9 مئی کو سیاسی انتقام کا عذر نہ بنایا جائے!

گرفتاریوں، مقدموں، ضمانتوں کے جلو میں دھمکیوں اور الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔  تحریک انصاف  اگر عسکری تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے  گریزاں ہے تو حکومت 9  مئی کے واقعات کی   آڑ میں  سیاسی مخالفین کو عاجز کرنے  کے لئے کسی بھی حد تک جانے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ حالانکہ حکومتی اتحاد میں شامل پارٹیوں اور ان کے جہاں دیدہ لیڈروں کو بخوبی علم ہونا چاہئے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا۔

عمران خان اگر یہ بات سمجھنے سے قاصر رہے تو  اسےسیاسی معاملات اور امور حکومت سے ان کی عدم واقفیت کہا جاسکتا ہے۔  یا پھر اب وہ اپنی  ہٹ دھرم طبیعت کی وجہ سے   9 مئی کو رونما ہونے والے افسوسناک سانحات کی ذمہ داری پی ڈی ایم پر ڈالنا چاہتے ہیں  اور دعویٰ کررہے ہیں  کہ حکومتی پارٹیاں اپنی چوری چھپانے کے لئے فوج کے ذریعے تحریک انصاف کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔   یہ کہنا مشکل ہے کہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں میں اس بات پر کس حد تک اتفاق ہے کہ یہ اچھا موقع ہے اور تحریک انصاف کو بہر صورت ختم کردینا چاہئے۔ بعض انتہا پسند عناصر تو تحریک انصاف پر پابندی لگانے اور  عمران خان پر غداری کا مقدمہ چلانے کی تجاویز بھی دے چکے ہیں۔

حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے واقعات اور  فیصلوں کی ترتیب سے البتہ یہ واضح ہوتاہے کہ تحریک انصاف کے پر کاٹنے اور سبق سکھانے کا عمل   وفاقی کابینہ کی بجائے کہیں اور سے  شروع کیا گیا ہے۔ پہلے آئی ایس پی آر نے 9 مئی کو یوم سیاہ قرار دیا ، پھر آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے تواتر سے اس روز عسکری تنصیبات و مقامات پر ہونے والے حملوں میں ملوث عناصر کو نشان عبرت بنانے کا وعدہ کیا۔ کور کمانڈر کانفرنس میں آرمی چیف کے اس وعدے کو حمتی فیصلہ کی شکل دی گئی۔ وزیر اعظم کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس نے کور کمانڈر کانفرنس کے فیصلے کی توثیق  کرتے ہوئے   9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ میں ملوث عناصر کے خلاف   آرمی ایکٹ اور  اخفائے راز کے سرکاری ایکٹ کے تحت کارروائی کا حتمی فیصلہ کیا۔ ابھی تک وفاقی کابینہ کی طرف سے اس فیصلے کی باقاعدہ توثیق کا اعلان تو سامنے نہیں آیا لیکن وزیر اعظم ا ور کابینہ کے ارکان نے تندہی سے   تحریک انصاف کے  خلاف کارروائی کرنے کے  عزم کا اظہار کیا ہے۔   یوں قومی منظر نامہ پر ایک ہی  پکار سنائی دیتی ہے کہ  9 مئی کے واقعات میں ملوث عناصر، ان کی منصوبہ بندی کرنے والوں اور ان کے سرپرستوں  کو نشان عبرت بنایا جائے۔

تحریک انصاف کے  ہزاروں کارکنوں اور درجنوں لیڈروں کو پبلک مین ٹیننس آرڈی ننس کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ ہائی کورٹس  اگر بعض لوگوں کی ضمانت قبول کرتی ہیں تو انہیں از سر نو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ پنجاب میں نگران حکومت نے زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ کا محاصرہ کیا ہؤا ہے اور دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وہاں تیس چالیس دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں، انہیں حکومت کے حوالے کیا جائے۔ تحریک انصاف نے  اس کا جواب دینے  کے لئے میڈیا کے سامنے پولیس ارکان کی محدود تعداد کو زمان پارک میں عمران خان کے گھر کی تلاشی لینے  کی پیش کش کی ہے لیکن بظاہر حکومت کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔  حکومت  یہ  بنیادی نکتہ بھی سمجھنے سے انکار کررہی ہے کہ  موجودہ کشیدگی میں عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت کو ریاست کی شدید ناراضی کا سامنا ہے۔ ایسے میں وہ کیوں کر بعض ایسے لوگوں کو زمان پارک میں  ’پناہ ‘ فراہم کریں گے  جن  پر  9 مئی کے واقعات کا الزام عائد ہے یا  کسی نہ کسی طرح سے  ان  کی شناخت کی جاچکی ہے کہ  وہ  ایسی سرگرمیوں میں ملوث  تھے۔

ان حالات میں عمران خان کا یہ دعویٰ تو  درست معلوم نہیں ہوتا کہ وفاقی حکومت فوج کو بھڑکا کر تحریک انصاف کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے لیکن  یہ ظاہر ہے کہ اس  موجودہ کارروائی میں حکومت نے  مکمل طور سے  فوجی خواہش  پوری کرنے  کا  عزم کیاہے۔  پی ڈی ایم کے لیڈروں کو لگتا ہے کہ اگر اس دوران میں تحریک انصاف  کمزور ہوتی ہے یا اس کے بعض قائدین کو  سزائیں دے کر نااہل قرار دیا جاتا ہے تو اس میں اس کا فائدہ ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ   عام شہریوں  کو آرمی ایکٹ کے تحت سزائیں دینے  کا اعلان سامنے آیا ہے اور اس کی مخالفت میں اکا دکا بیان کے علاوہ حکومتی اتحاد کی طرف سے کوئی  مخالفت  دیکھنے میں نہیں آئی۔  حتی کہ تحریک انصاف کے رہنما اور وکیل   بیرسٹر علی ظفر نے بھی اعتراف کیا  ہے کہ  عام شہریوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے لیکن ایسا کرنا نہیں چاہئے ۔ کیوں کہ ملک میں  عدالتی نظام کام کررہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے البتہ آرمی ایکٹ کے تحت شہریوں پر مقدمے قائم کرنے اور سزائیں دینے کی مخالفت کی ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ ناجائز اور ناقابل عمل ہے ۔ اس سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ یہ بھی یقینی نہیں ہے کہ اعلیٰ عدلیہ ایسے اقدامات پر کیا رویہ اختیار کرتی ہیں۔ اس سے پہلے  آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملہ کے بعد  آئینی ترمیم کرتے ہوئے  ملک میں فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور دہشت گردوں کو ان عدالتوں سے  سزائیں بھی دلوائی گئی تھیں۔ البتہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے متعدد معاملات میں فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو مسترد بھی کیا تھا۔  اب فوجی عدالتیں موجود نہیں ہیں اور  حکومتی اتحاد کے پاس آئینی ترمیم کے لئے  پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت بھی موجود نہیں۔ اس صورت حال میں   شہریوں کے خلاف آرمی ایکٹ استعمال کرنے کے اعلانات کا سوائے اس کے کوئی مقصد دکھائی نہیں دیتا کہ  تحریک انصاف کے حامیوں کو ہراساں  و خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جائے۔

یا پھر  یہ امکان ہوسکتا ہے کہ اعلیٰ  سطح پر یہ منصوبہ  بنایا گیا ہو کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے بعض دیگر لیڈروں  پر دہشت گردی اور عسکری تنصیبات  پر  حملوں کی منصوبہ بندی  کے الزامات عائد کرکے خصوصی انتظام کے تحت کسی فوجی عدالت سے انہیں کڑی سزا دلوئی جائے۔ یوں ایک  بار پھر ایک اہم سیاسی قوت کو کمزور یا ختم کرنے کے منصوبے کا آغاز کیا جائے۔  عمران  خان ایسے اندیشوں کا  اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔   اس وقت ایک  خاص سیاسی پارٹی کو  زیر کرنے کے لئے   جو ہتھکنڈے اختیار کئے جارہے ہیں ، ان سے حالات بہتر ہونے کا امکان نہیں ہے۔ خاص طور سے ملک کی تجربہ کار سیاسی قیادت اس عمل میں  اسٹبلشمنٹ کے ساتھ  مل کر  خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ طریقہ ملک میں جمہوری عمل اور آئینی حکومت کے لئے مناسب نہیں ہے۔

9 مئی کے  واقعات میں ملوث افراد کو ضرور سزا ملنی چاہئے لیکن محض ایک دن کو یوم سیاہ قرار دے کر اور ایک پارٹی کو معتوب ٹھہرا کر ہزاروں کی تعداد میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں قابل قبول طریقہ نہیں ہے۔  عسکری تنصیبات پر ایک سیاسی پارٹی کے کارکنوں کے حملے  ایک مجرمانہ فعل تھا۔ البتہ اس قسم کے واقعات کو کسی سیاسی تحریک  کو دبانے کے لئے عذر کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہئے ورنہ سیاسی انتقام کے نعروں میں اصل  قصور واروں کے بچ نکلنے کا امکان بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے ضرور نفرت  پھیلائی ہے اور  مکالمہ کے ذریعے ملکی نظام کو مستحکم کرنے کی بجائے، اس نظام کو زور ذبردستی گرانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن  اس کا بہتر انداز میں جواب دینے  کے لئے سیاسی سرگرمیوں  کے لئے زمین تنگ کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی عام شہریوں کو  عتاب کا نشانہ بنانا چاہئے۔   تحریک انصاف کی طرح حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں پر بھی واضح ہونا چاہئے کہ  ملک میں اداروں کو ان کی حدود میں رکھنے اور آئینی  انتظام کو مستحکم کرنے کے لئے  تمام سیاسی قوتوں کو مل جل کر کام کرنا ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ حکومت تحریک انصاف کے خلاف انتقامی کارروائی کے تاثر کو غلط ثابت کرنے کے اقدامات کرے اور اور اگر عسکری قیادت اس وقت غصے میں ہے تو ان پر واضح کیا جائے کہ  معاملات کو قانون کے مطابق طے کرنے سے  ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔

اس وقت تصادم کی جو صورت حال دیکھنے میں آئی  ہے، وہ ماضی کی  لاتعداد غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ غلطیاں صرف سیاست دانوں  سے سرزد نہیں ہوئیں بلکہ عسکری اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں نے بھی  حالات بگاڑنے میں کردار ادا کیا ہے۔  تحریک انصاف کو ایک خاص طریقے  سے اقتدار میں لایا گیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ اسٹبلشمنٹ کو اب اس سیاسی پارٹی کے خلاف کھل کھیلنے کی اجازت دے دی جائے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ماضی میں عسکری قیادت کے عتاب کا نشانہ بن چکی ہیں لیکن جب تک عوام کسی پارٹی کی طاقت بنے رہیں گے، اس کا نام و نشان بنانا ممکن نہیں ہوتا۔  ماضی میں متعدد بار ایسے تجربے کئے جاتے رہے ہیں  ۔ اب ملک ویسے ہی تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

فوج اگر سیاسی معاملات میں مداخلت کے منفی نتائج سے  آگاہ ہوچکی ہے  تو  اسے مستقل طور سے سیاسی  انجینئرنگ  سے    اجتناب کرنے  کی ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی ۔ اس عمل میں حکومت کو   عسکری قیادت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ کوئی بھی دوسرا طریقہ ملکی مفاد میں نہیں ہوگا۔  ملک میں جاری سیاسی بحران کی وجہ سے  معیشت مسلسل دباؤ کا شکار ہے اور اب فوج کو براہ راست  سیاسی عمل میں  فریق بنانے سے ملک کی دفاعی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ پاکستان دہشت گردی اور سرحدوں کی موجودہ صورت حال میں اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔  9   مئی کے واقعات میں اگر تحریک انصاف کی قیادت کا کردار ہے تو  فوج کے اندر سے بھی بعض عناصر  کا کردار بھی  قابل تحسین نہیں رہا۔ فوجی قیادت کو  ایک سیاسی  پارٹی کو نشانہ بنانے کی بجائے،  ادارے کے اندر ان عناصر کو  بھی کٹہرے میں لانا چاہئے جن کے تساہل ، سیاسی ایجنڈے یا کسی دوسری وجہ سے 9 مئی کو عسکری تنصیبات کی حفاظت نہیں کی جاسکی۔ محض یہ کہہ دینے سے عوام کی تسلی نہیں ہوگی کہ فوج نے اس وقت ’صبر و تحمل کا مظاہرہ کرکے دشمن کی سازش کا ناکام بنایا تھا‘۔  

9 مئی کے واقعات  پوری قوم کو یاددہانی کرواتے ہیں کہ   اداروں کی طرف سے سیاست میں مداخلت  سے کوئی بڑا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ اب فوج نے افتراق و انتشار کے شعلے خود اپنی طرف بڑھتے دیکھ لئے ہیں۔    اس مرحلے پر حکومت ، سیاسی پارٹیاں ، فوج اور عدلیہ کو یکساں طور سے ذمہ داری کا  مظاہرہ کرنا ہوگا۔  نہ ماضی کی غلطیاں دہرائی جائیں اور نہ کوئی ایک شعبہ دوسرے کے کام میں مداخلت کا  ارادہ ظاہر کرے۔  اگر اب بھی  یہ سبق حاصل نہ کیا گیا تو ملک کے مستقبل پر مایوسی کے سائے گہرے ہوتے جائیں گے۔