فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی

  • سوموار 15 / مئ / 2023

پاکستان کی فوج نے گزشتہ ہفتے عسکری تنصیبات اور املاک پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ سمیت ملک کے متعلقہ قوانین کے تحت مقدمات چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پیر کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیرِ صدارت خصوصی کور کمانڈر کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں گزشتہ چند دنوں کے دوران ملک میں امن و امان کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق کور کمانڈر کانفرنس کو فوجی تنصیبات اور املاک پر منظم حملوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ فوجی اور نجی املاک پر سیاسی مقاصد کے تحت ہونے والے حملے ادارے کی ساکھ کو متاثر کرنے اور اشتعال انگیزی کے لیے کیے گئے۔

واضح رہے کہ نو مئی کو سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج کے دوران کئی مشتعل افراد نے فوجی تنصیبات پر بھی دھاوا بول دیا تھا جن میں راولپنڈی میں جی ایچ کیو اور لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس سمیت دیگر تنصیبات اور املاک بھی شامل تھیں۔

پاکستان تحرِیک انصاف نے پر تشدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ تاہم اب تک پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنان کو نقضِ امن اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔

آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ناقابلِ تردید ثبوتوں کی بنیاد پر افواجِ پاکستان ان حملوں کے منصوبہ سازوں، اشتعال انگیزی کرنے والوں اور ان میں ملوث افراد اور مددگاروں سے آگاہ ہیں۔ کور کمانڈرز کانفرنس کے فورم نے فوجی تنصیبات و آلات پر حملوں میں ملوث افراد کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ سمیت تمام متعلقہ قوانین کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم کا اظہار کیا ہے۔

کانفرنس میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ فوجی تنصیبات پر حملوں میں کسی بھی طرح ملوث افراد کے لیے مزید تحمل کا مظاہر نہیں کیا جائے گا۔