آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان

  • ہفتہ 20 / مئ / 2023

وفاقی حکومت نے عدلیہ اور ججز سے متعلق مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے تین رکنی عدالتی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا ہے۔ کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن کابینہ ڈویژن سے جاری کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حال ہی میں قومی الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر عدلیہ، سابق چیف جسٹسز و ججوں کی گفتگو سے متعلق گردش کرنے والی متنازع آڈیوز نے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹسز وججوں کی غیر جانبداری، آزادانہ اور دیانت داری سے فیصلے کرنے کی صلاحیت کے حوالےسے سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

عوامی مفاد میں عدلیہ کی ساکھ اور عوام کا اس پر بھروسہ اوراعتماد بحال کرنے کے لیے ان آڈیو لیکس کی صداقت اور درستی کی تحقیقات کرنا لازم ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کی دفعہ 3 کےتحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے حکومت پاکستان ان مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دے رہی ہے۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کمیشن کے سربراہ جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر اعوان اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اس کے اراکین میں شامل ہیں۔ نوٹیفکیشن میں درج کمیشن کے ٹی او آرز کے مطابق کمیشن آڈیو لیک اور اس کے عدلیہ کی خود مختاری پر اثرات کا جائزہ لے گا۔

کمیشن مبینہ طور پر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور ایک وکیل کے درمیان سپریم کورٹ کے ایک حاضر جج سے متعلق آڈیو لیکس کی تحقیقات کرے گا۔ اس کے علاوہ سابق وزیراعلی اور وکیل کے درمیان مخصوص بینچز کے سامنے مقدمات سماعت کے لیے مقرر کرنے کی تحقیقات بھی کی جائیں گی۔

ٹی او آر کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ اور سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی مبینہ آڈیو لیکس کے علاوہ سابق چیف جسٹس سے متعلقہ مبینہ آڈیوز کی تحقیقات بھی کی جائیں گی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے بینچ کے متوقع فیصلے سے متعلق ایک صحافی کی ایک وکیل کے ساتھ، سپریم کورٹ میں زیر التوا کیسز سے متعلق چیف جسٹس آف پاکستان کی خوشدامن کی ایک وکیل کی اہلیہ کے ساتھ اور سابق چیف جسٹس کے بیٹے کی اپنے دوست کے ساتھ اپنے والد کے سیاسی کردار سے متعلق گفتگو کی مبینہ آڈیو لیکس کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل پاکستان کمیشن کی معاونت کریں گے اور اسے درکار تمام مواد اور دستاویزات بھی فراہم کریں گے۔ حکومت نے ہدایت کی وفاق میں موجود تمام اتھارٹیز اور صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ کمیشن کے کام میں اس کی معاونت کریں اور اس کی جانب سے کسی ہدایت کی صورت میں اس کی تعمیل کریں۔

کمیشن کو وفاقی حکومت کے خرچے پر سیکریٹریٹ قائم کرنے اور سیکریٹری تعینات کرنے کا بھی اختیار ہوگا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیشن 30 روز میں تحقیقات مکمل کرے گا تاہم اگر کمیشن کو تحقیقات کے لیے مزید وقت چاہیے ہوا تو وفاقی حکومت مزید وقت فراہم کرے گی۔