قومی سلامتی کمیٹی کےاجلاس میں 9 مئی کے ذمہ داروں کو سزا دلوانے کا فیصلہ

  • منگل 16 / مئ / 2023

وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جو تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہا۔ اجلاس میں آرمی چیف سمیت سول اور عسکری قیادت شریک ہوئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔

انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان نے شرکا کو بریفنگ دی کہ توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث پانچ ہزار سے زائد شرپسندوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ شرکا نے نو مئی کے پر تشدد واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے پر اتفاق کیا۔ انٹیلی جنس کی بنیاد پر انسداد دہشت گردی کے حالیہ آپریشنز کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوجی اور سرکاری تنصیبات پر حملے کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ کسی کو بھی ملک کا امن اور استحکام داؤ پر لگانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جس نے بھی یہ منصوبہ بندی کی اور جتھوں کو توڑ پھوڑ پر اکسایا، جنہوں نے ان کی قیادت کی اور جنہوں نے یہ تباہ کن کارروائیاں کی وہ یقیناً دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھی 75 سال میں ایسے گھناؤنے کام کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے جس میں یہ جتھا کامیاب ہوا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 9 مئی کا دن ایک المناک دن تھا جو کہ کروڑوں پاکستانیوں نے انتہائی غم و غصے میں گزارا۔ ہم سب آج یہ بات سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ کون سا نظریہ تھا کون شخص تھا یا کون سا جتھا تھا جس نے وطن کے ساتھ والہانہ محبت کو نذر آتش کردیا۔