عمران خان کی گرفتاری: ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت

جمہوری نظام میں کسی بھی سیاسی لیڈر کی گرفتاری  کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ایسی کسی گرفتاری سے کسی لیڈر کی مقبولیت میں کمی واقع ہوتی ہے ۔ عمران خان کی گرفتاری کو بھی ریاستی جبر ہی کہاجائے گا خواہ اس کے لئے کوئی بھی عذر تراشنے کی کوشش کرلی جائے۔ البتہ یہ اصول بیان کرنے کے بعد یہ کہنا بھی بے حد اہم ہے کہ ملک کو موجودہ حالت تک عمران خان سمیت سیاست دانوں اور پارٹیوں نے خود پہنچایا ہے۔  جمہوریت کی دہائی دیتے ہوئے یہ فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ  اگر ملک میں جمہوری روایات پامال ہیں تو اس کے ذمہ دار سیاست دان ہیں جو عوامی فلاح کی بجائے محض حصول  اقتدار کے لئے سیاست کرتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ سے   نیب کے وارنٹ پر رینجرز کے ہاتھوں عمران خان کی گرفتاری  ایک ایسے وقت   دیکھنے میں آئی ہے جب فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک روز قبل   آئی ایس آئی کے  ایک میجر جنرل پر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول قرار دیا تھا اور قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ تاہم عمران خان نے  روائیتی جوش سے آج  پاک فوج کے وضاحت نما انتباہ کو مسترد کیا ۔ انہوں  نے ’آئی ایس پی آر صاحب‘ کہتے ہوئے بیان جاری کیا اور  ایک میجر جنرل پر اپنے قتل کی سازش کرنے کا الزام  کا سلسلہ جاری رکھا۔  عمران خان کا کہنا تھا کہ ’آئی ایس پی آر صاحب میری بات غور سے سنو! عزت کسی ادارے تک محدود نہیں ہوتی۔ بلکہ ہر شہری کو عزت ملنی چاہئے‘۔

آج بھلے نیب کے وارنٹ پر رینجرز  نے  اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے عمران خان کو گرفتار کیا ہو لیکن ملک کے بہت کم لوگ ہوں گے جو  اس کی وجہ تسمیہ سے  آگاہ نہ ہوں۔ اس کا ہلکا سا نمونہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے رد عمل  میں بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس وقوعہ کی خبر ملتے ہی اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد اور   وزارت داخلہ کے سیکرٹری کو پندہ منٹ کے اندر پیش ہوکر وضاحت کرنے کا حکم دیا۔ یوں  لگتا تھا کہ چند ہی منٹ میں ہائی کورٹ عمران خان کو پیش کرنے اور پھر ان کی رہائی کا حکم جاری کردے گی۔ اس سے پہلے تسلسل سے  یہی دیکھنے میں آتا رہا تھا کہ عدالتیں عمران خان کو ریلیف دینے کے لئے اپنے مقررہ طریقہ کار اور ضوابط کو نظر انداز کرکے سہولت بہم پہنچانے کا اہتمام کرتی رہی ہیں۔ آج کی گرفتاری نہ صرف عدالت کے احاطہ سے ہوئی  تھی بلکہ  عمران خان کو ایک ایسے وقت  گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے خلاف درج مقدمات کی ضمانت کے لئے ہائی کورٹ میں پیش ہونے کے لئے آئے تھے۔ ان میں سے ایک مقدمہ اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کے بارے میں بھی تھا۔  چیف جسٹس عامر فاروق نے  عمران خان  کی گرفتاری  کے وقوعہ پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور چند گھنٹو ں بعد  گرفتاری کو جائز قرار دیتے ہوئے    اس واقعہ پر رجسٹرار ہائی کورٹ   کو  ایف آئی آر درج کرانے کا حکم دیا  ۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کے نوٹس  بھی جاری کئے ۔

سول حکمرانی  اور عوامی حاکمیت کے اصول کے تحت سیاسی عمل میں فوجی اداروں یا عدالتوں کا عمل دخل  نہیں ہونا چاہئے۔ فوج اس ملک میں 70 سے سیاست کرتی رہی ہے اور عدالتوں نے  ہمیشہ  غیر آئینی طور سے ملکی جمہوریت کو ریگولیٹ کرنے کے عمل میں  فوج کے معاون کا کردار ادا کیا۔ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد سے کچھ پہلے فوج نے سیاست سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا  تھا لیکن عدالتوں کے متعدد ججوں نے  سیاسی پسند کو قانونی عمل داری سے زیادہ اہم سمجھتے  ہوئے ملکی سیاست  میں  براہ راست مداخلت کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس کی سب سے پہلی مثال تو تحریک عدم اعتماد کے خلاف سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کے خلاف چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی آئینی شق 184 (3)  کے تحت کارروائی تھی۔

  یہ شق بنیادی حقوق کی حفاظت کے لئے چیف جسٹس کو از خود کارروائی کرنے کا اختیار دیتی ہے لیکن ملکی پارلیمنٹ کو خود اس ملک کے عوام چنتے ہیں اور ان کے نمائیندے ہی قانون سازی یا آئین میں ترمیم  یا  رد وبدل کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس لئے قانون کے طالب علموں کے لئے یہ سوال  جوب طلب رہے گا کہ کوئی عدالت کیوں کر کسی پارلیمانی کارروائی  پر رد عمل ظاہر  کرکے اس کے نتیجہ میں ہونے والے سیاسی فیصلوں کو تبدیل کرسکتی ہے۔  کسی عدالت کا یہ اقدام کتنا ہی ضروری کیوں نہ ہو،   کسی مہذب   جمہوری ملک کے عدالتی  فیصلوں میں اس کی نظیر تلاش کرنا مشکل ہوگا۔ پی ڈی ایم  کو  چونکہ اس عدالتی کارروائی کا براہ راست فائدہ ہورہا تھا ، اس لئے اس کی طرف سے   پارلیمنٹ کے کام میں  اس براہ راست عدالتی  مداخلت کا خیر مقدم کیا گیا۔ اور عمران خان نے احتجاج کے لئے امریکہ مخالف تحریک چلا کر  سیاسی فائدہ سمیٹنے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ ضروری ہی نہیں سمجھا کہ اس سوال پر  عدالتی اختیار کو چیلنج کیا جاتا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ  اب سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ آمنے سامنے  ہیں اور عمران خان،  چیف جسٹس عمر عطا بندیال  کی حمایت میں ریلیاں نکالتے رہے ہیں۔

ملک میں فوج یا عدالتیں جیسے غیر منتخب ادارے اسی لئے مضبوط اور کسی حد تک خود سر ہیں  کیوں کہ سیاست دان   ملکی مسائل کو باہم معاونت و مواصلت سے حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔   پاکستان میں سیاست کرنے  کا ایک ہی سنہری نسخہ تلاش کیا گیا ہے کہ اداروں کو ساتھ ملا کر حکومت حاصل کی جائے اور مخالفین کا عرصہ حیات تنگ کیا جائے۔ کل عمران خان نے فوج کے ساتھ مل کر اقتدار حاصل کیا اور ریاستی اداروں اور عدالتی نظام کو استعمال کرتے ہوئے نواز شریف کے علاوہ دیگر اپوزیشن لیڈروں  کا ناطقہ بند کیا ۔  اب شہباز شریف اینڈ کمپنی کو موقع ملا ہے تو وہ  وہی ہتھکنڈا عمران خان کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔  عمران خان کی گرفتاری اسی افسوسناک اور ناقابل قبول صورت حال کا نقطہ عروج ہے۔ جب تک سیاست دان یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ ایک دوسرے کو چور کہہ کر وہ کسی اور کو نہیں بلکہ  انہی اداروں کو مضبوط کرتے ہیں  جن  پر مشکل وقت میں سیاسی انجینئرنگ کا الزام عائد کیا جاتا  ہے۔ عمران خان اس صورت حال کا شکار ہونے والے پہلے لیڈر نہیں ہیں۔  لیکن اگر وہ سیاسی شعور کا مظاہرہ کرتے اور  عدالتی پشت پناہی کے زعم میں سیاسی مخالفین اور فوجی قیادت کے ساتھ یکساں طور سے دشمنی کا رشتہ استوار نہ کرتے تو شاید ملک کو  موجودہ تشدد اور بے چینی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

ملک میں  اسی وقت جمہوری عمل  جاری و ساری ہوسکتا ہے اور بنیادی حقوق کی روایات مستحکم ہوں گی جب اداروں کو ان کی حدود میں رکھنے کے سوال پر تمام سیاست دان مل کر  میثاق جمہوریت  جیسا کوئی لائحہ عمل اختیار کریں اور سختی سے اس پر کاربند رہنے کا  عزم کریں۔ اگر اپنی سیاسی کامیابی و اقتدار کے لئے موقع ملنے پر اداروں کو  مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا چلن جاری رہے گا  تو ملکی سیاست میں وہ  ’ریڈ  لائنز‘ موجود رہیں گی جنہیں عبور کرنے پر ممکنہ  طور سے عمران خان گرفتار ہوئے ہیں اور فی الوقت انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ بھی ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔  سیاست دانوں نے  اپنے فائدے کے لئے  اداروں کی اعانت قبول کرکے ان ریڈ لائنز کو عملی  طور سے مقدس قانون کی حیثیت سے قبول کیا ہے۔ پھر انہیں عبور کرنے سے گریز  کرنا لازم ہے۔  یہ تو ممکن نہیں ہے کہ جب فوج عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لئے نواز شریف کو نشانے پر لئے ہوئے تھی اور ہر دھاندلی سے تحریک انصاف کو کامیاب کروایا گیا تھا تو فوج صراط مستقیم پر تھی۔ اور جب یہ سہولت فراہم کرنے سے انکار کیا گیا تو اسے  قتل کی سازش کرنے والوں کا گروہ کہا جائے۔ اور ایک اعلیٰ افسر کا نام لے کسی ثبوت و دلیل کے بغیر الزام تراشی کی جائے اور ملک میں بے چینی پیدا کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے۔

عمران خان  ایک مقبول لیڈر ہیں۔ گرفتاری سے  ان کی مقبولیت میں کمی نہیں ہوگی  بلکہ ان  کے ساتھ ہمدردی میں اضافہ ہوگا لیکن اگر اس وقت تحریک انصاف کی قیادت نے ہوشمندی سے کام نہ لیا اور پارٹی کارکنوں کو اسی طرح توڑ پھوڑ کرنے اور  جی ایچ کیو کے علاوہ  کور کمانڈرز کے گھروں پر حملے کرنے پر اکسانے کی کوشش کی جاتی رہی تو  عمران خان کی سیاست کے ساتھ ملک میں جمہوری عمل کو خواب بنتے دیر نہیں لگے گی۔   شاہ محمود قریشی جیسے لیڈروں   کو  اس موقع پر  جذباتی بیان بازی کی بجائے ٹھوس اور جمہوری حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔  فی الوقت تحریک انصاف کے علاوہ حکومت کو بھی ہوش کے ناخن لینے  چاہئیں اور حالات کو خراب کرنے کی بجائے انہیں درست کرنے  کے لئے اقدامات کر نے چاہئیں۔

  ملک میں سیاسی مکالمہ ہی موجودہ بحران کا واحد حل ہے۔ اسی سے تعطل بھی دور ہوگا، اداروں کو حدود میں رہنے کی ترغیب بھی دی جاسکے گی اور سیاسی پارٹیوں میں احترام کا رشتہ بھی استوار ہوسکے گا۔ لیکن اگر سیاست دان ایک دوسرے میں ’چور لٹیرے‘ تلاش کرتے رہے تو نہ جمہوریت بچے گی اور نہ اداروں  سے  اقتدار مانگنے والوں   کو عزت و احترام  ملے گا۔