انصاف کا ترازو اور دھرنے کا ہتھوڑا
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 15 / مئ / 2023
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک بار پھر امید ظاہر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں مذاکرات کا آغاز کریں تاکہ موجودہ سیاسی بحران کا کوئی حل نکل سکے۔ اس دوران پاکستان جمہوری تحریک نے وزیر داخلہ کی ’درخواست‘ کے باوجود اسلام آباد کے ریڈ زون میں سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا ہے۔ اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز نے چیف جسٹس پر کڑی تنقید کی اور انہیں سیاسی طور سے جانبدار قرار دیا۔
ان رہنماؤں نے جسٹس بندیال سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں موجودہ بحران کا ذمہ دار بتایا ہے۔ اور اعلان کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی حفاظت کی جائے گی لیکن سیاسی فیصلے کرنے والے ججوں کو قبول نہیں کیاجائے گا۔ ملک میں جاری موجودہ سیاسی بحران میں اہم ترین اداروں کو براہ راست ملوث کرنے کی کوششیں زوروں پر ہیں اور فریقین ’اپنے اپنے ادارے‘ کے حق میں بیان بازی کررہے ہیں ۔ اپنے پسندیدہ ادارے سے ہی ’انصاف اور جمہوری عمل کی بحالی‘ کی توقع بھی کی جارہی ہے۔ حالانکہ یہ معرکہ خود ان سیاسی رہنماؤں کو سر کرنا چاہئے جو اپنی سیاسی کامیابی کے لئے فوج یا سپریم کورٹ کا سہارا لینے کی کوشش کررہے ہیں۔
اس اصول پر تو اختلاف نہیں ہونا چاہئے کہ ہر سیاسی جماعت کو سیاسی احتجاج کرنے اور اپنا مؤقف عوام کے سامنے پیش کرنے کا حق حاصل ہے لیکن پاکستان جمہوری اتحاد نے جس انداز میں اسلام آباد کے ریڈ زون میں دھرنا دے کر اور اشتعال انگیز تقریریں کرکے سپریم کورٹ کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی ہے، اسے کسی بھی سیاسی پارٹی کا جمہوری حق نہیں کہا جاسکتا۔ خاص طور سے جب ملک کا وزیر داخلہ ایک روز پہلے یہ اعلان کرچکا ہے کہ ریڈ زون میں جلسہ نہ کیا جائے کیوں کہ دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ البتہ اسی اتحاد کے صدر نے وزیر داخلہ کی درخواست کو درخور اعتنا نہیں سمجھا اور آج ریڈ زون کی حدود توڑتے ہوئے سپریم کورٹ کے باہر کیمپ لگائے گئے اور جلسے کا اسٹیج سجایا گیا۔
اس اسٹیج سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور بعض دیگر ججوں کے بارے میں ہتک آمیز گفتگو کی گئی اور ان پر الزام تراشی ہوئی۔ اس طریقے کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت پر دباؤ ،ڈالنے کا ہتھکنڈا ہی کہا جاسکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقریر میں چیف جسٹس کو دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’ ہم آپ کا احترام کرتے ہیں لیکن آپ اور آپ کے وفادار، جن مہذب کرسیوں پر بیٹھے ہیں، ان پر بیٹھ کر آپ کو پارلیمان، عوام اور سیاستدانوں کی تذلیل کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔اگر آپ ہماری تذلیل کریں گے تو آپ کے ہتھوڑے سے ہمارا ہتھوڑا مضبوط ہے۔ ہم کسی ہتھوڑا گردی کو تسلیم نہیں کر سکتے‘۔ بعینہ مریم نواز نے چیف جسٹس کے خلاف فرد جرم عائد کرتے ہوئے انہیں آئین میں تحریف اور موجودہ بحران کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے چیف جسٹس پر سیاسی جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے جسٹس عمر عطابندیال سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
ان تقریروں پر گفتگو سے پہلے اس نکتہ پر غور کرنا چاہئے کہ حال ہی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی ، ملک میں موجود دہشت گردی کی لہر اور لاقانونیت کی صورت حال میں وزیر داخلہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرکے انہیں ریڈ زون میں داخل ہونے سے منع کرتا ہے۔ لیکن مولانا اس درخواست کو مسترد کردیتے ہیں۔ اس کے بعد وزیر داخلہ نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ وہ جس حکومت کے نمائیندے ہیں، وہ اس قدر کمزور ہے کہ اپنی ہی حکومت میں شامل پارٹیوں سے بھی اپنی بات منوانے کی طاقت نہیں رکھتی۔ ایسے میں انہوں نے اپنی حکومت کی بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے ، اپنی ناکامی پر اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کرنے کی بجائے اسلام آباد میں نافذ دفعہ 144 میں نرمی کردی ۔ تاکہ وزیرداخلہ کے استدعا نما ’حکم‘ کو مسترد کرنے والے عناصر پوری شان و شوکت سے ریڈ زون میں داخل ہوں اور سپریم کورٹ کے باہر جلسہ منعقد کرکے ججوں سے دھمکی آمیز لہجے میں بات کریں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں قانون کی عمل داری کے ذمہ دار وزیر کیا تمام سیاسی لیڈروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھنے کے قائل ہیں؟ اور کیا سپریم کورٹ کے ججوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا بھی حکومت ہی کا کام نہیں ہے؟ سپریم کورٹ کے باہر دھرنا اور اشتعال انگیز گفتگو سیاسی مقاصد کے لئے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو دباؤ میں لانے کی ناروا کوشش ہے۔ اس قسم کے سیاسی ہتھکنڈوں کو قبول نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس حکومتی طرز عمل کو آئین کی بالادستی یقینی بنانے کے عہد کا نام د یاجاسکتا ہے۔
بدقسمتی سے دیکھا جاسکتا ہے کہ اگر تحریک انصاف آرمی چیف پر تنقید اور عسکری تنصیبات پر حملے کرکے فوج سے مقابلہ کا اعلان کررہی ہے اور اسے اپنا دشمن ادارہ کہنے میں مضائقہ نہیں سمجھتی تو دوسری طرف عمران خان سپریم کورٹ کو ملک میں جمہوریت کی واحد امید قرار دیتے ہوئے نہ صرف چیف جسٹس کو ڈٹے رہنے کا مشورہ دیتے ہیں بلکہ ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ موجودہ حکومت کے خلاف تحریک انصاف کا ساتھ دیں ۔ کیوں کہ ان کے خیال میں صرف تحریک انصاف کی حکومت کے ذریعے ہی ملکی عوام کو ’حقیقی آزادی ‘ نصیب ہوسکتی ہے۔ اب تو انہوں نے اپنی گرفتاری کے موقع پر تحریک انصاف کے جلاؤ گھیراؤ اور عسکری تنصیبات تباہ کرنے کی کارروائیوں کو مخالفین کی ’سازش‘ قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس سے خود تحقیقات کرنے اور ان کے پارٹی کارکنوں کو ریلیف کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ دوسری طرف حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں جو کل تک ’عوامی حکمرانی اور ووٹ کو عزت دو ‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے فوجی قیادت کو ملک کے سیاسی مسائل کی وجہ قرار دیتی تھیں ، اب فوج کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑی ہیں اور سپریم کورٹ کو للکار رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے باہر احتجاجی ریلی اور دھرنا اس طرز عمل کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ تحریک انصاف کے برعکس حکومتی اتحاد چیف جسٹس اور ان کے بعض ساتھیوں کو اپنے راستے کی دیوار سمجھتا ہے۔
ملکی مختصر تاریخ میں فوج نے ہمیشہ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ میں کردار ادا کیا ہے۔ حتی کہ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ سال اپریل میں ان کے خلاف عدم اعتماد بھی فوجی قیادت کی ’سازش‘ کی وجہ سے کامیاب ہوئی تھی۔ اگرچہ وہ اس موقع پر یہ بھول جاتے ہیں کہ جنرل باجوہ کی سربراہی میں فوج اگر عمران خان کی پشت پناہی نہ کرتی تو وہ 2018 میں کسی صورت اقتدار حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ البتہ عمران خان ماضی سے سبق سیکھ کر سیاسی حکمت عملی تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں تاکہ ملک میں آئینی جمہوری نظام مستحکم ہوسکے۔ بلکہ وہ اس بات پر مشتعل ہیں کہ فوج ان کی بجائے موجودہ حکومت کی ’حمایت‘ کیوں کررہی ہے۔ اب وہ اس لڑائی میں ریاست کے دوسرے بڑے ادارے سپریم کورٹ کی اعانت سے فوج کو سبق سکھانے کی خواہش پالے ہوئے ہیں۔ اسی لئے پی ڈی ایم نے اب سپریم کورٹ پر دباؤ کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کر نے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔
ان حالات میں یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ موجودہ سیاسی جھگڑے میں کسی فریق کو جمہوری نظام میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ اپنے اقتدار کے لئے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے یا انہیں ایک دوسرے کے مدمقابل لانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
ماضی میں سپریم کورٹ نے ہمیشہ فوج کی آئین شکنی کو قانونی تحفظ فراہم کیا ہے۔ اس طرح وہ جمہوری عمل میں بالواسطہ طور سے رکاوٹ بنتی رہی ہے۔ عدالت عظمی نے بعد از وقت کبھی اس طریقہ کار پر پشیمانی یا شرمندگی کا اظہار بھی نہیں کیا ہے ۔ لیکن یہ بھی واضح ہے کہ سپریم کورٹ نے کبھی اپنے اختیارات کی بنیاد پر براہ راست حکومتی اقتدار پر تصرف حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ تاہم گزشتہ سال عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد سے بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ تحریک انصاف کو رعایت دینے کے لئے قانونی طریقوں اور مروجہ ضابطوں کو نظر انداز کررہی ہے۔ 9 مئی کو نیب کے ہاتھوں عمران خان کی گرفتاری کے دو روز کے اندر سپریم کورٹ کی براہ راست مداخلت سے انہیں رہا کردیا گیا۔ بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 17 مئی تک انہیں کردہ یا ناکردہ کسی بھی الزام میں گرفتاری سے تحفظ فراہم کرکے ملکی عدالتی تاریخ میں بے مثال نظیر بھی قائم کی ۔
اس سے قبل ملک کی اعلیٰ عدالتیں نیب کے معاملات میں براہ راست مداخلت سے پرہیز کرتی رہی ہیں اور متعدد سیاسی لیڈر حتی کہ جنگ و جیو گروپ کے منیجنگ ایڈیٹر شکیل الرحمان بھی کئی ماہ تک نیب کی تحویل میں رہے لیکن ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ نے کوئی اقدام کرنا ضروری خیال نہیں کیا۔ اسی لئے عمران خان کے معاملہ میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی مستعدی پر سوالیہ نشان لگایا جارہا ہے اور پوچھا جارہا ہے کہ کیا فوج کی طرح اب سپریم کورٹ تحریک انصاف کے ذریعے براہ راست اقتدار میں شراکت چاہتی ہے؟
مریم نواز نے آج جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ عدالتی رویہ کو جوڈیشل مارشل لا کا نام دیا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو ضرور یہ سوچنا چاہئے کہ کیا ایسے الزامات اس ادارے کی شہرت و وقار کے لئے مناسب ہیں جنہیں وہ افراد سے بالا تر قرار دیتے ہیں۔ خاص طور سے انہیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ سپریم کورٹ کا کوئی جج کسی جنرل کی طرح اقتدار میں حصہ داری کی خواہش نہیں پال سکتا۔ کیوں کہ دونوں ادارے اپنی ساخت اور طریقہ کار کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ فوج میں ڈسپلن اور افسر کا حکم حرف آخر ہوتا ہے جبکہ سپریم کورٹ میں انفرادی طور سے آئین و قانون کی تفہیم اہم ترین خصوصیت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں کوئی چیف جسٹس اپنے ادارے پر کسی آرمی چیف کی طرح تسلط قائم نہیں کرسکتا۔ جسٹس عمر عطا بندیال کے متعدد ساتھی جج اس وقت ان کے فیصلوں اور انتظامی طریقہ کار سے اختلاف کررہے ہیں۔ ایسے میں ہم خیال ججوں کے تعاون سے چیف جسٹس کی اتھارٹی مسلط کرنے سے سپریم کورٹ کمزور تو ہوسکتی ہے، اسے انصاف فراہم کرنے والا ایک فعال ادارہ نہیں بنایا جاسکتا۔
سیاسی مکالمہ کے لئے چیف جسٹس کی خواہش ناجائز نہیں ہے لیکن اس وقت ملک میں سیاسی تصادم کے موجودہ ماحول میں سپریم کورٹ کے سربراہ کو سیاسی مشورے دینے کی بجائے عدالتی طریقہ کار کو متوازن اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ جسٹس بندیال اپنے فیصلوں سے سپریم کورٹ کے سب ججوں پر یکساں اعتبار کا تاثر قائم کرسکیں اور اس عہدے پر اپنی باقی ماندہ مدت میں گروہ بندی کی فضا ختم کرنے کی کوشش کریں تو ایک بار پھر سپریم کورٹ کو قابل اعتبار ادارے کے طور مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی دباؤ پر کسی چیف جسٹس کو استعفیٰ دینے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے لیکن جسٹس عمر عطا بندیال سیاسی ماحول اور پارلیمنٹ میں پائی جانے والی تشویش کو نظر انداز کرنے کی غلطی نہ کریں تو بہتر ہوگا۔