القادر ٹرسٹ کیس کی تحقیقات کے لئے عمران خان نیب میں پیش نہیں ہوئے
القادر ٹرسٹ کیس کی تحقیقات کے لیے سابق وزیر اعظم عمران خان جمعرات کے روز قومی احتساب بیورو میں پیش نہیں ہوئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دیتے ہوئے عمران خان کو تحقیقات میں شامل ہونے کی ہدایت کی تھی۔
نیب حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس ضمن میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر کے ملزم کی ضمانت کے اخراج سے متعلق درخواست دائر کریں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو دو ہفتے کی ضمانت دی تھی۔ عمران خان کو حکم دیا تھا کہ وہ اس معاملے میں ہونے والی انویسٹیگیشن کا حصہ بنیں اور نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوں۔
اس سےقبل سپریم کورٹ نے عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا تھا تو درخواست کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوں اور ایسا نہ ہو کہ ان کے نیب میں پیش نہ ہونے پر عدالت شرمندہ ہو۔
نیب کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ القادر ٹرسٹ کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے عمران خان کو پیش ہونے کا نوٹس بھیجا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ وہ جمعرات کو صبح دس بجے نیب ٹیم کے سامنے پیش ہوں۔
تفتیشی ٹیم کے ارکان نیب چیئرمین کو اس پیشرفت سے آگاہ کریں گے، جس کے بعد اس بارے میں مزید کارروائی کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ دوسری جانب القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی لیگل ٹیم کے سربراہ خواجہ حارث کا کہنا ہے کہ انہوں نے نیب کے حکام کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ 22 مئی کے بعد اس تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے۔
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نیب کی ٹیم بدھ کے روز لاہور میں عمران خان کی رہائشگاہ زمان پارک میں آئی تھی تو ان کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ عمران خان 22 مئی کے بعد اس مقدمے کی تفتیش میں شامل ہوں گے۔