توہینِ پارلیمنٹ کا بل اور فوجی عدالتیں
- تحریر عابد حسین عابد
- ہفتہ 20 / مئ / 2023
خبر ہے کہ قومی اسمبلی میں توہینِ پارلیمنٹ کا بل پاس ہو گیا ہے۔ اب کوئی شخص یا ادارہ پارلیمنٹ کی توہین کرے گا تو اس پر بھی حد لاگو ہو گی۔ اس سے پہلے عدالت کی توہین اور فوج کی تضحیک کرنے کا قانون بھی موجود ہے جو اسی پارلیمنٹ نے منظور کر رکھا ہے۔
کیا ہی اچھا ہو کہ ملکی اداروں کے ذمہ دار افراد کی جانب سے ریاست کے شہریوں کی توہین یعنی توہینِ عوام کا قانون بھی بنا دیا جائے۔ لیکن یہاں عام انسان کی تضحیک کا بل کبھی پاس نہیں ہو سکے گا۔ کیوں کہ عام انسان مراد عوام ان اداروں میں پہنچ ہی نہیں پاتے۔ لہذا کوئی ان کی توہین کا بل کیوں کر پاس کرے گا۔ کسی بھی جمہوری ملک میں سول عدالتوں کے ہوتے ہوئے فوجی عداتیں بنانا کسی بھی طرح نیک نامی کا باعث نہیں۔ عام شہریوں کے مقدمات سول کورٹس میں اوپن ٹرائل کے تحت ہی سنیں جائیں تو بہتر ہے۔
یہ طے ہے کہ کسی مہذب معاشرے میں کوئی بھی شخص فوجی عدالتوں کی حمایت نہیں کر سکتا۔ یہ مطالبہ ہم نواز شریف اور عمران خان کے دورِ حکومت میں بھی کرتے تھے کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کو اوپن کورٹ میں ٹرائل کرکے سزائیں دیں۔ آخر ہمارا عدالتی نظام کس مرض کی دوا ہے۔ جب جج ملزمان سے ڈر کر انہیں سزا نہ دیں تو پھر ایک ہی آپشن رہ جاتا ہے جو ملٹری کورٹ کا ہے۔ اسی لیے پھر کچھ افراد کو ملڑی کورٹ سے سزائیں بھی ہوئیں۔ یاد رہے خود عمران خان کا بطور وزیراعظم ملٹری کورٹ کے حق میں بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔
آج تک کسی جج کو مس کنڈکٹ، خلاف آئین فیصلہ دینے ، رشوت لینے اور اقربا پروری میں سزا نہیں ہوئی۔ اگر جوڈیشل کمیشن میں کوئی کیس لگا بھی تو جج صاحب مستعفی ہو کر چلے گئے تاکہ پینشن و مراعات بچائی جا سکیں اور سزا سے بچا جائے۔ اسی طرح کھلم کھلا سیاست میں ملوث جرنیلوں پر بھی ان کے اپنے ادارے نے کبھی کورٹ مارشل نہیں کیا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو ادارے کی عزت و تکریم میں اضافہ ہی ہونا تھا۔ مگر آج تک سیاست میں ملوث کسی جنرل کو سزا نہیں ہوئی۔
مگر کیا کیا جائے موجودہ حالات کو اس نہج پر لانے میں سارا قصور ہی جج صاحبان کا ہے۔ جنہوں نے واضح جانبداری کا ثبوت دیتے ہوئے ریاست کو مجبور کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل کریں، جنہوں نے فوجی تنصیبات اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ جو ہر حوالے سے قابلِ مذمت ہے۔ جب اعلی عدالتوں کے جج آئین کی من پسند تشریح کرنے لگیں۔ آئین اور قانون سے ماورا فیصلے دینے لگیں۔ جیسا کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو لا محدود رعائتیں دیں۔ ضمانتوں کے ڈھیر لگا دیے گئے۔ ریمانڈ کے دوران کسی ملزم کو ضمانت نہیں دی جاتی۔ عمران کو دی گئی بلکہ کیس ہی نئے سرے سے سننے کو کہا گیا۔ ان کیسوں پر بھی ضمانت دے دی گئی جو جرم ابھی ہوا ہی نہیں۔ عدالت کے احاطے سے گرفتار نہ کرنے کا حکم اور رات بطور مہمان ہمراہ دس افراد رکھنے کی سہولت بھی دی گئی۔ جس کی اس سے پہلے نظیر نہیں ملتی۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا ایسے ججوں کے خلاف کارروائی ہوتی، انہیں ملازمت سے فارغ کیا جاتا تاکہ قانون کے رستے میں کوئی رکاوٹ نہ بنے۔ الٹا عدالت ہی بدل کر ملٹری کورٹ بنا دی گئی۔ حقیقت یہ ہے جب ملزمان کو پتہ ہو کہ انہیں دو طاقتور اداروں کے اندر بیٹھے لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ بیرونِ ملک میں مقیم لوگ، ریٹائرڈ جرنیلوں کی تنظیم اور امریکہ بھی ان کے حق میں آواز اٹھا رہا ہے۔ تو پھر انہیں آپ کوئی بڑا جرم کرنے سے بھی نہیں روک سکتے۔ انہیں یقین تھا کہ انہیں کچھ نہیں ہوگا۔ یہی پی ٹی آئی کے ورکروں سے ہوا۔ اگر زمان پارک واقعے کے بعد انہیں پکڑ کر جیلوں میں ڈال دیا جاتا جنہوں نے پولیس کی ٹکا کے درگت بنائی، ان پر پٹرول بم پھینکے، غلیلوں سے بنٹے داغے اور ان کی گاڑیاں جلائیں۔ تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا کہ وہ مخصوص عمارتوں اور شہدا کی یادگاروں پر حملہ آور ہوتے۔
بلکہ انہیں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔ یہ جملے بھی سننے کو ملے کہ دیکھا جن کو آپ برگر کہتے تھے وہ کس بہادری سے لڑے۔ جو کام آج تک بائیں بازو کے ورکر اور پیپلز پارٹی سمیت کسی بھی پارٹی کے کارکن نہ کر سکے پی ٹی آئی کے کارکنوں نے کر دکھایا۔ اب سچی بات یہ ہے روتی ہوئی مائیں، عورتیں، بچے اور گرفتاری سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے لیڈر دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ عمران خان نے اپنے ورکروں کو نفرت سیکھائی سیاسی تربیت نہ کی۔ جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ فوج اور عدلیہ کی سیاست میں مداخلت پر سیاسی پارٹیاں احتجاج کرتی آئی ہیں۔ جس پر سیاسی لیڈروں اور ورکروں نے طویل جیلیں کاٹیں۔ پھانسیوں پر چڑھے، کوڑے کھائے، شاہی قلعے میں بند رہے مگر ان کا احتجاج اس نوعیت کا نہیں تھا جو پی ٹی آئی کے ورکروں نے کیا۔ ہر بڑے شہر میں مخصوص عمارتوں اور یادگاروں کو ایک منصوبہ بندی کے تحت ٹارگٹ کیا گیا۔ شہدا کی یادگاروں کی تذلیل کی گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی غلط حکمتِ عملی کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کمزور نہیں پہلے سے زیادہ طاقتور ہو گئی ہے۔
عام لوگ سیاست سے بد دل ہو کر سیاسی عمل سے لا تعلق ہو جائیں گے۔ جس سے جمہوریت مزید کمزور ہو گی۔ اگر عمران خان دوسری پارٹیوں کے لیڈروں کی طرح خود کو قانون کے حوالے کر دیتے، مقدمات کا سامنا کرتے تو کوئی قیامت نہ برپا ہو جاتی۔ وہ بھی ان مقدمات سے بری ہو جاتے جیسے دوسرے سیاستدان ہوئے۔ لیکن افسوس انہوں نے معصوم لوگوں کو ڈھال بنا کر انہیں بھی مصبیت میں مبتلا کیا اور خود بھی اکیلے رہ گئے۔ ترکی میں لوگ فوجی بغاوت میں باہر ضرور نکلے، ٹینکوں کے آگے بھی لیٹ گئے لیکن انہوں نے ٹینکوں کو آگ نہ لگائی۔ یہ بات عمران خان کو اپنے کارکنوں کو سمجھانی چاہیے تھی۔
جس ملک کے لوگ اپنے ہی ملک کے سکیورٹی اداروں پر باقاعدہ حملہ آور ہو جائیں، اسے کسی دشمن کی کیا ضرورت ہے۔ حکومت اور ہمارے سکیورٹی اداروں کو چاہیے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے مقدمات سول عدالتوں میں چلائیں۔ انہیں ان کے جرم کی جو سزا بنتی ہے، وہ ضرور دیں۔ اس سے پاکستان کے دشمنوں کو بے جا تنقید کا موقعہ بھی نہیں ملے گا اور اداروں پر اعتماد کی فضا بھی بحال ہو گی۔
آخر میں عرض ہے یہ ملک سب کا ہے۔ سب مل کر اس کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر عوام کی ضرورتوں کا خیال نہیں رکھا جائے گا، انہیں ان کے آئینی حق سے محروم رکھا جائے گا تو بھوک، ننگ و افلاس اور مہنگائی کے مارے عوام میں بے چینی اور بڑھے گی۔ جو کسی بھی لحاظ سے نیک شکون نہیں ہے۔