پی ڈی ایم کے دھرنے میں چیف جسٹس پر کڑی تنقید

  • سوموار 15 / مئ / 2023

پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے چیف جسٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر بات پر کہتے ہیں کہ یہ دستور کے مطابق ہے، کیا دستور کو ہم نہیں جانتے۔ جس دستور کی تشریح تم کرتے ہو وہ دستور ہم نے بناکر آپ کے بھیجا ہے۔

 ہم نے جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے کہا تھا کہ آپ درست سمت پر نہیں جا رہے اگر پاکستان پر کوئی مشکل آئی تو یہ یوتھیے وغیرہ آپ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مخاطب ہوکر کہا کہ ہم آپ کو جانتے ہیں، آپ کا احترام بھی کرتے ہیں لیکن آپ اور آپ کے وفادار، جن مہذب کرسیوں پر بیٹھے ہیں، ان پر بیٹھ کر آپ کو پارلیمان، عوام کی اور سیاستدانوں کی تذلیل کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔

اگر آپ ہماری تذلیل کریں گے تو آپ کے ہتھوڑے سے ہمارا ہتھوڑا مضبوط ہے۔ ہم کسی ہتھوڑا گردی کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر نے کہا ہے کہ فیصلہ اس عمارت (سپریم کورٹ) میں بیٹھے کچھ لوگ نہیں کر سکتے بلکہ فیصلہ پاکستان کے عوام کریں گے۔

سپریم کورٹ کے باہر دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جانبدار جج اپنی عدالتی حیثیت کو مجروح کر چکا ہے اس لیے یہاں عوام کی عدالت براہ راست موجود ہے۔ کسی بھی قیمت پر عدالتوں کے ’انجینئرڈ فیصلوں‘ کو قبول نہیں کریں گے۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کو اپنی ذمہ داریاں ’اپنی حدود میں‘ میں رہتے ہوئے پوری کرنی چاہئیں اور عدلیہ کو سیاست میں ملوث ہونے سے خبردار کیا۔

دھرنے سے خطابب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) لی لیڈر مریم نواز نے کہا کہ جی ایچ کیو پر پہلا حملہ تحریک طالبان پاکستان نے کیا تھا اور دوسرا حملہ عمران خان نے کیا۔ عمران کی گرفتاری پر پاکستانی عوام نہیں نکلے بلکہ اس کے تربیتی یافتہ دہشت گرد نکلے۔ انہوں نے زمان پارک میں تربیت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے اپنے جتھوں کو ٹریننگ دی۔

مریم نواز نے کہا کہ جب 25 مئی کو لانگ مارچ ہوا تو پورے اسلام آباد کو آگ لگادی گئی تو جسٹس عمر عطا بندیال نے عدالت میں کہا کہ ہو سکتا ہے عمران خان نے آگ نہ لگائی ہو، شاید آنسوں گیس کی وجہ سے آگ لگی ہو۔ تین دن قبل جو کچھ دشمن ممالک یا دہشت گرد تنظمیں نہ کر سکیں، وہ ان کے پالتو عمران خان نے کرکے دکھایا۔ دفاعی تنصیبات کو جلایا گیا، ریڈیو پاکستان کو آگ لگائی گئی، ہسپتالوں کو جلایا گیا، رینجرز اور پولیس کی گاڑیاں جلائی گئیں۔

مریم نواز نے کہا کہ ہم 75 برس کے ہوگئے مگر 22 کروڑ عوام کی قسمت نہیں بدلی کیونکہ اس عمارت میں کچھ لوگ بیٹھے ہیں جن کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ آج ملک جس انتشار اور فتنے کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے، وہ اس وقت پیدا ہؤا جب مقدمہ کوئی اور تھا مگر ازخود نوٹس کسی اور بات پر لیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس عمارت (سپریم کورٹ) کا احترام کرنے والے لوگ ہیں۔ ہم آئین بنانے والے لوگ ہیں، ہم آج یہاں احتجاج نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن پاکستان کی بہتری بھی اسی عمارت سے ہوتی ہے اور پاکستان کی تباہی بھی ان کے فیصلوں سے ہوتی ہے۔ اس عمارت (سپریم کورٹ) سے تو مظلوم کو انصاف ملنا تھا، طاقتور کو قانون کے شکنجے میں لایا جانا تھا، جمہوریت کو مضبوط کرنا تھا۔ پارلیمانی مضبوطی اور منتخب وزرائے اعظم کے تقدد کو برقرار رکھنا اس عمارت کا کام تھا۔ دہشت گردوں کو کٹہرے میں لانا، فتنہ اور انتشار پھیلانے والوں کو سزا دینا اس عمارت کی ذمہ داری تھی لیکن یہاں سے بیٹھ کر کچھ سہولت کار انصاف کا قتل کرنے میں مصروف ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ کسی منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دیا جاتا ہے، تو کسی کو پھانسی دی جاتی ہے، کسی کو جلاوطن کیا جاتا ہے تو کسی کو گولی ماری جاتی ہے۔ کیا کوئی ایک بھی آمر ہے جس کو سپریم کورٹ نے گھر بھیجا ہو، ہمیشہ آمروں کی خاطر نظریہ ضرورت کو زندہ کیا گیا۔

آج جب ہماری فوج مارشل لا نافذ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ آئین و قانون کے ساتھ کھڑی ہے تو آج یہاں سے پاکستان میں پانچوں مارشل لا (جوڈیشل مارشل لا) لگایا جارہا ہے۔ پارلیمان تمام اداروں کی ماں ہوتی ہے جہاں سے آئین نے جنم لیا۔ اس پارلیمان سے ٹکر لی گئی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس سے استعفی دینے کا مطالبہ کیا۔

اس دوران پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیپل ز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جب 25 مئی کو جب یہاں آکر انہوں پورے اسلام آباد کو جلایا، تب بھی ہم نے کچھ نہیں کیا۔ تب بھی عدالتوں نے کچھ نہیں کیا، ان کے ساتھ کچھ نہیں ہوا اور سازش چلتی رہیں اور چور دروازے سے ان کے سہولت کاروں نے سہولت دی۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ہم کسی سازش کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ سازش یہ تھی کہ آپ پہلے صرف پنجاب میں صرف انتخابات کراؤ اور پھر اس کے بعد دیگر صوبوں میں انتخابات کراؤ، ون یونٹ قائم کرو اور پورے ملک میں ون مین شو چلے۔ بلاول بھٹو زرداری نے عدلیہ پر سابق وزیراعظم عمران خان کے لیے سہولت کاری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو اپنے ادارے میں ون مین شو چلا رہے ہیں، وہی پورے ملک میں ون مین شو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔