مولانا فضل الرحمان سے احتجاج ریڈ زون سے باہر منتقل کرنے کی درخواست

  • اتوار 14 / مئ / 2023

وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ  کے صدر مولانا فضل الرحمٰن سے درخواست کی ہے کہ وہ سوموار 15 مئی) کو اپ نا درھرنا اور احتجاج  ریڈ زون سے باہر منتقل کرلیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ا اتنے بڑے اجتماع کو کنٹرول کرنا مشکل ہوگا۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ سیکیورٹی ایجنسیز نے پی ڈی ایم کے سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج اور دھرنے کے حوالے سے انتہائی تشویش ناک رپورٹس دی ہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ کے مخصوص فیصلوں کی وجہ سے لوگوں میں شدید غم و غصہ ہے۔  اگر کل ریڈ زون میں احتجاج کیا گیا تو اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ مظاہرین کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔ چنانچہ میں اور اسحاق ڈار فضل الرحمٰن کے پاس گئے اور ان سے ریڈ زون کے باہر احتجاج کرنے کی درخواست کی ہے جنہوں نے 10 بجے ملاقات کا کہا ہے اور امید ہے کہ ہماری درخواست قبول کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے احتجاج شیڈول کیا ہے اور بہت بڑی تعداد میں لوگ جمع ہونے ہیں۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ اگر یہ احتجاج ریڈ زون یا شاہراہ دستور پر ہوتا ہے تو اس پر کنٹرول کرنا مشکل ہوگا اس لیے میں نے وزیراعظم سے اس معاملے پر بات چیت کی جس کے بعد ان کی ہدایت پر ہم نے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے درخواست کی ہے کہ وہ احتجاج ریڈ زون کے باہر کریں جس پر انہوں نے اپنی اور دیگر جماعتوں کے سربراہان سے مشاورت کا کہا ہے۔

رانا ثنااللہ نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں منصوبہ بندی کے تحت جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، ملک میں جو دہشت گردی ہوئی ہے وہ اس فتنے نے کروائی ہے۔ ہم کہتے رہے ہیں کہ یہ ایک فتنہ ہے، اس کا ادراک نہ کیا گیا تو یہ ملک کو کسی حادثے سے دوچار کردے گا۔ اب اس فتنے کو موقع ملا تو اس نے ملک و قوم کو حادثے سے دوچار کیا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں تو اس شخص کا ادراک تھا لیکن کچھ لوگ اس بات کو اس سچائی کے ساتھ نہیں سمجھ رہے تھے جو ان تین دنوں میں ساری چیزیں سامنے آئی ہے۔ شرپسند عناصر کی شناخت کی جارہی ہے، جہاں جہاں انہوں نے آگ لگائی ہے ثبوتوں کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان نے اعترافِ جرم کیا ہے کہ 60 ارب روپے میرے طریقہ کار سے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئے۔ وہ پیسے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں نہیں بلکہ بزنس ٹائیکون کے اکاؤنٹ میں آئے جبکہ وہ پیسے قومی خزانے میں آنے تھے۔ جس شخص نے قومی خزانے میں 60 ارب روپے کا ڈاکا ڈالا وہ کہتا ہے کہ کوئی مجھ سے سوال نہ پوچھے اور نہ کوئی گرفتار کرے۔ اگر قومی احتساب بیورو ان کو گرفتار کرتا ہے تو وہ مخصوص مقامات پر احتجاج کروا کر لوگوں کے گھروں کو آگ لگواتا ہے۔ دفاعی تنصیبات پر حملہ کرواتا ہے اور جب سپریم کورٹ میں آتا ہے تو ’ویلکم‘ کیا جاتا ہے اور نیک خواہشات کا اظہارہوتا ہے۔ اگلے دن ان نیک خواہشات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے دیکھا گیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر ملک میں حالیہ مظاہروں میں عمران خان ملوث پائے تو انہیں دوبارہ گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ہر بار تحریک انصاف سڑکوں پر نکلتی ہے، ہر بار وہی ایک 2 سو لوگ پرتشدد مظاہروں میں ملوث پائے جاتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ انہیں ایسا کرنے کی تربیت دی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ سویلین بالادستی سے مراد یہ نہیں کہ آپ ان (فوج) کے گھروں کو آگ لگا دیں یا ان کو گالیاں دیں۔