جنرل عاصم منیر پر امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد کے الزامات

سابق امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد نے  ٹوئٹ پیغامات کے ایک نئے سلسلہ میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی  قائدانہ صلاحیت پر سوال اٹھاتے  ہوئے  انہیں پاکستان جیسے بڑے  اور اہم ملک کی فوجی قیادت کے نااہل قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ  وہ یہ بات سیالکوٹ میں کی جانے والی  جنرل عاصم منیر کی ایک تقریر کے حوالے سے کہہ   رہے ہیں کیوں کہ اس میں انہوں نے    گھٹیا زبان استعمال کی ہے اور دھمکیاں دی ہیں۔

خلیل زاد نے دعویٰ کیا ہے کہ  سیالکوٹ میں منعقد ہونے والے اس  خفیہ اجلاس میں جنرل عاصم منیر نے گھٹیا زبان استعمال کرتے ہوئے سیاسی مظاہرے کرنے والے عناصر کے اہل خاندان کو دھمکیاں دیں۔ اس کے علاوہ  یہ اعلان بھی کیا کہ اگر   وہ ڈوبے تو دوسروں کو بھی ساتھ لے ڈوبیں گے۔   اس تقریر کا حوالہ دینے کے بعد زلمے خلیل زاد نے  نتیجہ اخذ کیا ہے کہ  ’جنرل عاصم  منیر میں ایک اہم ملک کی فوج کی قیادت کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔  ایسا کمزور،  ناراض اور اپنی ذات  کو مقدم رکھنے والے کسی شخص کو جوہری ہتھیاروں کی ذمہ داری نہیں سونپی جاسکتی۔ کسی ملک کی فوج ایک اہم ادارہ ہوتی ہے۔ اس کی قیادت کسی نرم خو، معتدل مزاج ،ذمہ دار اور سیاسی طور سے غیر جانبدار شخص کے پاس ہونی چاہئے‘۔

زلمے خلیل زاد ایک منجھے ہوئے امریکی سفارت کار ہیں ۔ وہ ستمبر 2018 سے اکتوبر 2021 کے دوران افغانستان کے لئے امریکہ کے نمائیدہ خصوصی کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ ان  ہی  کی نگرانی میں امریکی وفد نے دوحہ میں افغان طالبان سے مذاکرات کے بعد امن معاہدہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں امریکی افواج  افغانستان سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں۔  اس حیثیت میں انہیں پاکستانی قیادت اور فوجی لیڈروں کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ بھی حاصل ہؤا ہے۔ اس کے علاوہ سفارت کاری کے طویل دورانیے میں بھی انہوں نے ضرور  سیکھا ہوگا کہ کس لیڈر کے کس بیان کو کس تناظر میں دیکھنا چاہئے اور کس رپورٹنگ کو قابل اعتبار سمجھنا چاہئے۔ تاہم   ٹوئٹ پیغامات کے تازہ سلسلہ میں اس تجربہ، مشاہدہ یا مہارت کو پیش نظر رکھنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔  بلکہ  اس بیان سے  جنرل عاصم منیر کی کردار کشی کرتے ہوئے پاکستان کو ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔  ایک امریکی سفارت کار کی یہ حرکت افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

حیرت ہے کہ  یہ سطور لکھنے تک  پاکستان کی وزارت خارجہ، آئی ایس پی آر یا کسی سیاسی پارٹی کی طرف سے امریکی سفارت کار کے اس  نفرت انگیز اور  صریحاً پروپیگنڈے پر مبنی بیان کو مسترد  نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی اس کی مذمت کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر البتہ اس بیان کو بنیاد بنا کر پاکستان مخالف  بیان بازی اور تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔  کسی بھی شخص کو پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات پر رائے  ظاہر کرنے کی آزادی حاصل ہے اور ہر شخص حالات کو اپنی مخصوص کوتاہ بینی یا وسیع النظری سے دیکھنے میں بھی آزاد ہے۔  لیکن کسی سفارت کار کو ذاتی نفرت کے اظہار کے لئے کسی ایسی رپورٹنگ کا سہارا لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جسے وہ خود ہی  ’خفیہ میٹنگ میں کی گئی تقریر‘  قرار دیتے ہیں۔  انہوں  نے یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ  اس تقریر کا متن انہیں ’قابل اعتبار ‘ ذرائع سے موصول ہؤا ہے۔

زلمے خلیل زاد کوئی اخباری رپورٹر  نہیں ہیں کہ اپنے ’سورس‘ کو خفیہ رکھنے کے پابند ہوں۔ اگر انہیں پاکستانی سیاست، آرمی چیف، ان کی باتوں اور شخصیت پر تبصرہ کرنے کا اتنا ہی شوق تھا تو انہیں ان ذرائع کا حوالہ بھی دینا چاہئے تھا جن کے ذریعے  ان تک جنرل عاصم منیر کی تقریر کے یہ مندرجات پہنچے ہیں۔  بالفرض اگر ان تک کسی ایسے ذریعے سے اطلاع پہنچی ہے جسے  وہ قابل اعتبار سمجھتے ہیں، پھر بھی ایک تجربہ کار سفارت کار اور علاقائی امور کے ماہر کے طور پر انہیں ان باتوں کو  وسیع تر تناظر میں پرکھنے اور جانچنے کی ضرورت  تھی۔  لیکن انہوں نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی اور نہ ہی ان اطلاعات کو پاکستانی حکام تک پہنچا کر یہ مشورہ دینے کی ضرورت محسوس کی کہ اگر  یہ رپورٹنگ درست ہے تو  اس سے پاکستان کی شہرت  متاثر ہوگی اور عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کے استحکام کے بارے میں سوال اٹھائے جائیں گے۔   اس کی بجائے انہوں نے  تواتر سے ٹوئٹ کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر کی کردار کشی    کرنا ضروری سمجھا۔ اس رویہ سے انہوں نے پاکستان کے ہمدرد یا دوست کی بجائے خود کو پاکستان دشمن حلقوں کا نمائیندہ ثابت کیا ہے۔   ایک شدید بحرانی صورت حال میں پاکستانی فوج کے سربراہ پر براہ راست الزام تراشی سے  صرف پاکستان سے بغض و عناد رکھنے والے عناصر   ہی اطمینان اور خوشی محسوس کریں گے۔  خلیل زاد  کا تازہ ٹوئٹ بیان پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے اور عالمی سطح پر اس کا امیج خراب کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔

ملکی سیاست میں پاک فوج کے کردار پر تنقید یا نکتہ چینی  جائز اور درست رویہ ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ تاریخی حوالوں اور حقائق کی بنیاد پر سیاست میں پاکستانی فوج کی مداخلت پر رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ کوئی بھی جمہوریت پسند سول معاملات میں کسی عسکری قوت کو فیصلہ کن اختیار دینے کو جائز اور درست طریقہ نہیں مانتا۔ پاکستان میں اس وقت  فوج کی حکومت نہیں ہے بلکہ پاک فوج  کی قیادت  تواتر سے یہ اعلان کرتی رہی ہے کہ  وہ سیاست  میں  عدم مداخلت کی پالیسی اختیار  کئے ہوئے ہے۔  پاک فوج نے ’عمران پراجیکٹ ‘ کے تحت  تحریک انصاف کو اقتدار رتک  پہنچانے میں کردار ادا کیا اور پھر ساڑھے تین سال  عمران خان کی ناقص حکمرانی کو سہارا  دینے کی کوشش کی۔ تاہم جب  یہ منصوبہ کسی طور بھی اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا تب ہی اپوزیشن پارٹیوں نے مل کر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کروائی۔ 

فوج کو اس منصوبہ کی ناکامی  سے ہی شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا  جس کا اظہار سابق آرمی چیف جنرل  باجوہ کی طرف سے سیاسی معاملات میں فوج کی عدم  دلچسپی کا اعلان کرکے کر دیا گیا تھا۔ تاہم عمران خان نے اپوزیشن میں ایک سال کے دوران فوج کو بلیک میل کرنے اور دباؤ میں لانے کے  لئے متعدد  ہتھکنڈے اختیار کئے اور  جھوٹ سچ کو ملا کر اپنے مداحوں کو گمراہ کرنے کا کام کیا۔ اسی کے  نتیجہ میں 9  مئی کے افسوسناک واقعات دیکھنے میں آئے۔ اس روز ہونے والے جلاؤ گھیراؤ کی سنگینی ہی کی وجہ سے فوج نے اس دن کو یوم سیاہ قرار دیا ہے۔ ان حالات میں  پاک فوج کی قیادت نے یقیناً یہ سبق سیکھا ہوگا کہ سیاسی انجیئنرنگ کا پرانا  طریقہ ناکام ہوچکا ہے۔ اس طریقہ پر عمل کرنے سے بدنامی اور خرابی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

جنرل عاصم منیر کی  ’خفیہ اجلاس میں تقریر‘ کا حوالہ دے کر  ان پر جو الزامات لگائے گئے ہیں ،  انہیں اگر پاکستانی فوج کی تربیت کے طریقہ کار اور جنرل عاصم کے  سروس ریکارڈ کے ساتھ ملاکر جانچنے  کی کوشش کی جائے تو دودھ کا دودھ  اور پانی کا پانی ہوسکتا  تھا۔ لیکن خلیل زاد نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ عام عقل کا انسان بھی جان سکتا ہے کہ کسی فوج کا سربراہ خواہ جتنا بھی ناراض  یا برہم ہو، وہ کبھی   برسرعام  اس کا اظہار نہیں کرے گا۔ وہ ایک ناپسندیدہ صورت حال تبدیل کرنے کے لئے حکمت عملی ضرور تیار کرے گا تاکہ اس مشکل سے نکلا جاسکے لیکن  کسی اجلاس میں اخلاقیات  سے گری ہوئی گفتگو کے ذریعے اپنا غصہ ظاہر نہیں  کرے گا۔ یہ قیاس کرنا بھی ممکن نہیں ہے کہ پاک فوج کے سربراہ   سیاسی لیڈروں کے بارے میں بیان بازی کریں گے اور انہیں دھمکیاں دیں گے کجا کہ  ان سے یہ بات منسوب کی جائے کہ انہوں نے مخالفین کے بیوی بچوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے ۔ اور ان کے لب و لہجہ کے بارے میں  کہا جائے  کہ  انہوں نے  مخالفین کے  بارے میں ’ گٹر  لینگوئج‘ استعمال کی۔  اس قسم کا تصور کسی خلیل  زاد کے دماغ کا فتور تو ہوسکتا ہے تاکہ پاکستان کو بدنام  اور کمزور کرنے کا  موقع ہاتھ سے نہ  جانے دیا جائے۔

زلمے خلیل زاد  گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان کی صورت حال  پر  ٹوئٹ بیانات کے ذریعے مسلسل تبصرے کرتے رہے ہیں۔ ان ٹوئٹ تبصروں میں صاف طور سے عمران خان اور تحریک انصاف کو سیاسی حمایت پہنچانے کی کوشش کی  جاتی رہی ہے۔ اس  حد تک یہ طریقہ قابل اعتراض نہیں ہے کیوں کہ  یہ تبصرے ذاتی حیثیت میں کئے گئے ہیں اور  انہیں امریکہ کی سرکاری پالیسی قرار نہیں دیاجاسکتا۔  روزنامہ ڈان کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے پاکستان میں اس دلچسپی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا ہےکہ یہ بحران پورے خطےے کے لئے خطرناک  ثابت ہوسکتا ہے ، اسی لئے وہ اس صورت حال  سے  پریشان ہیں ۔  ان کے خیال میں  ’پاکستان معاشی، سیاسی اور سکیورٹی بحران کا شکار ہے۔ تین شعبوں میں جاری اس  بحران کے نتیجہ میں پاکستان عدم استحکام کا شکار ہوگا، غریب تر اور غیر محفوظ ہوجائے گا‘۔ وہ اسی تشویش کی وجہ سے پاکستانی حالات پر تبصرہ کرتے ہیں تاکہ پاکستانی حکام بروقت حالات پر قابو پاسکیں۔ اور اس خطہ میں کسی نئی جنگ کی صورت پیدا نہ ہوجائے۔  ڈان سے کی گئی گفتگو میں انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ موجودہ حالات میں کوئی دشمن ملک  بھی پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرسکتا ہے یا یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستانی فوج خود ہی داخلی مسائل سے نمٹنے کے لئے سرحدی تنازعہ شروع کردے۔ ایسے کسی تصادم کے تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

زلمے خلیل زاد کی ان باتوں کو صرف اسی صورت میں متوازن اور نیک نیتی پر استوار کہا جاسکتا تھا اگروہ پاک فوج پر بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ نہ کرتے اور جنرل عاصم منیر کی کردار کشی کے لئے مہم جوئی سامنے نہ آتی۔  ان کا تازہ ٹوئٹ  بیان  ایک مشکل وقت   میں پاکستان کو کمزور  اور  عالمی سطح پر اس کی شہرت خراب کرنے کی مذموم کوشش ہے۔   پاکستان کو اس بیان کا سخت نوٹس لینا چاہئے۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ایک غیر ملکی سفارت کار   کی طرف سے  آرمی چیف کو بدنام کرنے کی اس روش کی  مذمت کرنی چاہئے۔

پاکستان کا سیاسی تنازعہ اس ملک کے لوگوں کا داخلی معاملہ ہے۔  کسی دوسرے ملک  کی طرف سے اس بحران کو کسی خفیہ  ایجنڈے کی تکمیل کے لئے  استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پاکستان کی سب سیاسی  قوتوں کو سمجھنا چاہئے کہ ان کا وجود پاکستان کا مرہون منت ہے۔ اگر کچھ قوتیں پاکستان کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہیں تو اس کا جواب  سب اہل پاکستان کو متحد اور یک آواز ہوکر  دینا چاہئے۔