چیف جسٹس تصادم سے نکلنے کا راستہ تلاش کریں!
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 14 / مئ / 2023
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا سہ رکنی بنچ سوموار 15 مئی کو الیکشن کمیشن کی طرف سے نظر ثانی درخواست پر غور کرے گا۔ یہ درخواست نجاب میں 14 مئی کو انتخاب کروانے کے فیصلہ کے خلاف دائر کی گئی ہے۔ اس دوران چیف جسٹس کی بار بار یاد دہانی کے باوجود کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے اور آئین نے عدالت کے ہاتھ باند رکھے ہیں، مقررہ تاریخ کو انتخابات نہیں ہوسکے۔
نظر ثانی کی درخواست پر وہی سہ رکنی بنچ غور کرے گا جس نے 4 اپریل کو یہ حکم جاری کیا تھا۔ اس کی سربراہی چیف جسٹس کررہے ہیں اور اس میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔ چیف جسٹس کی طرف سے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس حوالے سے دیے گئے ریمارکس کی روشنی میں تو یہ درخواست پہلی سماعت میں ہی مسترد ہونی چاہئے۔ البتہ اسے رجسٹرار نے سماعت کے لئے مقرر کیا ہے، اس لئے بعض عناصر یہ امید لگائے ہوئے ہیں کہ ملک کی اشتعال انگیز اور خطرناک سیاسی صورت حال میں چیف جسٹس اور ان کے ساتھی جج اعتدال و مفاہمت سے کام لیں گے اور الیکشن کمیشن کی درخواست قبول کرتے ہوئے ، انتخابات کے حوالے سے خود مداخلت کا طرز عمل تبدیل کرلیں گے ۔ اس رائے کے مطابق الیکشن کمیشن ملک میں انتخابات کروانے کے حوالے سے بااختیار آئینی ادارہ ہے ۔ سپریم کورٹ کو اس کے کام میں مداخلت اور الیکشن کمیشن کے اختیارات خود سنبھالنے کی بجائے الیکشن کمیشن کو مستحکم و مضبوط کرنے کا اقدام کرنا چاہئے۔
دوسری طرف تحریک انصاف سے وابستہ عناصر امید لگائے ہوئے ہیں کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات منعقد کروانے سے انکار کیا اور الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے فراہم نہیں کئے گئے۔ پارٹی کے خیال میں حکومت کا یہ رویہ توہین عدالت ہے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہونے پر شہباز شریف پر توہین عدالت کا الزام لگا کر انہیں اس عہدے کے لئے نااہل قرار دیاجائے۔ سپریم کورٹ کے پاس توہین عدالت کا اختیار استعمال کرنے کا اختیار تو موجود ہے لیکن حالات کی موجودہ کروٹ میں ایسا کوئی حکم دینا آسان نہیں ہوگا۔ پارلیمنٹ نے قراردادوں کے علاوہ انتخابات کے لئے مالیاتی تجویز مسترد کی ۔ پھر شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ دے کر بظاہر ان کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں۔ توہین عدالت جیسا سخت اقدام لینے کے خلاف رائے رکھنے والوں کا خیال ہے کہ ان حالات میں سپریم کورٹ کے پاس اس انتہائی اقدام کا جواز موجود نہیں ہے ۔ کیوں کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق الیکشن کمیشن کو رقم فراہم کرنے کا فیصلہ وزیر اعظم یا کابینہ نے نہیں کیا بلکہ اسے مالیاتی تجویز کی شکل میں پارلیمنٹ کے سامنے پیش کردیاگیا تھا جہاں یہ تجویز مسترد ہوگئی۔ ایسی صورت میں سپریم کورٹ اگر شہباز شریف کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتی ہے تو سیاسی صورت حال مزید سنگین ہوگی ۔ پارلیمنٹ و حکومت ایسی عدالتی کارروائی سے قبل سپریم کورٹ کے خلاف کوئی ایسا انتہائی اقدام کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے جس سے موجودہ سیاسی و آئینی بحران شدید ہو اور اس سے ملک کو مزید نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔
اس دوران میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد سپریم کورٹ کا طرز عمل اور وہاں سے ملنے والی سہولت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ سے نیب مقدمہ میں ضمانت کے علاوہ 15 مئی تک انہیں کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کے حکم جیسے فیصلوں پر تحریک انصاف مخالف سیاسی عناصر اور حکومت نے سخت رد عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عدلیہ عمران خان کی سہولت کار بنی ہوئی ہے اور ان کی گرفتاری کے راستے میں ’آہنی دیوار ‘ ہے۔ اب وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’اعلیٰ عدلیہ کا رویہ قانون کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ عدلیہ اس وقت تحریک انصاف کی ٹائیگر فورس میں تبدیل ہوچکی ہے‘۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے ۔ کسی کو ایک سیاسی پارٹی کی ٹائیگر فورس بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہمیں اگر انصاف نہ دیا گیا تو ہم اسے چھین لیں گے۔ انہوں نے سیاسی مکالمہ کی اہمیت و ضرورت کو تسلیم کیا لیکن اس کے ساتھ ہی متنبہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کے طور پر زندہ رہنے کے لئے اپنے عسکریت پسند ٹولے سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ ہم سیاسی مکالمے پر یقین رکھتے ہیں لیکن دہشت گردوں سے بات چیت نہیں ہوسکتی۔
ادھر حکومت میں شامل متعدد سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان جمہوری تحریک کے صدر مولانا فضل الرحمان نے سوموار کو ہی سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کرنے اور دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ جمیعت علمائے اسلام کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو اسلام آباد جمع کیا جارہا ہے۔ لاہور سے مریم نواز احتجاج کی قیادت کرنے اسلام آباد پہنچ رہی ہیں۔ وزیر داخلہ رانا ثناللہ نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ آج شام مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور انہیں دہشت گردی کے اندیشے کی وجہ سے اسلام آباد کی ریڈ زون میں احتجاج کرنے یا دھرنا دینے سے منع کیا۔ تاہم خبروں کے مطابق مولانا نے اس حکومتی درخواست کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ بظاہر یہ درخواست دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر کی گئی ہے لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حکومتی پارٹیاں پی ڈی ایم اور احتجاج کے فیصلے میں شامل ہونے کے باوجود بطور حکومت خود کو اس احتجاج سے علیحدہ رکھنا چاہتی ہوں۔ تاکہ کسی ناپسندیددہ صورت حال میں سپریم کورٹ سے کہاجائے کہ حکومت نے تو ریڈ زون میں احتجاج سے منع کردیا تھا۔
سپریم کورٹ اگر سوموار کو الیکشن کمیشن کی پٹیشن پر اپنا سابقہ فیصلہ تبدیل کرنے کا مصالحانہ اقدام کرسکے تو ایک بڑا تصادم ٹالا جاسکتا ہے۔ اگرچہ چیف جسٹس زور دار ریمارکس کی صورت میں اپنی پوزیشن بہت واضح کرچکے ہیں اور سہ رکنی بنچ کے لئے ایسا کوئی فیصلہ ’پسپائی ‘ اختیار کرنے کے مترادف ہوگا۔ دوسری طرف یہ بھی واضح ہے کہ 14 مئی کی تاریخ گزر چکی ہے اور سپریم کورٹ اسے واپس لانے کااختیار نہیں رکھتی۔ چند ہفتوں کے دوران پنجاب انتخابات کے لئے اگر کوئی نیا حکم دیا جاتا ہے تو موجودہ حکومت اس پر بھی عمل کروانے سے انکار کررہی ہے۔ لہذا یہ حکم بھی غیرمؤثر ہی رہے گا۔ یوں بھی جج فیصلے کرتے ہوئے کسی ذاتی انا کو بنیاد نہیں بناتے۔ نہ ہی کوئی حکم تبدیل کرنے سے کسی جج یا بنچ کی عزت و وقار میں کمی واقع ہوتی ہے۔ بلکہ ایک ہیجان خیز ماحول کو ختم کرکے چیف جسٹس، عدالت عظمی پر حکومت اور ملک کے ایک بڑے طبقہ کے کمزور ہوتے اعتماد کر بحال کرنے کے لئے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
خاص طور سے ایسا کوئی فیصلہ یوں بھی دانشمندانہ ہوگا کیوں کہ سپریم کورٹ کے بعض ججوں پر تحریک انصاف کی کھل کر حمایت کرنے کا الزام عائد ہورہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے تو واضح طور سے کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے اپنی حدود میں رہ کر اقدام نہ کیا تو کسی کو قانون نافذ کرنے کے لئے من مانی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پارلیمنٹ اور وفاقی کابینہ کی طرف سے بھی ایسے ہی اشارے دیے گئے ہیں۔ وفاقی کابینہ کے علاوہ پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے بھی دھرنے کا اعلان کرتے ہوئے یہی مؤقف اختیار کیاہے کہ ’ہم سپریم کورٹ کے تین دو کی بجائے چار تین کے فیصلے کو مانتے ہیں‘۔ چیف جسٹس کی طرف سے پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کے بارے میں سو موٹو اقدام کے فیصلے کے خلاف چار ججوں کی رائے سے جو تنازعہ شروع ہؤا تھا، اسے یکم مارچ کے حکم سے ختم نہیں کیا جاسکا۔ چیف جسٹس نے بار بار درخواست کے باوجود اس سوال پر فل کورٹ بنچ بنانے اور حکومت کے ساتھ تنازعہ حل کرنے کے لئے مفاہمانہ رویہ اختیا رکرنے سے انکار کیا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت اور اس میں شامل پارٹیاں تین دو کے فیصلہ کو ماننے سے انکار کررہی ہیں اور چیف جسٹس نے اس معاملہ پر کوئی واضح فیصلہ جاری کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ زمینی سیاسی حالات نے صورت حال کو پیچیدہ اور اشتعال انگیز بنادیا ہے۔
اس دوران میں عمران خان کی گرفتاری اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی شر پسندی نے ایک نئی صورت حال کو جنم دیا ہے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ عدالتوں نے عمران خان کو ریلیف دے کر درحقیقت امن و امان خراب کرنے اور عسکری تنصیبات پر حملوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس طرح عمران خان کو لاقانونیت عام کرنے کا مزید حوصلہ حاصل ہوگا۔ حالانکہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کے حوالے سے ہونے والی سماعتوں میں فاضل ججوں نے عمران خان سے درخواست کی تھی کہ وہ اس شر پسندی کی مذمت کریں۔ عمران خان نے اس کے جواب میں یہ اصرار تو کیا ہے کہ تحریک انصاف پر امن پارٹی ہے لیکن انہوں نے عسکری تنصیبات پر حملوں ، لوٹ مار، آتشزنی اور تباہ کاری کی مذمت نہیں کی۔ تحریک انصاف کے حامی 9 مئی کے واقعات کا کریڈٹ لیتے رہے ہیں بلکہ عمران خان بھی کہتے رہے ہیں کہ یہ ردعمل متوقع تھا اور اگر انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا تو ایسا ہی رد عمل آئے گا۔ یہ بیان بھی بالواسطہ طور سے 9 مئی کے حملوں کی تائد ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف اب خود کو ان حملوں سے لاتعلق ظاہر کرنے کے لئے حکمران جماعتوں پر الزام تراشی کی حکمت عملی اختیار کررہی ہے۔ تحریک انصاف کے ایک اعلامیہ میں تو اب رینجرز اور نیب کے خلاف عمران خان کو ’اغوا‘ کرنے اور 9 مئی کو سکیورٹی فورسز کی ’زیادتیوں‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔ عمران خان کا مطالبہ ہے کہ چیف جسٹس خود ان واقعات کی تحقیقات کریں۔
فوج 9 مئی کو یوم سیاہ قرار دے چکی ہے اور اس روز عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ ایسا ہی اعلان اب پنجاب کی نگران حکومت کے وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے بھی کیا ہے۔ پنجاب میں انتخابات کے سوال پر غور کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا بنچ نہ تو 9 مئی کے واقعات کو نظر انداز کرسکتا ہے اور نہ ہی پی ڈی ایم کے احتجاج اور حکومت کی طرف سے جانبداری کے الزامات سے نگاہیں چرائی جاسکتی ہیں۔ ایسے میں اگر ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ بدستور سیاسی معاملات کی ’سرپرستی‘ کا طرز عمل اختیار کرتی ہے تو موجودہ چیف جسٹس اور ان کے حامی ججوں کی پوزیشن مزید خراب ہوگی۔ اور ملک میں جاری بحران مزید گہرا اور شدید ہوگا۔