پاکستان سے بہتر ہمسایوں والے تعلقات چاہتے ہیں: نریندر مودی

  • ہفتہ 20 / مئ / 2023

کی خواہش ظاہر کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور دشمنی سے پاک ماحول قائم کرنے کی ذمے داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔

رواں ماہ بھارتی ریاست گوا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقعے پر پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ دہشت گردی کا مسئلہ پوری دنیا کے لیے چیلنج ہے اور اسے سفارتی پوائنٹ اسکورنگ کے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس بیان پر بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنگر نے اپنے ردِ عمل میں بلاول بھٹو زرداری کو دہشت گردوں کا ترجمان قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ, تنازع کا باعث رہا ہے۔ بھارت پاکستان دونوں ہی ایک دوسرے پر دراندازی اور اپنے خلاف دہشت گردی کی معاونت کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔

اسی طرح بھارت اور چین کے درمیان گزشتہ دو برسوں سے لداخ میں سرحدی تنازع جاری ہے جس کے نتیجے میں دونوں جانب جانی نقصان بھی ہوچکا ہے۔ نریندر مودی نے چین سے سرحدی تنازع کے بارے میں کہا ہے کہ بھارت اپنی خود مختاری اور وقار کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ چین سے دو طرفہ تعلقات کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و اطمینان ضروری ہے۔

بھارت کے وزیرِ اعظم مودی کا ہمسایوں سے تعلقات کے بارے میں بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ ترقی یافتہ ممالک کے جی سیون گروپ میں شرکت کے لیے جاپان کے شہر ہیروشیما میں موجود ہیں۔

اگرچہ بھارت اس گروپ کا رکن نہیں ہے تاہم اجلاس میں نریندر مودی، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی، برازیل، انڈونیشیا، جنوبی کوریا اور یورپی یونین کے نمائندے بھی شریک ہورہے ہیں۔ جی سیون کے مطابق غیر رکن ممالک کو دعوت دینے کا مقصد روس کے گرد سفارتی و معاشی طور پر گھیرا تنگ کرنے اور دیگر عالمی چیلنجز کے مقابلے کے لئے تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔

انٹرویو میں روس اور یوکرین کے درمیان تنازع میں ثالثی کے سوال پر نریندر مودی نے کہا کہ اس معاملے پر بھارت کا موقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔ بھارت امن کا طرف دار ہے اور اسی جانب رہے گا۔