بنگلہ دیش میں اردو زبان کے سرپرست: اسد چودھری

بنگلہ دیش میں بنگلہ کے اہم شاعر کوی اسد چودھری کے بارے میں لکھنے کا مطلب آفتاب کوچراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ بنگلہ دیش میں اسد چودھری کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اسد چودھری کی حیثیت بنگلہ دیش میں اردوزبان کی سرپرست کی ہے۔لیکن اس شخصیت سے دنیائے اردو ادب ناواقف ہے۔

آج بنگلہ دیش میں اردو زبان و ادب کا جو گلشن سجا ہوا ہے وہ ان ہی کے دم سے ہے ورنہ اردو ادیب و شاعر میں وہ سکت کہاں تھی کہ وہ اس زبان و ادب کو بچا پاتے ۔ 1971 کی جنگِ آزادی نے یہاں رہنے والے اردودانوں کی زندگی کو غیر محفوظ بنا دیا تھا جس کی وجہ سے کثیر تعداد میں لوگ یہاں سے ہجرت کرکے پاکستان سمیت دنیا کے دیگرملکوں میں بکھر گئے۔ جو لوگ اس ملک میں رہ گئے اس وقت حال یہ تھا کہ اگر کوئی اردو میں بات بھی کرتا تو اسے عتاب کا شکار ہونا پڑتا۔ اس لئے ان میں وہ جرات نہیں تھی کہ وہ بنگلہ دیش میں اس زبان و ادب کی آبیاری کے لئے قدم اٹھاتے۔ ایسے وقت میں اسد چودھری اردو شاعروں و ادیبوں کے پشت پر مسیحا بن کر کھڑے ہوئے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ بقول حافظ دہلوی :
جس کو  بھی  توفیق  دیتا  ہے خدا
آندھیوں میں وہ  جلاتا ہے چراغ

اسد چودھری کا منشا یہ تھا کہ جس طرح سابق مشرقی پاکستان میں ان کی مادری زبان بنگلہ کے ساتھ غیر منصفانہ روئیہ اختیار کیاگیا تھا، اس طرح کسی اور زبان کے ساتھ نہ ہو۔ اس لئے وہ ملک کی نازک صورتحال میں اردو کی بقا کی جہد میں شامل ہوگئے۔ ان کی شخصیت جنگِ آزادی میں قلمی مجاہد کی ہے۔ واضح رہے کہ جنگِ آزادی کے دوران سابق مشرقی پاکستان سے بنگالی شاعر و ادیب، صحافی اور گلو کاروں کا ایک گروپ بھارت پہنچا تاکہ بھارت میں قائم جلاوطن حکومت کی ذرائع ابلاغ میں ترجمانی ہوسکے۔ اس سلسلہ میں بھارت میں شادھین بنگلہ بیتار کیندرو کے نام سے ریڈیو پروگرام اورجئے بنگلہ کے نام سےبنگلہ ہفتہ وار اخبارشائع کئے گئے۔  تاکہ جنگ کے دوران بنگلہ دیش کے لوگوں نیز جنگ میں شامل جنگجوؤں کی حوصلہ افزائی کی جاسکے ۔ اسد چودھری ریڈیو پروگرام میں نیوز کاسٹر جبکہ ہفتہ وار جئے بنگلہ کے معاون مدیر کی حیثیت سے ذمہ داری نبھائی ۔ 1972 میں جب وہ ملک واپس پہنچے توانہیں اردو بولنے والوں کے ساتھ ہونےوالے سانحہ سےمکمل آگاہی ہوئی۔ ایک طرف انہیں ان تمام باتوں کا ملا ل تھا لیکن دوسری طرف انہیں اردو زبان سے والحانہ محبت تھی کیونکہ اردو زبان توغالب وجالب، اقبال، میرو مومن، فیض و فراز کی زبان ہے اوربنگلہ دیش میں اس زبان کی نمائندگی احسن احمد اشک، حافظ دہلوی، کلیم سہسرامی، احمد سعدی ، نوشاد نوری ، ڈاکٹر سید یوسف حسن، عطا الرحمن جمیل، زین العابدین، احمد الیاس، س م ساجد اور شمیم زمانوی وغیرہ کررہے تھے۔

انہوں نے اپنے اردوداں ادیب و شاعر دوستوں کی خیر و عافیت معلوم کرنےکے بعد مشورہ دیا کہ جو ہونا تھا اسے واپس لانا ممکن نہیں لیکن ہمیں اردو زبان و ادب کی بقا، ترقی و ترویج کے لئے کام کرنا چاہئے ۔ اُس وقت انہوں نے بہت ہی جرات مندانہ فیصلہ کیا کہ ڈھاکہ کے میرپور میں مشاعرہ کا اہتمام کیا اورخود اس مشاعرہ میں شریک ہوئے۔ اس مشاعرہ میں شرکت کے لئے ان کے بنگالی دوستوں نے منع بھی کیا تھا ۔ کیونکہ اس وقت ڈھاکہ کے میرپورمیں بنگلہ کے معروف ناول نگار اور فلم ساز ظہیر ریحان کو اغوا کرلیا گیا تھا اوراس کا الزام اردو بولنے والوں پر لگایا جارہا تھا ۔ظہیر ریحان نے جنگِ آزادی کے دوران  ’قتل عام بند کرو‘ کے نام سےایک دستاویزی فلم بنائی تھی جسے پوری دنیا میں مقبولیت حاصل ہوئی جبکہ وہ دوسری دستاویزی فلم

A State is Born

کے نام پر کام کررہے تھے کہ ان کےساتھ یہ سانحہ پیش آیا ۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اب یہ باتیں بھی واضح ہورہی ہیں کہ ظہیر ریحان کو بنگالیوں کے ایک گروہ نے اغوا کیا تھا کیونکہ جنگ کے دوران انہوں نے جس طرح کے فوٹیج حاصل کئے تھے اور انٹرویو وغیرہ ان کے پاس موجود تھے جس سے ہوسکتا ہے کہ اس وقت کے اربابِ اختیار کے ساتھ جڑے لوگوں کے خلاف ان کے پاس کافی دستاویزی ثبوت موجودہوں۔ اگر وہ تمام چیزیں لوگوں کے سامنے آجائیں تو جنگِ آزادی کے دوران ان کی خدمات رائیگاں جا سکتی ہیں۔ تقریباً پچاس سال بعداب سوشل میڈیا پر ان تمام باتوں کا انکشاف کیا جارہا ہے اور اس سے متعلق بحث و مباحثےبھی ہورہے ہیں۔ امید ہے کہ سچ خود ایک دن سامنے آجائے گا۔ اس سے ایک بات تو واضح ہورہی ہے بقول خواجہ حیدر علی آتش :
زمین ِچمن گل کھلاتی ہے کیاکیا
 بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
خیر اسد چودھری نے اس مشاعرہ میں شرکت کی جس سے اردو شاعروں اور ادیبوں کو تقویت پہنچی کہ جنگِ آزادی کے حامی ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اسی طرح آندھیوں میں بجھتے ہوئے چراغ کوانہوں نےسہارا دیا اور اردو کا کارواں چل پڑا۔ انہوں نے ایک اور حق ادا کردیا ۔ سابق مشرقی پاکستان کے ترقی پسند اردو شاعروں ادیبوں کے ساتھ ان کے گہرے مراسم تھے۔ اسی اثنا 1974میں سید پور کے معروف مترجم و شاعر احمد سعدی نے وہاں منعقد ہونے والے مشاعرہ میں اسد چودھری کو مدعو کیا۔ بقول اسد چودھری"یہ سیدپورکا پہلا سفر تھا۔ حتیٰ کہ میں نے احمد سعدی کو بھی کبھی نہیں دیکھا۔ میں جب وہاں پہنچا تو رات کے دس بج رہے تھے۔ احمد سعدی نے ٹرین اسٹیشن پرمیرا اسقبال کیا اور اپنے دولت کدے پرلے گئے۔ عشائیہ کے بعد تقریباً رات گئے انہوں نے کہا چلیں شہر کی سیر کرتے ہیں ۔ میں یہ سوچ رہاتھا کہ اتنی رات گئے شہرکی سیر۔ لیکن میزبان کی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے میں نکل پڑا۔ وہ سردی کا موسم تھا اورملک کے شمال میں کافی سردی پڑتی ہے۔ سردی کو برداشت کرتے ہوئےجب میں شہر کے مرکزی حصہ میں پہنچا تو وہاں شام جیسا سماںتھا۔ ہوٹل، ریسٹورینٹ، پان اور چائے کی دکانیں نیز لوگوں کی گہما گہمی دیکھنے اور گرامو فون پراونچی آواز میں گانےسننے جیسی تھی۔ میں بہت ہی حیران تھا ۔ ایسا لگا کہ میں کلکتہ کے نیو مارکٹ کےآس پاس کھڑا ہوں۔ میں نے اسی شہر میں پہلی مرتبہ عوامی ہجوم میں اپنا بنگلہ کلام پیش کیا تھا"۔          
اسد چودھری کا پورا نام عاشقِ واحدِ محمد اسد الاسلام ہے۔ ان کے والد محمد عارف چودھری1946 میں متحدہ بنگال کےایم این اے (ممبر آف نیشنل اسمبلی) منتخب ہوئے تھے اور وہ آخری ایم این اے تھے۔ ان کی والدہ کا نام سیدہ محمودہ بیگم ہے۔ دستاویزی اعتبار سے ان کی پیدائش 11 فروری 1943 ہے لیکن دراصل ان کی پیدائش 5 نومبرکو ہوئی۔ وہ بنگلہ دیش کے جنوبی ضلع بیریسال کے مقام اولانیا، مہدی گنج میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک زمیندار خاندان سے ہے۔ ان کے جدِ امجد پارس یعنی ایران سے ہجرت کرکے ایودھا پہنچے بعد ازاں ایک عرصہ تک مرشدآباد میں قیام کیا۔ ان کے جدِ امجد مغلیہ حکومت میں بنگال کے گورنر شائستہ خان کے فوجی کمانڈر بھی تھے۔ تاریخی اعتبار سے اس وقت خلیجِ بنگال کوا رکانی اور پرتگالی قزاقوں کے حملہ کا خدشہ رہتا تھا۔ ان کے جدِ امجد محمد حنیف نے دلیرانا کردارکامظاہرہ کرتے ہوئے ان قزاقوں کی خلیج بنگال میں  سر کوبی کی تھی۔

اسد چودھری کو ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں مکمل کی اور 1957 میں کورونیشن ہائی اسکول سےثانوی کے امتحان، 1960 میں بیریسال کے بروجو موہن کالج سے اعلیٰ ثانوی کے امتحان مکمل کب۔ واضح رہے کہ یہ کالج ملک کا قدیمی تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے 1943 میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبئہ بنگلہ سے بی اے اور1946 میں اسی شعبہ سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز 1946 میں برہمن باڑیا کالج کے شعبئہ بنگلہ کے لکچرار کی حیثیت سےکیا ۔ لیکن انہیں ادب سے اتنی انسیت تھی کہ کالج کی ملازمت کو الوداع کہتے ہوئے 1973  میں بنگلہ اکیڈیمی میں باحیثیت اسسٹنٹ ڈائیریکٹر ملازمت اختیار کرلی ۔ اس ادارہ میں انہوں نے بہت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ ذمہ داری نبھائی اور2000 میں ڈائیریکٹر کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بنگلہ روزنامہ پُربو دیش میں صحافی کے طور پر کام کیا اور ریڈیو جرمنی سے بھی وابستہ رہے۔
اسد چودھری کوٹی وی چینلوں میں کام کرنےکا بڑا تجربہ ہے۔ انہیں سرکاری ٹیلی ویژن چینل سمیت نجی ٹیلی ویژن چینلوں میں یکساں طور پرمقبولیت حاصل ہے۔ ایک مرتبہ بنگلہ دیش میں اردو ادب کے روح رواں نوشاد نوری کو بنگلہ دیش کی قومی ٹیلی ویژن چینل بی ٹی وی پرانٹرویو کے غرض سے لے گئے چونکہ اس وقت یہ ملک کا واحد ٹیلی ویژن چینل تھا اس لئے اس انٹرویو کو ملک کے طول و عرض میں دیکھا گیا تھا۔

 اسد چودھری سے راقم الحروف کی ملاقات 1999 کو ڈھاکہ میں ہوئی۔ یونیسکو کی تنظیم نے بنگلہ دیش کے شہیدانِ زبان کےدن کو بین الاقوامی مادری زبان کا دن قرار دیا تھا۔ اس دن کو منانے کےغرض سے سپریم کورٹ کے سنئیر ایڈووکیٹ ایم آئی فاروقی اور احمد الیاس نے اردوداں نئی نسل کو مشورہ دیا کہ انہیں بھی اس دن کوباقاعدگی سے منانا چاہئے ۔ ان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے احمد الیاس کی مدد سے ملک کے معروف دانشوروں سے ملاقات اور انلوگوں کو اس پرگرام میں مدعو کرنے کا کام شروع کیا۔ 11 فروری کو ایک وفد کی شکل میں ہم لوگوں نے اسد چودھری کی رہاش گاہ پران سے ملاقات کی۔ چونکہ یہ دن ان کے یومِ پیدائش ہے اس لئے ہم لوگوں نےانہیں پھول کا تحفہ پیش کیا۔ انہوں نے خندہ پیشانی سے اسےقبول کیا مگر اپنی روایتی قہقہوں سےاس بات کا انکشاف کیا کہ درحقیقت ان کی تاریخِ پیدائش  11 فروری نہیں بلکہ 5 نومبر ہے۔ بہر حال اسد چودھری مادری زبان کا عالمی دن کے حوالے سے پروگرام کی تفصیل سن کر بےحد خوش ہوئے اور اس پروگرام میں باحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کے لئے عندیہ دیا۔ جب پوچھا کہ اس میمورینڈم کو کس نے تیار کیا تو سب کا اشارہ راقم الحروف کی طرف تھا۔ انہوں نے مجھے اپنے قریب بلایا اور پشت پر ہاتھ رکھ کر میری بنگلہ کی تعریف کی ۔ پھر وہ ملاقات اور آج کا دن۔۔۔۔ بہت دنوں کے بعد بھی بات ہوتی ہے تو اتنی ہی شفقت، محبت اور ہمدری بھرے لہجوں میں بات کرتے ہیں ۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بنگلہ دیش میں مقیم اردو بولنے والوں میں ڈھاکہ کے اردو داں نئی نسل نے بین الااقوامی مادری زبان کے عالمی دن کو اہتمام کر کے ایک مثال قائم کی تھی جسے آج اردو داں کی مختلف تنظیمیں ترتیب کے ساتھ مناتی ہیں۔  

جب اردو داں نئی نسل کے اقدام کے تحت 2003 میں بنگلہ دیش کی عدالتِ عالیہ سے حق رائے دہی کو تسلیم کیا گیا تو اسد چودھری بہت خوش ہوئے ۔ کسی بھی پروگرام میں موقع ملتا وہ اس بات کا ذکر ضرور کرتے اور کہتے کہ" ان نوجوانوں کی ہمت کو سلام کہ انہوں نے وہ کام کردکھایا ہے جو شاید ہی کوئی کر پائے " ۔  کیونکہ انہیں اس بات کا علم تھا کہ کیمپ میں رہنے کے باوجود نئی نسل کے نمائندوں نے کیمپ کے روایتی لیڈرشپ کو چلینج کیا ہے جوگزشتہ پچاس سال کی تاریخ میں ایک نایاب اقدام ہے۔ اردو بولنے والوں کی حقوق انسانی کی بالادستی کے لئے انہوں نے ہمیشہ اپنا دستِ تعاون دراز کیا۔ بنگلہ دیش میں دانشوروں کے جھرمٹ میں اس کمیونٹی کی نئی نسل کے بدلتے ہوئے رجحان کو ان کے سامنےاجاگر کرتے۔ اردوداں کے بینر تلے کسی بھی پروگرام کا انعقاد کیا جاتا بنگلہ دیش کے ایسے دانشووروں کو مدعو کرتے جس کی بات ملک کے اصل دھارے کے ذرائع ابلاغ اہمیت دیتے ہیں۔ ان میں کمال لوہانی، پروفیسر شمس الزمان خان، پروفیسر ہارون الرشید، المجاہدی، سمدر گپت، حبیب اللہ شیرازی، مفید الحق، قاضی روزی، زاہد الحق، نو رالہدا، بشیر الحلال، جعفر عالم، ہری پد دتاوغیرہ شامل ہیں۔ اس کمیونٹی کے حوالے سےاسد چودھری کی ان گنت خدمات ہیں اگر لکھنے بیٹھے تو دفتر کے دفتر سیاہ ہو جائیں ۔

2010 میں راقم الحروف کو امریکی سفیر کی جانب سے امریکہ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سےایک پروگرام کے لئے منتخب کیا گیا۔ اس بات کا پتہ جب اسد چودھری کو چلا تووہ سفر کے پہلے روز شام یکایک میرے ایک دوست کے ساتھ میرے گھر پہنچ گئے۔ میں گھر میں موجود بھی نہیں تھا۔ خبر پاتے ہی میں بھاگ کرگھر پہنچا۔ انہوں نے مبارکباد دی ، میری بڑی ہمت افزائی کی۔ میں آج بھی سوچتا ہوں کہ ایک انسان جن کا تعلق زمیند ار خاندان سے ہے،بنگلہ دیش میں بہت سارے لوگ ان سے ملاقات کی حسرت رکھتے ہیں۔ اپنے پروگرام میں انہیں مہمان کی حیثیت سےلانے کے لئے تگ و دو کرتے ہیں۔ اصل دھارے کے ذرائع ابلاغ میں جن کا طوطی بولتا ہے۔ ان کی فراخ دلی دیکھئے کہ وہ میرے جھونپڑی نما گھر چلے آئے مبارکباد دینے۔ اسد چودھری کی شخصیت بنگلہ دیش کے دانشوروں میں بے مثل و بے نظیر ہے۔ لوگوں سےشفقت، ہمدردی اور میٹھی لہجوں میں بات کرنے والوں میں ان کا کوئی ثانی نہیں ۔

 دارالحکومت ڈھاکہ میں اسد چودھری کا مستقل قیام رہا۔ کبھی کبھار وہ اپنے آبائی گاؤں جاتے۔ آب و ہوا کی تبدیلیوں کی وجہ سے عالمی حدت میں اضافہ ہورہاہے جس سے ترقی پزیر ممالک بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ ایسے ہی چند نا گوار حالات ان کے گاؤں اولانیہ باالخصوص مہدی گنج میں رونما ہوا۔ وہاں تیزی کے ساتھ دریا کے کٹاؤ کی وجہ سے ان کے گاؤں کو زیر آب ہونے کا خدشہ لاحق تھا۔ چونکہ  ان کے دل میں ایک ہمدرد انہ گوشہ پنہاں ہے اس لئے انہیں جب اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے اپنی تمام ترمصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئےمجوزہ وسائل کو بروئے کار لاکر گاؤں کے لوگوں کے ساتھ مل کرمتعلقہ وزارت سمیت بہت سارے وزراء اور ماہرین کو اپنے گاؤں کے دورے پرلے گئے اور ان لوگوں کی توجہ مبذول کی تاکہ دریاکے کٹاؤ کی وجہ سے ایک تاریخی گاؤں زیرِ آب ہونے سے بچ جائے۔ انہوں نے اس مہم کو باحُسن و خوبی انجام دیا۔ اس مہم کی کامیابی بلا شبہ اسد چودھری کے سر ہےجسے لوگ کافی سراہتے ہیں۔

 بنگلہ دیش میں اردو شاعروں اور ادیبوں کے درمیان نظریے کے حوالے سے آپس میں ہمیشہ تناؤ رہا ہے۔ اسد چودھری اپنے معمول کے مطابق قہقہوں میں یہ کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں جدید پسند، ترقی پسند، اسلام پسند تو ہیں لیکن کوئی اردو پسند نہیں۔ا ٓئیے ہم سب سے پہلے اردو پسند بنیں۔ ان کا مشاہدہ یہ تھا کہ ڈھاکہ میں اردو کے حوالے سے درجنوں تنظیمیں قائم ہوئیں لیکن کسی بھی تنظیم کی تیسری میٹنگ منعقد نہیں ہوپائی اورلوگ بکھر گئے۔ اسی غرض سے انہوں نے خود اقدام کیا اور 2008 میں بنگلہ اردو ساہتیہ فورم کے نام سےایک تنظیم قائم کی ۔ انہوں نے ایک مستحکم تنظیم کے خواب کی تکمیل کے لئے خود صدر کی ذمہ داری قبول کرلی تاکہ ملک میں اردو کے حوالےسے مثالی سرگرمیاں انجام دی جاسکیں۔ بعد ازاں حکومت کی رجسٹریشن کے سلسلہ میں اس تنظیم کے نام میں تبدیلی کی گئی جو اب بنگلہ اردو ساہتیہ فاؤنڈیشن کے نام سےملک کا ایک مشہورادبی تنظیم ہے۔

واضح رہے کہ یہ ملک کی واحداردو ادبی تنظیم ہے جسے حکومتِ بنگلہ دیش نے رجسٹر کیا ہے۔ اس کام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے اس تنظیم کے آنجہانی ناظم اعلیٰ سید فیاض حسین، ان کے بھائی ملک کے معروف گلوکار حیدر حسین اورموجودہ ناظم اعلیٰ مسعودالرحمن کے نام  قابلِ ذکر ہیں۔ اس تنظیم کے زیر اہتمام ڈھاکہ میں سنجیدگی کے ساتھ ادبی پروگرام منعقد کئے گئے۔ گزشتہ پندرہ  برسوں میں کثیر تعداد میں اردو کتابیں شائع کی گئیں جو اپنی نوعیت میں ایک تاریخ ہے اوربنگلہ دیش میں اردو ادب کے لئے مثال ہیں۔ اس ادارہ کو فعال بنانے کے لئےذاتی طور پر نیز اپنی بیٹی و داماد سے خطیر رقم اکٹھا کرکے پروگرام کو یقینی بنایا کرتے تھے۔  
اسد چودھری کے ساتھ راقم الحروف کو ملک کے طول و عرض جن میں کشورگنج، سیدپور، راجشاہی، چاٹگام، کاکس بازاراور ملک کا ایک جزیرہ سینٹ مارٹین میں ادبی و ثقافتی سفر کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ ان کے ہمراہ بھارت کے کلکتہ اور بہارکا بھی ادبی اور ثقافتی دورہ کیا۔ 2017 میں کولکاتا میں بھیرب گنگولی کالج میں پروفیسرطیب نعمانی کی دعوت پر بنگلہ دیش کے چار رکنی وفد میں بنگلہ شاعر اسد چودھری، اردو شاعر احمد الیاس، کینیڈا میں مقیم بنگلہ دیشی دستاویزی فلم سازندیم اقبال اور راقم ا لحروف شامل تھے۔ سہسرام میں اقراء اکیڈمی کی جانب سے کوی اسد چودھری کے اعزاز میں ایک مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا جہاں راقم الحروف نے بھی شرکت کی تھی۔

ویسے تو اسد چودھری نے دنیا کے بہت سارے ممالک کا ادبی و ثقافتی دورہ کیا ہے لیکن کولکاتا اور سہسرام کے پروگراموں میں شرکت سے اسد چودھری بہت خوش نظر آرہے تھے کیونکہ یہ غالباً پہلا موقع ہے کہ وہ بیرونِ ملک اردو کے حوالے سے منعقدہ پروگرام میں اپنا بنگلہ کلام پیش کررہے تھے۔ اس دورے کے دوران راقم الحروف کو بھی ایک غیر معمولی تجربہ کا سامنا ہوا۔ کوکاتا کے مشہور بنگلہ ادبی تنظیم چارو کنٹھا نے اسد چودھری کے اعزاز میں ایک استقبالیہ کا اہتمام کیا جہاں مجھے بھی مدعو کیا گیا اور میں نے اس پروگرام میں اپنا اردو کلام پیش کیا۔ غالباً اردو کے حوالے سے کولکاتا میں یہ ایک منفرد تجربہ ہے کہ بنگالی حلقہ میں اردوشاعر کی شمولیت اور یہ اس لئے ممکن ہو سکا کیونکہ میں اسد چودھری کےہمراہ سفر کررہا تھا۔  

  کوی اسد چودھری تیس سے زائد بنگلہ کتابوں کے خالق ہیں۔ جن میں  پندرہ سے زیادہ شعری مجموعے،  سات سے زائد لوک کہانی کے مجموعے سمیت دوسرے دیگرتصنیفات شامل ہیں۔ اردو کے حوالے سےسب سےاہم خدمات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے تقریباً ساٹھ سے زائداردو شعرا کی تخلیق کو بنگلہ زبان میں ترجمہ کیا نیز ان شاعروں کا مختصر تعارف بھی اس کتاب میں شامل کیا تاکہ بنگالی قارئین کوصر ف شاعر کا کلام نہیں بلکہ ان کے بارے میں بھی معلوم ہوسکے ۔ باریر کاچھے آرشی نگر میں انہوں نے کامیابی کے ساتھ بنگلہ دیش کے اردو شاعروں کوبنگلہ قارئین کے سامنے پیش کیاجو ملک میں زبانوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں پُل کا کام کررہی ہے۔ یہ کتاب 2003 میں منظرِ عام پر آئی۔ ان کی بے حد کوشش تھی کہ اس کتاب کی دوسری اشاعت کے ذریعہ اردو شاعروں کی از سرِ نو تجدید ہو اوراس میں نئے طرز کے لکھاریوں کو شامل کیا جائے۔ لیکن افسوس ہم لو گوں کی کوتاہیوں کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔ ان دنوں وہ کینیڈا میں مقیم ہیں اور بے حد بیمار ہیں۔ آنکھوں کی بینائی بھی ساتھ نہیں دے رہی ہے۔ حال ہی فون پر بات ہورہی تھی تو میں نے ان سے چند ترجمہ کے لئے گزارش کی تو بہت ہی افسردہ لہجے میں بتانے لگے کہ اب تو میری بینائی بھی ساتھ نہیں دیتی۔ جس کی وجہ سے وہ لکھنے پڑھنے سے قاصر ہیں ۔
اسد چودھری کو ادبی خدمات کے اعتراف میں بہت سارے انعامات سے نوازا گیا ان میں 1987 میں بنگلہ اکیڈیمی ایوارڈ، 2006 میں جاتیا کویتا پریشد ایوارڈ اور2013 میں ملک کااعلیٰ شہری ایوارڈ اکوشے پدک قابلِ ذکر ہیں۔

 اسلام میں شہیدوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ کبھی نہیں مرتے ٹھیک اسی طرح اسد چودھری کا کہنا ہےکہ شاعر و ادیب کبھی نہیں مرتے۔ جب تک ان کی تحریریں زندہ ہیں، وہ اپنی تحریروں میں زندہ رہتے ہیں۔ اسد چودھری آپ ہمارے دلوں میں صدیوں زندہ رہیئ گے۔ ہم آپ کی اچھی صحت اور پُر سکون زندگی کے لئے دعا گو ہیں۔