زمان پارک میں چھپے ہوئے دہشت گرد حوالے کرنے کا حکم
پنجاب کے نگراں وزیرِ اطلاعات عامر میر نے کہا ہے کہ فوجی تنصیبات پر حملے کرنے والے 30 سے 40 دہشت گرد زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ خفیہ اداروں کی فراہم کی گئی معلومات انتہائی خطرناک ہیں۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عامر میر نے کہا کہ عمران خان کی رہائش گاہ میں ان لوگوں نے بھی پناہ لی ہوئی ہے جنہوں نے لاہور کے کور کمانڈرز کے گھر جناح ہاؤس میں آگ لگائی اور توڑ پھوڑ کی۔ پنجاب کی حکومت تحریکِ انصاف کی قیادت کو 24 گھنٹوں کا وقت دے رہی ہے کہ فوج کی تنصیبات پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کو پنجاب کی پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔
بقول ان کے اداروں کے پاس اس کے شواہد موجود ہیں کہ جس وقت حملہ ہوا اور توڑ پھوڑ ہو رہی تھی تو حملہ آورا زمان پارک میں پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطے میں تھے۔ وہ ان افراد کو ہدایات جاری کر رہے تھے۔ پنجاب کے نگراں وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوگا جب کہ کیس انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں چلے گا۔ جرم کی شدت کے مطابق کیس کا فیصلہ ہوگا۔ ان افراد کو نشانِ عبرت بنایا جائے گا تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے۔
اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو مزید کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرنے سے روکنے کے احکامات میں 31 مئی تک توسیع کر دی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بدھ کو عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی اور ان کی گرفتاری روکنے کی درخواست پر سماعت کی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 12 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت دو ہفتوں کے لیے منظور کی تھی جب کہ عدالت نے کسی بھی نئے مقدمے میں عمران خان کو 17 مئی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
نگران حکومت پنجاب نے کہا ہے کہ جناح ہاؤس پر حملہ کرنے والے شرپسندوں اور سیاسی جماعت کی قیادت کے درمیان رابطوں کے ثبوت مل گئے ہیں۔ حکومت پنجاب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔
انسپکٹرجنرل پولیس، چیف ایگزیکٹو افسر پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی و دیگر اعلیٰ افسران نے 9 مئی کے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث شرپسندوں کی گرفتاریوں، شناخت اور مقدمات پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے 542 چہروں اور 305 گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔
جیو فینسنگ کے ذریعے شرپسندوں اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان بات چیت اور میسجنگ کے ٹھوس شواہد سامنے آگئے ہیں۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے ٹھوس شواہد کے بعد دہشت گردی کے واقعات کے منصوبہ سازوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا ہے۔