پشاور ہائیکورٹ نے ایم پی او کے تحت گرفتار تمام افراد رہا کردیے
پشاور ہائیکورٹ نے عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاج میں تین ایم پی او کے تحت گرفتار تمام افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ رہا ہونے والے افراد کو پرامن رہنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کے پاس مچلکے جمع کرانے ہوں گے۔
نو مئی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار ہونے والے 108 افراد نے درخواستیں دائر کی تھیں جو منظور کر لی گئیں ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ میں ان درخواستوں کی سماعت جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس صاحبزاہ اسد اللہ نے کی۔
دوسری طرف تحریک انصاف چھوڑنے اور نو مئی کے واقعات کی مذمت کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اور وکیل بیرسٹر علی ظفر نے آرمی تنصیبات پر حملے کی مذمت کی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ وہ جناح ہاؤس اور دیگر حساس اداروں پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آرمی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے لیکن ہونی نہیں چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نارمل عدالتیں کام کر رہی ہیں، ان کیسز کو بھی انہی عدالتوں میں چلنا چاہیے۔ یہ سیاسی ایشو ہے۔