ایک پیج کی سیاست اور مستقبل کا راستہ

9 مئی کے سانحہ کے بعد سے صورت حال میں معتدل تبدیلی کے امکانات معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اگرچہ عمران خان نے آج ایک بار پھر اپنی گرفتاری کا اندیشہ ظاہرکرتے ہوئے  بات چیت ہی کو مسائل کا حل بتایا ہے لیکن  وہ یہ واضح نہیں کرپائے کہ وہ کن فریقوں کے درمیان  مذاکرات چاہتے ہیں۔  بادی النظر میں وہ فوج کو مصالحت کا پیغام دے رہے ہیں۔  حالانکہ  اگر ملک میں آئین نافذ ہے اور پارلیمنٹ کام کررہی ہے تو انہیں یہ پیش کش حکومت اور سیاسی جماعتوں کو کرنی چاہئے۔

صدر عارف علوی نے بھی اخبارات میں لکھے گئے ایک مضمون میں پاکستان کی تاریخ میں جبر و زیادتی کے متعدد  واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ’ہم یہاں سے کس سمت میں جائیں؟ میں سب سے گزارش کرتا ہوں کہ ٹھنڈے اور گہرے سانس لیں۔ میں نے چونکہ تجربے اور تاریخ دونوں سے سیکھا ہے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ آج کی کوئی بھی سیاسی جماعت کبھی بھی پاکستان مخالف نہیں رہی اور نہ ہی وہ غداروں پر مشتمل ہے‘۔ تاہم اسی مضمون میں وہ  اسٹبلشمنٹ کے سیاسی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے   یہ بھی واضح کررہے ہیں کہ ’سیاسی جماعتوں کی تخلیق کرنا، پھر ان کا تریاق تیار کرنا، پھر اْسے ختم کرنا، پھر ’پاکستان نواز‘ متبادل لانا، پھر اسے بھی تباہ کرنا، دباؤ ڈالنا، پھر افہام و تفہیم اور پھر مصالحت کرنا۔ یہ تمام پالیسیاں ایک سنجیدہ، وسیع البنیاد ، جامع اور تزویراتی عمل کی بجائے مقتدر لوگوں کی سوچ پر مبنی تھیں‘۔

صدر مملکت اگر ان ارشادات کی روشنی میں اپنے طرز عمل اور اپنی پارٹی کے لیڈر کی کوتاہیوں کی نشاندہی سے اصلاح احوال کے نیک کام کا  آغاز کرتے اور اپنی سیاسی غلطیوں کا اعتراف بھی شامل مضمون کرلیتے تو یقیناً امید کی ایک کرن روشن ہوسکتی تھی۔ لیکن عارف علوی  نے مرضی کے حوالے  دے کر ٹھنڈا سانس لینے کی ترغیب دینا ہی کافی سمجھا ہے۔ بدقسمتی سے  جب چاروں طرف آگ لگی ہو ،  جذبات انگیختہ ہوں اور کوئی فریق بھی  پسپا ہونے یا کسی بھی غلطی کا اعتراف کرنے پر آمادہ نہ ہو تو صرف ٹھنڈے سانس لینے سے مسئلہ کا حل تلاش کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ عارف علوی پہلے خود یہ اعتراف کریں کہ  وہ ایک آئینی عہدہ پر بیٹھ کر کیوں کر ایک خاص سیاسی پارٹی کے ترجمان بنے رہے ہیں اور   اپنا صدارتی کردار  کیوں عمران خان کی مرضی کے مطابق ادا کرنا ہی سب سے  اہم سمجھتے رہے ہیں۔ ان کے مضمون کی خوبصورت باتیں اسی وقت  بامعنی  ہوسکتی ہیں، جب وہ اس عمل میں بارش کا پہلا قطرہ بننے پر آمادہ ہوں۔ کسی تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے دوسروں پر الزام عائد کرنے کا طریقہ  ترک کرکے ، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ تب ہی فریق ثانی کو بھی اپنی غلطیاں ماننے  پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ عمران خان تو اب خود کو میدان جنگ میں  مزاحمتی فوج کا ’سپہ سالار‘ سمجھ رہے ہیں۔ لیکن جب ایک آئینی عہدے پر سرفراز صدر بھی  کسی مثبت انداز میں پیش قدمی  کرنے سے قاصر ہو تو حالات تبدیل کرنا آسان نہیں رہتا۔

صدر عارف علوی نے اسٹبلشمنٹ کی طرف سے پارٹیاں بنانے ، توڑنے اور ان کا تریاق تلاش کرنے کے پرانے طریقہ کا حوالہ بھی دیا ہے۔ گویا وہ یہ تسلیم کررہے ہیں کہ تحریک انصاف  ایک  مسلمہ   رویہ کے تحت ابھاری گئی اور اسے اقتدار تک لانے میں مدد فراہم کی گئی۔ اس عمل کو اب عمران پروجیکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔  اس منصوبے کو تیار کرنے اور  اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے والے کرداروں کے نام بھی اب  سامنے آچکے ہیں۔ یہ  معلومات بھی ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہیں کہ  عمران خان کو اقتدار دلانے کے لئے کیسے نواز شریف کی کردارکشی کی گئی اور عدالتی پلیٹ فارم  استعمال کرتے ہوئے انہیں سیاست سے باہر نکالنے کے منصوبے پر عمل کیا گیا۔ 

صدر عارف علوی کو  اگلی سمت کا سوال اٹھانے سے پہلے اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ کیا کبھی غلطیاں تسلیم کئے بغیر بھی کوئی درست حکمت عملی تیار ہوسکی ہے؟اور اگر صدر مملکت کو    منزل کھوٹی ہونے کا احساس ہو ہی گیا ہے تو کیا پاکستانی عوام کے سامنے مستقبل کا سوال رکھنے سے پہلے انہوں نے یہ سوال اپنے لیڈر عمران خان کے سامنے بھی رکھا اور انہیں مشورہ دیا کہ  اسٹبلشمنٹ کے سہارے سیاست کرنے کا انجام یہی ہوتا ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ اب تحریک انصاف بھی سیاسی کردار کی بات کرے۔ اور سیاسی پارٹیوں سے مذاکرات کا آغاز کرکے ملک میں جمہوری عمل جاری رکھنے اور مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ بنے۔ اگر عارف علوی اپنے لیڈر کو اس طرف آمادہ کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے اور اگر وہ خود غلطیوں کی طرف اشارے کرنے کے باوجود اپنی  کوتاہیاں ماننے پر آمادہ نہیں ہیں تو خود ہی بتائیں کہ مستقل کا منظر دیکھنے  کے لئے مطلع کیوں کر صاف ہوسکے گا؟

 صدر مملکت نے ٹھنڈے دل سے ماضی بھول کر مستقبل کی طرف دیکھنے کا مشورہ دیا  ہے اور ان کی پارٹی کے چئیرمین عمران خان نے بات چیت کو واحد راستہ بتایا ہے اور  کہا کہ ا ب بھی وقت ہے باہمی مشاورت سے مسئلہ حل کرلیا جائے۔ البتہ اس تقریر میں انہوں نے  جو گفتگو کی ہے، اسے اشتعال انگیزی کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔ اس حد تو عمران خان  کا یہ رویہ قابل فہم ہے کہ  ان کی  پارٹی کو حکومت اور اسٹبلشمنٹ نے نشانے پر لیا ہؤا  ہے  اور سینکڑوں کارکنوں اور  قائدین  کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کو ہراساں کرنے کا جو طریقہ  اس وقت دیکھنے میں آرہا ہے، وہ ریاست کی طاقت کے ناروا استعمال کا نمونہ ہے جسے کسی صورت  قبول نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جاسکتی کہ اس کا موقع خود عمران خان اور تحریک انصاف نے حکومت اور اسٹبلشمنٹ کو فراہم کیا ہے۔  کور کمانڈر کے گھر اور جی ایچ کیو پر حملے اور   اہم عسکری تنصیبات، یادگاروں اور شہدا کی علامات کو تباہ  یا نذر آتش کرنے کے مناظر پوری قوم کے  لئے رنج و صدمہ کا سبب بنے ہیں۔

تحریک انصاف کی قیادت  احتجاج کے اس مذموم طریقہ کی  مذمت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پہلے ان حملوں پر  خوشی و مسرت کے  شادیانے بجائے گئے ، پھر یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ کام بعض شرپسندوں نے کیا ہے ، پارٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اور اب کہا جارہا ہے کہ  یہ کارروائی ایجنسیوں نے کی تھی تاکہ تحریک انصاف کو گھیرا جاسکے۔  اس معاملہ پر بار بار مؤقف بدلنے کے باوجود  عمران خان نے  دوٹوک الفاظ میں ان حرکتوں کی مذمت نہیں کی۔  بلکہ یہ عندیہ  دیاکہ اگر انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا تو  ایک بار پھرایسا ہی رد عمل آئے گا۔

ملکی سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کے خلاف جد و جہد بھی عمران خان کی بیان بازی سے شروع نہیں ہوئی۔  لیکن   ہمیشہ  فوج کی سیاسی  منصوبہ بندی کو عسکری قیادت کی غلطی مانا گیا ہے اور  تمام سیاسی لیڈروں نے  دفاع وطن کے لئے افواج پاکستان کی خدمات اور قربانیوں کا  اعتراف کرنا ضروری سمجھا ہے۔ تاہم عمران خان اقتدار کی ہوس میں فوج کو ایک بار پھر شراکت پر آمادہ کرنے کے   جوش میں اس حد تک آگے چلے گئے کہ انہوں نے فوج  بطور ادارہ اور اس کے بعض لیڈروں  کے فیصلوں  میں  تمیز کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ اگر یہ عذر تسلیم بھی کرلیا جائے کہ  عسکری تنصیبات پر حملوں میں پارٹی قیادت شامل نہیں تھی تو بھی  جن عناصر نے یہ اقدام کیا وہ عمران خان کی اشتعال انگیز سیاسی تربیت ہی کی وجہ سے  اس حد تک جانے پر آمادہ ہوئے تھے۔ اب اس غلطی کو مان لینے اور متبادل حکمت عملی اختیار کرنے کا وقت ہے۔ لیکن تحریک انصاف کی طرف سے ایسا کوئی اشارہ دیکھنے میں نہیں آرہا۔

عمران خان سے  درخواست کی جاتی رہی ہے کہ  وہ باقی سیاسی پارٹیوں سے  مکالمہ کا آغاز کریں۔  موجودہ صورت حال سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے  اور الزام تراشی کی بجائے باہم مل کر ملکی آئین  کی حدود میں رہتے ہوئے   کوئی معاہدہ کیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان 2006 میں ہونے والا میثاق جمہوریت  اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ کسی نئے معاہدہ میں تحریک انصاف  شامل ہوسکتی ہے ۔ تاہم عمران خان  متبادل سیاسی پارٹیوں کو ’چور اچکوں‘ کا ٹولہ قرار دے کر ، خود فوج سے براہ راست معاملات طے کرنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں ایک بار پھر اقتدار مل جائے۔  اپنے تازہ بیان میں بھی انہوں نے موجودہ حکومت میں شامل جماعتوں پر الزام لگایا ہے کہ  وہ اپنی بدعنوانی چھپانے کے لئے فوج کو تحریک انصاف سے لڑوا رہی ہیں۔ یہ طرز عمل تبدیل  کرنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان  کو   تسلیم  کرنا ہوگا کہ    مذاکرات   میں سیاسی جماعتیں فریق  ہوتی ہیں، فوجی قیادت کو سیاسی مکالمہ کی دعوت نہیں دی جاتی۔  

ملک کی تمام سیاسی قوتیں مل کر ہی آئینی بالادستی کا کوئی روڈ میپ تیار کرسکتی ہیں۔ سب  سیاسی پارٹیاں ایک پیج پر ہوں تو  کوئی فوجی طاقت نہ تو آئین پامال کرسکتی ہے اور نہ ہی   پارٹیاں بنانے اور توڑنے کا طریقہ جاری رہ سکتا ہے۔ لیکن جب تک  فوج کے ساتھ مل کر ایک پیج بنانے کی خواہش پالی جاتی رہے گی، اس وقت تک  جمہوری نظام اور آئینی بالادستی بے معنی اصطلاحات  بنی رہیں گی۔  تمام سیاسی لیڈر اس آئینے میں اپنی صورت دیکھ سکیں تو صدر عارف علوی کے اس سوال کا جواب مل سکتا ہے کہ’ہم یہاں سے کس سمت میں جائیں‘۔