کیا تحریک انصاف پر پابندی سے مسائل حل ہوجائیں گے؟

عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک میں فسادات کا سلسلہ جاری ہے۔ تشدد میں اب تک 4 افراد  کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات  ہیں۔  پنجاب ، خیبر پختون خوا اور اسلام آباد میں فوج طلب کرلی گئی ہے۔  متعدد سرکاری املاک اور پولیس تھانوں پر حملے ہوئے ہیں یا انہیں تباہ کردیا گیا۔  اس دوران میں اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے عمران خان کو 8 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ہے۔  حالات مسلسل تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کسی کے پاس یہ سوچنے کا محل نہیں ہے کہ اس ٹکراؤ سے کیا حاصل ہو گا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے گزشتہ روز کے واقعات پر غیر ضروری طور سے سخت بیان جاری کیا ہے اور   9 مئی کو ملکی تاریخ کا سیاہ باب قرار دیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ سیاسی بھیس میں اقتدار کی ہوس میں مبتلا ایک ٹولے نے جو کام کیا ہے، وہ  ملک کے دشمن  75 سال میں نہیں کرسکے   تھے۔  فوجی املاک و تنصیبات پر حملوں کو سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ قرار دے کر  دعویٰ کیا گیا ہے کہ فوج نے تحمل و برداشت سے کام لے کر اس سازش کو ناکام بنایا۔ اس کے ساتھ ہی   آئی ایس پی آر کا یہ اعلان  بھی سامنے آیا ہے کہ  سازش کر نے والوں کو معاف  نہیں کیا جائے گا ۔  تشدد میں ملوث لوگوں کی نشاندہی کی جاچکی ہے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔  فوج نے  وعدہ کیا ہے کہ اب فوج سمیت کسی سرکاری ایجنسی پر حملے کی کوشش کی گئی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ملک کے بڑے حصے میں فوج متعین  ہونے کے بعد مسلح افواج  ’قانونی‘ طور سے  امن و امان بحال رکھنے اور شر پسندوں  کی سرکوبی کے لئے کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے   کی مجاز بھی ہوں گی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے  سرکاری املاک پر حملوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے  تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران ہونےوالے نقصان اور تشدد کو ملک دشمنی  سے تشبیہ دی ہے۔  انہوں نے متنبہ کیا کہ یہ دہشت  گرد اور امن دشمن عناصر فوری طور پر اپنی حرکتوں سے باز آجائیں ورنہ ان سے آہنی ہاتھوں سے  نمٹا جائے گا۔  خبروں کے مطابق شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سمیت تحریک انصاف کے اہم لیڈروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پارٹی کی طرف سے اگرچہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد حکمت عملی  بنانے کے لئے 6 رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم ابھی تک اس کمیٹی کے کسی اجلاس یا پارٹی قیادت کی طرف سے  احتجاج کے لائحہ عمل کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ ملک مسلسل بے یقینی  کا شکار ہے اور عام شہری جو پہلے ہی مہنگائی اور سہولتوں کی کمیابی کی وجہ سے پریشان تھے، اس نئی صورت حال میں ان کی تشویش میں اضافہ ہؤا ہے اور زندگی محال ہوگئی ہے۔

گو کہ حکومت اور تحریک انصاف  دونوں کے لئے اسی میں بہتری ہے  کہ امن و امان بحال کیا جائے۔ احتجاج کو پر امن رکھنے کے لئے تحریک انصاف کی قیادت کو  متحرک ہونے کا موقع دیا جائے  تاکہ مزید خوں ریزی سے بچا جاسکے اور جذبات کی بجائے ہوش سے کام لے کر سیاسی بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جاسکے۔ فی الوقت البتہ ایسا امکان دکھائی نہیں دیتا۔ حکومت کا لب و لہجہ سخت ہے اور فوج کے بیان سے  کریک ڈاؤن کا اندیشہ محسوس کیا جاسکتا ہے۔  تاہم ان حالات میں  یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ کیا گرفتاریوں، سزاؤں، مار دھاڑ، حملوں اور ایک دوسرے کو دشمن یا دہشت گرد قرار دینے سے مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے؟ ملک میں  سیاسی پسند  ناپسند کی بنیاد پر تقسیم پیدا کی جاچکی ہے۔ فی الوقت  ایسی قیادت دکھائی نہیں دیتی جو  انتشار اور تصادم  ختم کرنے کے لئے تدبر، معاملہ فہمی اور  ہوشمندی کا مظاہرہ کرسکے۔ حکومت  تحریک انصاف کے دوسرے درجے  کے لیڈروں کو گرفتار کرکے درحقیقت  پارٹی میں شامل انتہا پسند عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع دے  رہی ہے ۔  نہ جانے یہ اقدام کسی سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ ہے یا  اچانک سامنے آنے والے تشدد کے بعد غیر ارادی طور سے یہ اقدامات کئے گئے ہیں۔

یہ بات البتہ واضح ہونی چاہئے کہ  کسی بھی سیاسی تحریک کو دباؤ اور ریاستی طاقت سے کچلنے کا کوئی طریقہ  نہ  تو کارگر ہوتا ہے اور نہ ہی اسے کسی بھی اصول یا قاعدے  کی بنیاد پر قبول کیا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف کے بعض عناصر  کی طرف سے  فوجی املاک پر حملے  یا مسلح افواج کے خلاف نفرت کی مہم چلانے  سے  معاملات پارٹی کے حق میں بہتر نہیں ہوجائیں گے اور نہ ہی عمران خان کو  ریلیف ملنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ اس حقیقت سے پارٹی کی قیادت کو بھی باخبر ہونا چاہئے اور سیاسی احتجاج کو بامعنی اور مؤثر بنانے کے لئے پرامن حکمت عملی اختیار کرنے اور پرتشدد عناصر سے خود کو علیحدہ کرنے کا اعلان کرنا چاہئے۔ تاہم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہمہ قسم احتجاج کو دہشت گردی اور ملک دشمنی قرار دینا بھی نہ تو واقعات  و حالات کی درست تصویر کشی ہے  اور نہ یہ بیانات کسی مسئلہ کا حل  ثابت ہوں گے۔ عمران خان کا طریقہ غلط  ضرور تھا لیکن وہ  بظاہر ایک ہی مقصد  کے لئے  جد و جہد کررہے تھے کہ ملک میں انتخابات کروائے جائیں ۔ یہ عین جائز، جمہوری اور قانونی مطالبہ  ہے۔  اگر عمران خان اس مطالبے پر کوئی بامعنی مفاہمت کرنے پر راضی نہیں تھے تو حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کی طرف سے بھی  کوئی درمیانی راستہ اختیار کرنے کا اشارہ نہیں دیا گیا۔ حالانکہ سیاسی اختلاف کے ماحول میں دونوں طرف سے  لچک دکھائی جائے تب  ہی  کوئی حل نکلتا ہے۔

اس تنازعہ میں  البتہ عمران خان نے  اندازے کی یہ غلطی  ضرور کی  کہ  وہ اگر فوج پر دباؤ میں  اضافہ کریں گے تو وہ ایک بار پھر ان کی مدد کے لئے  سامنے آئے گی ۔ اور انہیں  اپنی مرضی کے مطابق انتخابات میں جانے اور کامیاب ہوکر حکومت بنانے کا موقع مل جائے گا۔ فوج کے  سیاسی کردار کے حوالے سے بات کرنا اور  اسے مسترد کرنا  عین جمہوری طریقہ ہے ۔ تاہم   یہ بھی سچ ہے  کہ پاکستان میں یکے بعد دیگرے سیاستدانوں نے  ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور خود اقتدار حاصل کرنے کے لئے فوج  کو استعمال  کیا یا اس کی سرپرستی قبول کی۔  اقتدار میں آنے کے بعد جب یہ سیاست دان فوج کی  توقعات پر پورے نہیں اترتے یا  فوج سیاست دانوں کی خواہشات پوری کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو تصادم کی صورت پیدا ہوتی رہی ہے۔ چونکہ یہ سب عناصر ایک بڑے کھیل کا حصہ رہے ہیں، اس لئے ہر موقع پر یہ خیال ضرور رکھا جاتا ہے کہ اداروں کے ساتھ اختلاف کو ایک خاص طریقے سے ظاہر کیا جائے اور براہ راست نام لے فوجی افسروں پر  الزام تراشی سے گریز کیا جائے۔ عمران خان نے  سیاسی دباؤ کے ماحول میں یہ احتیاط کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

یہ بھی حالات کی ستم ظریفی  ہے کہ عمران خان کا  سیاسی مقدمہ کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف  رہا ہے۔ وہ خود کو شفاف، ایماندار، قانون پسند اور امن کا داعی بناکر پیش کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان کی گرفتاری  نیب کے ہاتھوں مالی بدعنوانی کے ایک مقدمہ میں ہوئی ہے۔ حالانکہ  اقتدار سے محروم ہونے کے بعد  ان  پر درجنوں مقدمات قائم کئے گئے جن میں دہشت گردی، تشدد، املاک پر حملے اور اداروں کے خلاف بیان بازی جیسے الزامات شامل ہیں البتہ  ان کی اچانک گرفتاری نیب کے   ہاتھوں ہوئی اور اب انہیں ریمانڈ پر اس ادارے کے حوالے بھی کردیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت نے  نیب قانون میں تبدیلی کرکے اس ادارے کے اختیارات محدود کئے تھے جس کی وجہ سے امید کی جارہی ہے کہ شاید  نیب اس ایک مقدمہ میں عمران خان کو زیادہ دیر تک  حراست میں نہ رکھ سکے اور انہیں کسی نہ کسی عدالت سے ضمانت مل جائے ۔  تاہم یہ  امر قابل غور ہونا چاہئے کہ گزشتہ  دو دہائیوں کے دوران کیسے نیب کو سیاسی لیڈروں کو دبانے، ہراساں  اور بدنام کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔  تحریک انصاف  نے نیب قانون میں ترمیم کو مسترد کیا  تھا اور سپریم کورٹ میں اس کے خلاف  پٹیشن دائر کی ہوئی ہے جس میں  نئے قانون کو  کالعدم کرنے کی  اپیل  کی گئی ہے۔  تحریک انصاف کا مؤقف رہا ہے کہ  نیب قانون میں ترمیم ’چوروں لٹیروں‘ کو  تحفظ دینے کے لئے کی گئی  ہے۔  عمران خان اسے ’این آر او‘ کا نام دیتے ہوئے کالا قانون بھی کہتے رہے ہیں۔  تاہم اب اسی ترمیم کی وجہ سے وہ رعایت حاصل کرنے کو بیتاب ہوں گے۔

نیب قانون کے تحت عمران خان کی گرفتاری سے  یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ پاکستان جیسے نظام میں عام طریقہ کار سے ہٹ کر خصوصی ادارے بنانے کا اصل مقصد کیا ہوتا ہے۔  اس  کے بعد تحریک انصاف اور حکومت میں شامل پارٹیوں کو کم از کم  اس ایک نکتہ پر اتفاق کرلینا چاہئے کہ نیب  ملک میں کرپشن ختم کرنے کی بجائے کرپشن کے نام پر ناپسندیدہ عناصر کو  راستے سے ہٹانے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ نواز شریف سے لے کر عمران خان تک اس ادارے نے یہ  فرض پوری  مستعدی سے انجام دیا  ہے۔ نیب   ملک میں انتقامی کارروائیوں   کے لئے سب سے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال  ہوتا رہا ہے۔  تحریک انصاف سمیت ملک کے تمام سیاست دانوں کو چاہئے کہ پہلی فرصت میں اس ادارے کو ختم کیا جائے تاکہ احتساب کے نام پر سیاسی مقاصد حاصل کرنے والے ایک  ادارے  سے تو جان چھڑائی جاسکے۔

البتہ  موجودہ حالات میں  کسی سیاسی مفاہمت و اتفاق رائے سے پہلے   تصادم بڑھنے اور کشیدگی میں اضافہ کا اندیشہ ہے۔ فوج اور  وزیر اعظم کے بیانات کے علاوہ پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان  نے میڈیا سے گفتگو میں  تحریک انصاف پر پابندی کا اشارہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ جلاؤ گھیراؤ کی بنیاد پر کئی تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا تو کیا اس کردار پر تحریک انصاف کو عزت دی جائے‘۔ اگر یہ بیان حکومتی ارادوں کا اشارہ ہے تو یہ ملکی سیاسی تاریخ میں ایک نئے سیاہ باب کا اضافہ ہوگا۔ اس انتہا ئی قدم سے پہلے  مگر یہ سوچ لینا ضروری ہے کہ ماضی میں سیاسی پارٹیوں اور تحریکوں  پر پابندی سے کبھی خوشگوار نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ اب بھی اس کی توقع  رکھنا عبث ہوگا۔