پاکستان میں خانہ جنگی کا کتنا امکان ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 20 / مئ / 2023
ملکی حالات مسلسل بے یقینی کا شکار ہیں۔ شدید دباؤمیں آئی ہوئی تحریک انصاف تو اب کوئی نیا لائحہ عمل لانے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتی لیکن حکومت کی طرف سے بھی سانحہ 9 مئی کے بعد ہوشمندی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ حکومت اور اپوزیشن یکساں طور سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے بیانات دے رہی ہیں۔ پوری سرکاری مشینری تحریک انصاف کو کمزور کرنے اور اس کے کارکنوں و لیڈروں کو ہراساں کرنے کے لئے استعمال کی جارہی ہے۔
ان حالات میں متعدد حلقوں میں مسلسل یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا ملک خانہ جنگی کی صورت حال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کا اندیشہ یوں بھی محسوس کیا جارہا ہے کہ حالیہ احتجاج اور تشدد کی کارروائیوں میں فوجی عناصر کی کافی بڑی تعداد کے شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ فوجی قیادت نے 9 مئی کے حملوں کے بعد اگرچہ فوری طور سے فوج میں پائے جانے والے انتشار پر قابو پانے کی کوشش کی ہے اور بظاہر وہ ان کوششوں میں کامیاب بھی دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی احتجاج کے نام پر تشدد کا حصہ بننے والوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کا متفقہ فیصلہ کور کمانڈر کانفرنس میں ہی کیا گیا تھا۔ کسی کور کمانڈر نے اس فیصلہ سے اختلاف نہیں کیا ۔ اگرچہ اس کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں سیاسی مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تھا۔ تاہم یہ سوال بدستور پریشان کن ہے کہ کیا آرمی چیف جنرل عاصم منیر فوج میں اتحاد برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں گے اور کیا یہ ادارہ اس بحران سے صحیح سلامت باہر نکل آئے گا۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر آج لاہور کے دورے پر آئے۔ انہوں نے کور کمانڈر کی نذر آتش کی گئی رہائش گاہ کا دورہ کیا، شہدا کی یادگار پر پھول چڑھائے اور پولیس کی حوصلہ افزائی کے لئے قربان لائنز جانے کے علاوہ ہسپتال میں اس کے زخمی افسروں کی عیادت بھی کی۔ بعد میں انہوں نے کور ہیڈ کوارٹرز میں افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ سانحہ 9 مئی میں ملوث منصوبہ سازوں، اکسانے والوں، حوصلہ افزائی کرنے والوں اور مجرموں کے خلاف مقدمات کا قانونی عمل پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے قانون کی عمل دار ی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش ناقابل برداشت اور ناقابل معافی ہے۔ پاک آرمی کی طاقت پاکستان کے عوام ہیں۔ انہیں پروپیگنڈے کے ذریعے گمراہ کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی‘۔
جنرل عاصم منیر کی رپورٹ شدہ تقریر میں یہ واضح نہیں ہے کہ انہوں نے جن عناصر کے خلاف آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی شروع ہونے کا اعلان کیا ہے، وہ کون لوگ ہیں۔ کیا یہ احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ میں شامل ہونے والے سول مظاہرین ہیں یا فوج میں خدمات انجام دینے والے بعض لوگوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے۔ آرمی چیف نے چونکہ واشگاف الفاظ میں آئین کے مطابق کارروائی کا اعلان کیا ہے، اس لئے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں کا تعلق فوج سے ہی ہوگا۔ ان ہی کے خلاف فوجی عدالتوں میں کارروائی ملکی آئین کے مطابق کہی جاسکتی ہے۔ قومی سکیورٹی کمیٹی نے اگرچہ 9مئی کو تشدد میں شامل تمام لوگوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحٹ کارروائی کا فیصلہ کیا ہے لیکن یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے کہ حکومت کس قانون یا کس آئینی شق کے تحت عام شہریوں کے خلاف آرمی ایکٹ استعمال کرے گی۔ ملک میں وسیع پیمانے پر اس فیصلہ کی مخالفت بھی ہورہی ہے۔
ملک میں یہ اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ 9 مئی کے ملزموں کو سزا دی جائے لیکن اس اصول پر بھی وسیع تر اتفاق موجود ہے کہ شہریوں کے خلاف نہ تو آرمی ایکٹ استعمال کرنا چاہئے اور نہ ہی ان کے مقدمے فوجی عدالتوں میں سنے جائیں۔ حکومت دیگر متعدد معاملات کی طرح اس سوال پر بھی وضاحت کرنے سے قاصر ہے۔ جس سے یہ افسوسناک تاثر قوی ہوتا ہے کہ اس وقت وفاق میں حکومت کرنے والی سیاسی پارٹیاں درحقیقت موجودہ صورت حال کو تحریک انصاف کے خلاف استعمال کرکے اس کا سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کے لئے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو نمایاں کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔
آج مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لئے جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں عدالتی کمیشن بنانے کا نوٹی فکیشن درحقیقت انہی کوششوں کا حصہ ہے۔ اصولی طور سے حکومت کو عدالتی کمیشن قائم کرنے کے لئے چیف جسٹس سے مشور کرنا چاہئے تھا یا ان سے اس کمیشن کے لئے ارکان نامزد کرنے کی درخواست کرنی چاہئے تھی۔ لیکن حکومت تو قومی اسمبلی میں چیف جسٹس عمر عطابندیال کے خلاف ریفرنس لانے کی تیاریاں کررہی ہے۔ آنے والے دنوں میں ہی واضح ہوسکے گا کہ چیف جسٹس عمر عطابندیال، اس حکومتی اعلان پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں یا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس تنازعہ کا حصہ بننے سے گریز کرتے ہوئے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے کردیں۔ صورت حال مسلسل غیر واضح ہے ۔ اس حکومتی اقدام سے البتہ ایک نیا پنڈورا بکس ضرور کھولا گیا ہے جس سے معاملات مزید پیچیدہ اور مشکل ہوسکتے ہیں۔
سیاسی وابستگی سے قطع نظر پاکستانی عوام کی اکثریت سیاسی ایجنڈے کے لئے عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے طریقہ کے خلاف ہے اور اسے ناجائز اور ناقابل قبول سمجھتی ہے۔ پاک فوج اسی عوامی جذبہ کی بنیاد پر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور سیاسی طور سے مخالفانہ آوازوں کو دبانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اگرچہ ان کوششوں کو ناکام بنانے کے خواہش مند عناصر بھی خاموش نہیں ہیں اور نہ ہی پسپا ہونے پر آمادہ ہیں۔ گزشتہ روز آرمی چیف کے خلاف سابق امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد کا ٹوئٹ بیان انہی عناصر کی کوششوں کا عکاس تھا۔ سوشل میڈیا پر بھی فوج کے خلاف تسلسل سے مہم جوئی جارہی ہے۔ عمران خان بظاہر فوج کے ساتھ مصالحت کی خواہش رکھتے ہیں لیکن وہ مسلسل اشتعال انگیز بیان بازی میں مشغول ہیں۔ انہوں نے 9 مئی کو ہونے والے جلاؤ گھیراؤ کی ابھی تک دو ٹوک الفاظ میں مذمت نہیں کی۔ اس کے برعکس ان کا دعویٰ ہے کہ اس دن تحریک انصاف کے متعدد کارکنوں کو ’شہید‘ کیا گیا تھا۔ آج انہوں نے ان کی تعداد 25 بتائی اور کہا کہ انہیں براہ راست گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ اور سوال کیا کہ ان کی شہادت کا جواب کون دے گا؟
9 مئی گزرنے کے بعد تو تحریک انصاف کے ہزاروں لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے لیکن ایسی مصدقہ اطلاعات سامنے نہیں آئیں جن کی بنیاد پر یقین سے کہا جاسکے کہ پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس روز تحریک انصاف کے احتجاجی کارکنوں کے خلاف غیر معمولی تشدد استعمال کیا گیا ہو۔ 9 مئی کو یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے آئی ایس پی آر نے جو پریس ریلیز جاری کی تھی اس میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ فوج نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس روز تصادم سے گریز کیا اور دشمن کی سازش کو ناکام بنا دیا۔ اگرچہ بیان کے اس حصے پر سوال اٹھائے گئے ہیں کہ کور کمانڈر ہاؤس کی حفاظت میں ناکامی کو کسی فوج کی طرف سے ’صبر و تحمل‘ کا نام کیسے دیا جاسکتا ہے۔ اس غیر متعلقہ بحث سے قطع نظر عمران خان یہ الفاظ لکھنے تک اپنی گرفتاری کے بعد جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کی دو ٹوک الفاظ میں مذمت کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ حالانکہ صدر عارف علوی نے بھی گزشتہ روز ایک بیان میں ان سے اپیل کی تھی کہ وہ 9 مئی کے واقعات کی بھرپور مذمت کریں۔ البتہ آج پریس کانفرنس میں جب عمران خان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کا براہ راست جواب دینے اور اس روز ہونے والی تباہ کاری کو غلط کہنے کی بجائے جوابی سوال کیا کہ ’کون ہے جو اس کی مذمت نہیں کرتا‘؟۔ اس قسم کا انداز درحقیقت عذر تراشی کا طریقہ ہوتا ہے جو عمران خان مسلسل اختیار کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان واقعات میں تحریک انصاف کے کارکن شامل نہیں تھے۔ اس میں پارٹی کو پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یوں وہ اپنی طرف سے مذمت نہ کرنے کا جواز تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ملک میں داخلی انتشار یا خانہ جنگی کی کیفیت کے بارے میں اٹھائے جانے والے سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے یہ تو دیکھا جاسکتا ہے کہ فی الوقت فوج میں افتراق کے ذریعے ایسی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش ناکام ہوچکی ہے۔ اب جنرل عاصم منیر اپنی پوزیشن اور فوج میں اتحاد مستحکم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ خانہ جنگی کا دوسرا امکان اس صورت میں پیدا ہوسکتا اگر اعلی عدلیہ میں تقسیم گہری ہو اور عدالتیں فوج یا حکومت کے ساتھ براہ راست تصادم کا راستہ اختیار کریں۔ تحریک انصاف کے ساتھ ہمدردی کے تمام تر مظاہر کی باوجود ابھی تک عدلیہ کی طرف سے ایسا اشارہ دیکھنے میں نہیں آیا ۔ البتہ عمران خان اور ان کے ہمنوا عناصر کی امیدوں کا مرکز اب عدلیہ ہی ہے۔
عدالتوں سے عمران خان کے علاوہ تحریک انصاف کے ارکان و لیڈروں کو عام طور سے ریلیف مل رہا ہے۔ البتہ یہ سوال بدستور جواب طلب ہے کہ کیا جسٹس عمر عطا بندیال کی قیادت میں سپریم کورٹ، تحریک انصاف کے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے پورے ملکی نظام کو داؤ پر لگانے کا خطرہ مول لے گی؟ بڑی حد تک اس کا انحصار حکومتی حکمت عملی اور مصالحانہ کوششوں پر بھی ہوگا۔ بدقسمتی سے حکومت ابھی تک مثبت رویہ ظاہر نہیں کرسکی۔
موجودہ ملکی حالات میں بھارت کی طرف سے کسی مہم جوئی کی کوشش کا امکان بھی موجود تھا تاہم وزیر اعظم نریندر مودی نے آج پاکستان کے ساتھ اچھے ہمسایوں کے تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے اس بیان میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ’دہشت گردی اور دشمنی سے پاک ماحول قائم کرنے کی ذمے داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے‘۔ اس کے باوجود اس بیان کو نئی دہلی کا یہ اعلان سمجھنا چاہئے کہ وہ پاکستان کے داخلی انتشار سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی سیاست میں اپنے لئے گنجائش حاصل کرنے کی تگ و دو کرنے والے عناصر اس اشارے کو سمجھ کر اپنے رویوں میں نرمی لائیں گے؟ اسی سوال کا جواب ملک میں امن یا انتشار کی صورت حال واضح کرے گا۔