئے خوں ریزی شروع کی تھی ، اس کا سدّباب شامی حکومت کے دائرۂ اختیار میں نہیں تھا ۔ بشارالاسد کو بھی اس حقیقت کا علم ہوچلا تھا کہ اگر ایران کو شام آنے کی دعوت نہیں دی گئی تو پورا ملک دہشت گردوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن جائے گا ۔ اس لئے انہوں نے بروقت سیاسی شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران اور روس سے مداخلت کی درخواست کی ۔ ایران اور روس کی فوجوں کے شام میں داخل ہوتے ہی دہشت گرد پسپا ہونا شروع ہوگئے ۔ صہیونی سازشیں ناکام ہونے لگیں ۔ ترکی جو مسلسل شامی علاقوں میں فوجی پیش رفت کررہاتھا، وہ بھی پیچھے ہٹنے لگا ۔ امریکی حلیف ملکوں کے تیور بدل گئے ۔ ایسا اس لئے ہواکہ کیونکہ بشارالاسد نے صحیح وقت پر مناسب فیصلہ کیا ۔ اسی سیاسی شعور کا مظاہرہ اگر عراق میں صدام حسین نےکیا ہوتا تو آج عراق کی داخلی صورت حال مختلف ہوتی ۔
شام اور عراق میں بیک وقت دہشت گرد گروہوں نے سر اٹھایا تھا ۔ عراق میں ابوبکر بغدادی نے خلافت کا اعلان کرکے امت مسلمہ کو چونکا دیا تھا لیکن افسوس کسی مسلمان ملک نے اس کی خلافت کے دعویٰ کو مسترد نہیں کیا ۔ بعض تکفیری افکارونظریات کے حامیوں نے اس کی آواز پر لبیک تک کہی اور کئی ملکوں سے اس کی خلافت کی حمایت کا اعلان کیا گیا ۔ یہی صورت حال شام میں کارفرما رہی کیونکہ دونوں ملکوں میں ایک ہی نظریے نے فتنہ برپا کیا تھا ۔ تکفیری نظریہ کسی نئے نظام کا دعویدار نہیں تھا بلکہ مسلمانوں میں عرصۂ دراز سے یہ نظریہ اپنی پوری توانائی کے ساتھ موجود رہاہے ۔ چونکہ اس وقت تک دہشت گردی کی اصطلاح رائج نہیں تھی ، لہذا ان کے فتنوں اور خوں ریزیوں کو اس تناظر میں پیش نہیں کیا گیا ۔ ورنہ داعش اور دیگر دہشت گردتنظیموں نے جو فتنے شام، عراق، افغانستان اور دیگر ملکوں میں برپا کئے ہیں، ان کی جڑیں ہزار سال پرانی ہیں ، جنہوں نے ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔
عراق میں ابوبکر بغدادی اورشام میں اس کے پیروکاروں کوشکست دینا ہرکس و ناکس کے بس کی بات نہیں تھی ، یہ بیڑا شہید قاسم سلیمانی نے اٹھایا اور فتنےکا سرکچل دیا ۔ عراق میں ان کے داخلے کے بعد داعشی سرداروں کے بیانات کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے، جنہوں نے متفقہ طورپر یہ تسلیم کیا کہ انہیں جب یہ معلوم ہواکہ عراق کی سرزمین پر جنرل قاسم سلیمانی آگئے ہیں تو انہیں اپنی شکست کا یقین ہوگیا۔ شام میں بھی جنرل سلیمانی ہر محاذ پر موجود رہے جس کے بارے میں بشارالاسد اور شامی فورسیز کے بیانات کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔ ایسا بے باک ، شجاع اور بے خوف کمانڈر ہی داعش سے مقابلہ کر سکتا تھا ۔ آج بھی عالم اسلام ان کے عزم و حوصلے اور جذبۂ شہادت کو سلام کرتاہے ۔ ابراہیم رئیسی نے حضرت علی ؑ کی بیٹی جناب زینب ؑ کے حرم میں نماز ادا کرکے دہشت گردوں کو واضح پیغام دیا کہ میں آج اسی جگہ نماز ادا کررہاہوں جس روضے کو منہدم کرنےکا خواب لے کر تم شام میں داخل ہوئے تھے ۔ ان تمام قربانیوں سے شامی عوام اچھی طرح واقف ہیں جس کا ثبوت انہوں نے ابراہیم رئیسی کا شاندار استقبال کرکے دنیا کو دیاہے ۔
ابراہیم رئیسی کا یہ دورہ اسرائیل کے لئے انتہائی پریشان کن رہا ہے ۔ اسرائیل جو شام پر قبضے کا خواب دیکھ رہا تھا ، ایران نےاس کو دیوانے کا خواب ثابت کردیا۔ اسرائیلی فوجیں مسلسل شامی حدود میں داخلے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں ، جس طرح اسرائیل فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضے میں توسیع کرتارہتا ہے ۔ ابراہیم رئیسی کے دورے سے ٹھیک پہلے شام پر میزائیل داغے گئے تاکہ ایران کو خوف زدہ کردیا جائے ۔ خاص طورپر حلب ائیرپورٹ کو تباہ کردیاگیا تاکہ دہشت کی ماحول سازی کی جاسکے۔ اس طرح رئیسی کے دورے کو ملتوی کرنے کی سازش کی گئی مگر جو لوگ موت سے آنکھیں لڑانا جانتے ہوں وہ میزائیلوں کی گڑگڑاہٹ سے اپنے ارادے نہیں بدلا کرتے ۔ اسرائیل نے میزائیل حملے کے بعد کہا کہ شام میں موجود ایرانی ٹھکانے اس کے نشانے پر ہیں ، ایران نے اس کے میزائیل حملوں کا جواب دیا ۔ یہ جواب فقط ایک سرزمین سے نہیں دیا گیا بلکہ لبنان اور شام کی سرزمین سے مشترکہ میزائیل حملے کرکے دیا گیا ۔ جس کے بعد اسرائیل کو ابراہیم رئیسی کی شام میں موجودگی تک ایک بھی حملے کی جرأت نہیں ہوئی۔
دوسری اہم بات یہ کہ عرب ممالک جس طرح متحد ہورہے ہیں اس نے بھی اسرائیل کو پریشان کررکھا ہے ۔ گزشتہ دنوں اُردن میں سعودی عرب نے عرب ممالک کے سربراہان کا اجلاس طلب کیا تھا ۔ اس اجلاس میں سعودی عرب نے شدومد کےساتھ یہ مطالبہ کیاہے کہ آئندہ عرب لیگ کے اجلاس میں شام کو اس کا حصہ قرار دیا جائے ۔ یہ خبر صہیونی حکومت کے لئے خوش آیند نہیں ہے ۔ جو لوگ شام کو تنہا کرنا چاہتےتھے آج وہ خود تنہائی کا شکار ہیں ۔ ایسا اس لئے ممکن ہوا کیونکہ ایران اور سعودی عرب نے سیاسی شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارتی تعلقات کو بحال کرلیا ہے ۔ فی الوقت مشرق وسطیٰ بدل رہاہے ۔ نئے ورلڈ آڈر میں تیزی کے ساتھ تبدیلی ہوئی ہے ۔ اس نظام میں ایران ، چین ، روس ، سعودی عرب اور ان کے حلیف ممالک کا دبدبہ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل جیسی طاقتیں اس نئے ورلڈ آڈر کی تشکیل سے حیران و پریشان ہیں ۔ کیونکہ دوسروں کو تنہاکرنے کی سازشیں کرنے والے آج خود تنہائی کا شکار ہیں ۔ عرب ملک شام سے سفارتی تعلقات بحال کررہے ہیں ۔ عرب امارات نے تو بشارالاسد کو سرکاری دورے پر بھی بھی مدعوکرلیا ہے ۔ سعودی عرب کا رجحان شام کی طرف بڑھ رہاہے ۔
یمن کی طرز پر شامی حکومت کے ساتھ امن مذاکرات ہوں گے اور بدامنی کا دوردورہ ختم ہوگا۔ اس صورتحال سے پریشان ہوکر اسرائیل نے آذربائیجان میں ایرانی سرحد کے قریب سفارت خانہ کھولا ہے تاکہ ایران کو خوف زدہ کیا جاسکے ۔ اس کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ نے لبنان جاکر سرحدی علاقوں کا دورہ کیا، جس سے اسرائیل تشویش کاشکار ہے ۔ اس پر ایرانی صدر شام کے دورے پر پہنچ گئے جو استعماری طاقتوں کے لئے انتہائی چونکانے والا قدم تھا ۔ بشارالاسد نے الشعب پیلیس میں منعقدہ استقبالیہ تقریب میں کہا کہ ایران نے خون دے کر شام کا ساتھ دیاہے ۔ شامی عوام اس حمایت کو ہرگز فراموش نہیں کریں گے ۔ صدر رئیسی نے اس دورے کے دوران تقریباً پندہ اہم منصوبہ جات پر دستخط کئے جس میں تجارت ، ٹرانسپورٹ ، فوجی اور دفاعی معاہدے شامل ہیں ۔ کہاجارہاہے کہ ایران اور شام کے درمیان چین اور روس کی طرزپر طویل مدتی معاہدے ہوئے ہیں یا آئندہ متوقع ہیں ۔ اس لئے مشرق وسطیٰ کی موجودہ کیفیت اور صورت حال استعماری طاقتوں کے لئے انتہائی پریشان کن ہے ۔ آیندہ بھی اس پریشانی میں مزید اضافہ ہوگا، کیونکہ ابھی عرب ملک شام کے ساتھ مختلف معاہدوں پر دستخط کریں گے ۔ ان شاء اللہ یہ پیش رفت امریکہ اور اسرائیل کے لئے فال بد ثابت ہوگی ۔
فی الوقت شام سیکورٹی بحران سے باہر نکل آیا ہے ۔ سرحدی علاقوں میں بعض مسائل درپیش ہیں البتہ صورت حال قابو میں ہے ۔ تجارت اور اقتصاد کے میدان میں شام کی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں ۔ اقتصادی ماہرین کا تخمینہ ہے کہ شام کے لئے ایران کی برآمدات کی صلاحیت نان پٹرولیم شعبوں میں کم از کم 700 ملین ڈالر سالانہ اور تکنیکی اور انجینئرنگ خدمات میں 600 ملین ڈالر سالانہ ہے۔ لیکن ایران اور شام کے درمیان اقتصادی معاملات کو بہتر بنانے کی راہ میں کئی پیچیدگیاں اور مسائل ہیں ، جن پر یقیناً دونوں ملکوں کے درمیان بات ہوئی ہوگی۔ ایک بڑا مسئلہ حمل و نقل کا بھی ہے کیونکہ صہیونی ریاست کبھی ایران اور شام کے درمیان اقتصادی تبادلوں کی راہ آسان نہیں ہونے دے گی ۔ دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ملک اقتصادی پابندی کی زد میں ہیں ، اس لئے بینکنگ کے مسائل بھی درپیش ہوں گے ، جس کا متبادل تلاش کرنا ایک بڑااہم قدم ہوگا ۔ایران نے عراق اور شام کے درمیان حمل و نقل کے لئے شلمچہ بصرہ ریل لائن کو ترجیحاتی پراجیکٹ میں شامل رکھا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں ۔ روس اور یوکرین جنگ کے بعد عالمی سیاسی تجزیہ نگار مشوش ہیں اور انہیں اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آرہاہے ۔ لیکن مسلمان ملک جس طرح متحد ہورہے ہیں ، اس نے دنیا کو حیران کردیا ہے ۔ خاص طورپر استعماری طاقتیں یک قطبی نظام کے خاتمے سے ذہنی و نفسیاتی تذبذب کا شکار ہیں ۔ اگر مسلمان ملک اسی طرح سیاسی شعور کا مظاہرہ کرتے رہے تو کثیر قطبی نظام میں ان کی حیثیت سب سے نمایاں ہوگی ۔