عجب گورننس کی غضب کہانی
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 20 / مئ / 2023
آج کل جسے دیکھو چیٹ جی پی ٹی اور اسی قسم کے دیگر سافٹ وئیرز کا ذکر کرتے نہیں تھکتا۔ کچھ بندگان خدا مہربانی کرتے ہیں کہ اس کا ذکر ایک سائینسی تخلیق کے طور پر کرتے ہیں جسے عرفِ عام میں مصنوئی ذہانت کہا جاتا ہے۔
البتہ بہت سے احباب دھمکانے کے انداز میں اس کی شان بیان کرتے ہیں کہ میاں اب انسان کو کتابوں اور ریسرچ کی جھنجھٹ کی حاجت نہیں رہی۔ چیٹ جی پی ٹی سے تعلق گانٹھئیے اور چند سیکنڈز میں ہر سوال کا شافی جواب پائیے۔ کچھ احباب چیٹ جی پی ٹی اور اس قبیلے کی دیگر اقسام کے عام ہونے سے معاشرے پر مضر اثرات کا ذکر کرتے ہیں اور چتاونی دیتے ہیں کہ انسان کی اس تخلیق کو ابھی سے قوانین کی باگ اور ضابطوں کی کاٹھی ڈال لیں ورنہ یہ اکھڑ گھوڑا جب بگٹٹ دوڑا تو ہاتھ نہیں آئے گا۔
امریکی کانگریس میں اسی ہفتے اس ٹیکنالوجی کو بنانے سنوارنے والے اور چہرہ مہرہ دینے والے حضرات سے پوچھ گچھ ہوئی۔ حاصل کلام یہی تھا کہ ہم نے اسے بنا سنوار کر میدان میں اتار تو دیاہے لیکن اب اسے میدان میں باگ کے بغیر دوڑانا ہے یا باگ سمیت۔ یہ اب حکومتی اور ریگولیٹرز سرپنچوں کا کام ہے وہ جانیں اور ان کا کام۔مصنوعی ذہانت کے فضائل سنتے ہمیں یاد آیا کہ کافی سالوں سے کمپیوٹر اور سافٹ وئیر ٹیکنالوجی کے مہان لوگوں سے یہی سنا کہ جس رفتار سے یہ اور اس کی رشتہ دار ٹیکنالوجیز جوان ہو رہی ہیں، بہت جلد انسان کو اپنی جان کے لالے پڑ جائیں گے۔ بکرے کی ماں کے پاس خیر منانے کے لئے زیادہ وقت نہیں۔ مشہور سائنسدان سٹیفن ہاکنگ بھی یہی پیشین گوئی کر گئے ہیں کہ انسانی نسل کی بقاء کو سب سے زیادہ خطرہ حضرتِ انسان سے ہی ہے۔
پل کی پل میں منظرتبدلی کا یہ پہلا واقعہ بھی نہیں ہے۔ ہمیں یاد آیا کہ جب کمپیوٹر عام ہوا تو حساب کتاب اور انسانی محنت کے بہت سے کام اس نے سنبھال لئے تو بھی یار لوگوں نے ایسے ہی ڈراوے دئیے۔ بلا شبہ کمپیوٹر کی ترویج اور سافٹ وئیرز کی نت نئی ایجادات نے انسان کی زندگی آسان کر دی ہے۔ تاہم اس کے باوجود اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ حضرتِ انسان کے مسائل اور پریشانیوں میں اس کے باوجود مجموعی طور پر کمی نہیں ہوئی۔ اہل ایماں کے بارے میں تو سنا تھا کہ صورت خورشید جیتے ہیں اور ادھر ڈوب کر اُدھر نکل آتے ہیں لیکن انسانی پریشانیوں کی بھی یہی صورت دیکھ رہے ہیں۔ دنیا میں جاری جنگوں میں کوئی کمی آئی نہ انسانوں کے لالچ اور ہوس میں کسی کمی کے آثار نطر آئے۔
ایک صاحبِ علم نے اس کی توجیح یوں پش کی کہ میاں کمپیوٹر، سوفٹ وئیر، رنگ برنگی ایپس اور مصنوعی ذہانت کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں جو فیڈ کرو ویسا رزلٹ لے لو، جیسا پروگرام ویسا کام۔ اب اس دوران میں انسان کی روایتی بے حسی، ایک دوسرے پر زیادتی کی جبلت، تعصبات اور بزور برتری کی خصلت اپنا کام دکھا جائے تو اس میں ٹیکنالوجی کا کیا لینا دینا۔ بد قسمتی یہ ہے کہ ٹیکنالوجی میں کمال در کمال دریافت ہو رہے ہیں لیکن حضرت انسان وہی کا وہی ہے۔ جنگی اسلحہ ہو یا ادویات کی تیاری، ہر فیلڈ میں اس کی جبلت نے کمزور انسانوں کی زندگی کو مزید مشکل، مخدوش اور اشرافیہ کا تخت مزید اونچا اور کشادہ کر دیا ہے۔ یوں پہلے سے موجود معاشی او ر سماجی تفریق مزید بڑھ گئی ہے۔ کارزارِ تفریق میں شامل اس نئے روگ کو بھائی لوگ ڈیجیٹل ڈیوائڈ کہتے ہیں۔
اس ساری تمہید کا مقصد یہ جاننا ہے کہ کیا صرف ٹیکنالوجی کی دریافت یا خوشنما پالیسیاں بنانے سے انسانی زندگیوں مین انقلاب آ جاتا ہے؟ کیا تقریروں اور فیتے کاٹنے سے گورننس بہتر ہو جاتی ہے؟ جی نہیں، دنیا بھر کا مختلف ڈیٹا گواہ ہے کہ معاملہ حقیقت میں اس سے الٹ ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں لگ بھگ بارہ سے پندرہ فیصد لوگ خط غربت سے نیچے رہنے پر مجبور ہیں۔ جتنا کھانا روزانہ ترقی یافتہ دنیا میں بچ کر ضائع ہو جاتا ہے اس سے پورے افریقہ کے بھوکوں کا پیٹ بھرا جا سکتا ہے۔
دنیا میں سالانہ غربت انڈکس اور دولت کے ارتکا ز کی رپورٹ بھی یہی دہائی دیتی ہے کہ کمپیوٹر، سافٹ وئیرز اور چیٹ جی پی ٹی کے موجودگی میں بھی بندہ مزدور کے اوقات میں تلخی کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھی ہے، ایسے میں ان سر پھروں کی بھی کمی ہو گئی جو مساوات کے نظریات کے ساتھ ٹیک لگا کر کبھی کبھار ہر اس کھیت کے خوشوں کو آگ لگانے کا نعرہ مستانہ لگاتے تھے جس سے دہقان کو روزی میسر نہ ہوسکے۔اس کے برعکس جن ممالک میں گورننس اور سماجی ترقی وسیع البنیاد ہوئی، ادارے مضبوط ہوئے اور طاقتور حکمران اور کاروباری شخصیات ان کی تابع ہوئیں، تعلیم ڈگریاں بانٹنے کی بجائے نقد و نظر اور ایجادات کھوجنے کا نام ٹھہرا، جہاں تاریخ اور تعلیم تحمل اور برداشت کا سامان پیدا کرنے کے کام آئی وہاں عمومی سماجی ترقی ہوئی ورنہ باقی جگہوں پر پرانے طوق نئے طوقوں سے بدلے، پاؤں کی بیڑیاں وہی کی وہی، ہاں لوہے کی جگہ ڈیجیٹل بیڑیوں نے لے لی۔
ملک عزیز کو اس پیمانے پر دیکھیں تو یہ پوچھنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی کہ ہمارے مسائل کا کوئی حل ہے بھی یا نہیں؟ بلکہ پوچھنے والے کی جرات رندانہ پر پیار آتا ہے۔ آئین، سیاست اور عدالتی فیصلوں کے میلے میں گذشتہ چند دنوں کی کچھ خبریں سائیڈ لائن سے ہو کر گذر گئیں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم نے اس نظام میں جو بویا وہ اب لہلاتی کھیتی بن چکا۔ سالانہ شرح پیدائش 2.8% جو دنیا بھر میں تیز ترین۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار گذشتہ دس ماہ میں 25% کم ہو گئی۔ الیکشن کے لئے اکیس ارب روپے نہ ہونے والے ملک کے پاس مفت آٹا تقسیم کرنے لئے سینکڑوں ارب روپے ہیں۔ آئی ایم ایف کے سامنے ایڑیاں رگڑنے والے ملک کے پاس حکومتی ارکان اسمبلی کے لئے خالی خزانے کے باوجود پچاس کروڑ فی ممبر ترقیاتی اسکیموں کے وسائل موجود ہیں۔ جمہور میں اتفاق رائے نہ ہو تو دنیا بھر الیکشن معمول مگر ہم انکاری ہں۔۔۔ اس عجب گورننس کی غضب کہانی کا چیٹ جی پی ٹی کیا کر لے گی جبکہ ہمارے عوام کی ڈیمانڈ صبح شام ایک نئی کہانی سننے کی ہو ۔۔