اسلام آباد ہائی کورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی ضمانت منظور کر لی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت دو ہفتوں کے لیے منظور کر لی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رُکنی بینچ نے عمران خان کی درخواست ضمانت منظور کی۔ بینچ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت عارف شامل تھے۔ عمران خان نے لاہور میں درج چار مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔
جسٹس گل حسن اورنگزیب نے عدالتی کارروائی کے دوران ریمارکس دیے کہ آئندہ سماعت پر دلائل سن کر ضمانت منظوری یا خارج کرنے کا فیصلہ دیں گے۔ جسٹس گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کر کے آئیے گا۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رُکنی بینچ نے سماعت شروع کی تو کمرۂ عدالت میں ایک وکیل نے عمران خان کے حق میں نعرے بازی شروع کر دی جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور ججز اُٹھ کر چلے گئے۔ اس دوران نماز جمعہ کا وقفہ ہو گیا۔
سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے تفتیش کا آغاز ہوتے ہی گرفتار کرنے کی کوشش کی ۔ عمران خان کو جب گرفتار کر لیا گیا تو پھر انکوائری رپورٹ دکھائی گئی۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ اس کیس میں ہمیں کوئی سوالنامہ بھی نہیں دکھایا گیا۔
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ وارنٹ گرفتاری اس وقت جاری ہوتے ہیں جب بار بار بلانے کے باوجود ملزم پیش نہ ہو رہا ہو۔ ضمانت کی درخواست نو مئی کو دائر کر رہے تھے کہ عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا۔ جسٹس گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ سرپم کورٹ کے واضح احکامات ہیں کہ نوٹسز واضح ہونے چاہئیں۔
کمرۂ عدالت میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ جیسے ہی وہ عدالت سے نکلیں گے انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا جائے گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے اطراف سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور صرف متعلقہ افراد کو ہی عدالتی احاطے میں داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔