عمران خان’ مائنس ون‘ پر کیوں راضی ہیں؟

تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے تردید کی ہے کہ ان  کی   آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے  کوئی پرخاش ہے بلکہ  ان کا کہنا ہے کہ انہیں پاک فوج کے سربراہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ایک تازہ ٹوئٹ میں انہوں نے   اس بات کی تردید کی  ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم کے طور پر انہیں آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹانے کے لئے دباؤ ڈالا تھا۔ اس سے پہلے عمران خان  تحریک انصاف  میں مائنس ون فارمولے کو ماننے پر رضامندی ظاہر کرچکے ہیں جس کا مطلب ہے کہ عمران خان پارٹی کی قیادت چھوڑ دیں گے۔

ٹویٹر پر ایک تازہ بیان میں عمران خان نے برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا  ہے کہ ’ دعوی کیا گیا ہے کہ میں نے جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے  ہٹوایا کیوں کہ انہوں نے  میری اہلیہ بشری بیگم کے کرپشن کیسز دکھائے تھے‘۔ عمران خان نے اس دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’جنرل عاصم نے مجھے میری اہلیہ کی کرپشن کے کوئی شواہد دکھائے،  نہ ہی میں نے انہیں اس بنیاد پر مستعفیٰ ہونے پر مجبور کیا‘۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ برطانوی اخبار نے کن ذرائع سے  یہ معلومات حاصل کی ہیں لیکن  موجودہ ملکی حالات میں آرمی چیف کے ساتھ کسی سیاسی لیڈر کے تعلقات یا اختلافات  موضوع بحث  نہیں ہونا چاہئے۔ ایک طرف عمران خان اپنے حامیوں کو ’حقیقی آزادی‘  کے لئے ہمہ قسم جد و جہد پر آمادہ کرتے رہے ہیں لیکن دوسری طرف محض ایک خبر کی تردید کے لئے انہیں ٹوئٹر کا سہارا لینا پڑا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ خود کو ملک کا سب سے مقبول  لیڈر سمجھنے والا شخص اور اپنی پارٹی کو سب سے بڑی پارٹی بتانے والا رہنما آرمی چیف کے ساتھ کسی قسم کی ’غلط فہمی‘ کا روادار نہیں ہے؟

حالانکہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ عمران خان نے بطور وزیر اعظم   کسی فوجی  افسر کے تبادلہ کے بارے میں اپنی پوزیشن کو استعمال کیا تھا یا نہیں۔ اصل سوال تو یہ ہونا چاہپئے کہ کیا فوج کو بطور ادارہ ملکی سیاست میں عمل دخل کی اجازت ہونی چاہئے۔ سیاسی حکمت عملی کے طور پر عمران خان  دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس قسم کی مداخلت کے خلاف ہیں۔ فوج کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے کے نتیجہ میں ہی تحریک انصاف کے کارکنوں نے 9 مئی کو متعدد عسکری تنصیبات پر دھاوا بولا اور انہیں نقصان پہنچایا تھا۔   عمران خان کی اس بات کو مان لینا چاہئے کہ انہیں اس قسم کی کسی کارروائی کا علم نہیں  تھا یا تحریک انصاف نے اپنے کارکنوں کو احتجاج کے لئے  ایسی حرکت  پر آمادہ نہیں کیا تھا۔  لیکن عمران خان کو  بھی یہ سچ مان لینا چاہئے کہ  ان کی سیاسی اشتعال انگیزی اور مؤقف تبدیل کرتے رہنے کی عادت کی وجہ سے ان کے حامیوں کے دلوں میں فوج کے خلاف اس قدر نفرت پیدا ہوگئی تھی کہ  عمران خان کی گرفتاری کو ’ریڈ لائن‘ قرار دیتے ہوئے  پورے ملک میں آگ لگانے کی حتی المقدور کوشش کی گئی۔ عمران خان جب تک اپنی اس غلطی کو تسلیم نہیں کریں گے اور یہ اعتراف نہیں کریں گے کہ پارٹی  نے عاقبت  نااندیشانہ حکمت عملی اختیار کی تھی تو سیاسی عمل میں ان کا کردار شبہات کا شکار رہے گا۔

عمران خان نے آج  یہ بھی کہا ہے کہ انہیں 80 فیصد یقین ہے کہ   وہ منگل کو جب  عدالت سے ضمانت لینے اسلام آباد جائیں گے تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔  نہ جانے ان کی معلومات کا کیا ذریعہ ہے لیکن اگر یہ خبر درست بھی ہے تو وہ اپنی گرفتاری کو کیوں اتنا بڑا مسئلہ بنا کر پیش کرتے ہیں کہ ان کے حامی رنجیدہ اور مشتعل ہوں۔ اور ایسی حرکتوں پر مجبور ہوجائیں جنہیں بعد میں عمران خان اور ان کی پارٹی قبول کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو۔اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ  9  مئی کے رد عمل میں  تحریک انصاف اور اس کی قیادت نے براہ راست  کوئی  کردار ادا نہیں کیا تھا لیکن اب یہ واضح ہورہا ہے کہ کارکنوں کا یہ غم و غصہ درحقیقت عمران خان کی اسی حکمت عملی کا نتیجہ تھا جس کے تحت انہوں نے  حامیوں کو اپنی گرفتاری کو ریڈ لائن قرار دینے پر مجبور کیا۔ ورنہ کسی سیاسی لیڈر کی گرفتاری کیسے ریڈ لائن ہوسکتی ہے؟ عمران خان  گرفتار  ہونے والے پہلے سیاسی لیڈر نہیں ہوں گے۔ خود انہوں نے اپنے دور حکومت  میں  اپنے سب مخالفین کو طویل مدت تک قید رکھنے کا اہتمام کیا تھا ۔

عمران خان کو اپنی گرفتاری کے بارے میں بھی ایسا ہی  معتدل  رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ وہ اب بھی مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ اگر گرفتار ہوگئے تو ان کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہی ہو گی۔ پھر نہ جانے وہ کیوں گرفتاری سے   خوفزدہ ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر وہ گرفتار ہوگئے تو شاید انہیں ہلاک کردیا جائے گا یا وہ پھر کبھی جیل سے باہر نہیں آسکیں گے۔ یہ  منفی تاثر عمران خان  کی سیاست کے لئے نقصان دہ ثابت ہورہا ہے۔  انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی پارٹی کی تمام سینئر قیادت سمیت   دس ہزار کے  لگ بھگ کارکنوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔  ایسی صورت میں تو انہیں  اپنی ضمانتیں کروانے  کی بجائے  رضاکارانہ طور پر خود کو گرفتاری کے لئے  پیش کرنا چاہئے۔ تاکہ وہ گرفتار ہونے والے کارکنوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرسکیں اور حکام پر واضح ہو کہ عمران خان سیاسی جد و جہد میں قید و بند سے گھبرانے والا نہیں ہے۔ عمران خان زبانی کلامی یہ دعوے ضرور کرتے رہتے ہیں لیکن ان کا عملی رویہ اس سے  بالکل  مختلف ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں سیاست کرنے کے لیے عمران خان   کو ہر طرح کی اونچ نیچ کے لئے تیار رہنا چاہئے۔  تب ہی وہ اپنے کارکنوں کو سخت حالات میں  پر امن  سیاسی جد و جہد کا سبق دے سکیں گے۔ گرفتاری سے مزاحمت کے لئے  کارکنوں  کا جم غفیر  اکٹھا کرنا اور پھر انہیں پولیس کے سامنے جھونک دینے سے  عمران خان  حوصلہ مند اور بہادر لیڈر کی بجائے خوفزدہ شخص کے طور پر سامنے آتے ہیں۔

یہ بھی حالات کی ستم ظریفی ہے کہ  اقتدار سے محروم ہونے کے فوری بعد انہوں نے ایک نام نہاد سائفر پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ کو  اپنے زوال کا باعث قرار دیا تھا۔ اس وقت بھی وہ  چیف جسٹس عمر عطابندیال سے سائفر کے معاملہ پعر خود تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے تھے اب وہ  ان سے   9  مئی کے واقعات کی تحقیقات کرنے کا تقاضہ کرتے ہیں۔  دوسری طرف  اب  وہ خود فون کرکے اور واشنگٹن میں  اپنے حامیوں اور لابی کرنے والوں کے ذریعے  امریکی کانگرس کے ارکان  کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں تاکہ ملکی اسٹبلشمنٹ سے کوئی رعایت حاصل کرسکیں؟ کیا وجہ ہے کہ عمران خان خود کو سیاست دان کہنے کے باوجود ابھی تک یہ بنیادی نکتہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انہیں ملک کی سیاسی قوتوں اور سویلین حکومت کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے تاکہ ملکی اسٹبلشمنٹ  موجودہ حالات کو سیاسی مقاصد  کے لئے استعمال نہ کرسکے بلکہ سیاسی قوتیں متحد ہوں اور بعض بنیادی اصولوں کی بنیاد پر ملکی نظام کو استوار کیا جاسکے۔

بدقسمتی سے عمران خان اب بھی بدستور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کسی قسم  کی مواصلت  و مصالحت چاہتے ہیں۔ وہ اقتدار میں آنے کے لئے جنرل عاصم منیر کی سرپرستی چاہتے ہیں اور موجودہ بحران سے نکلنے کے لئے بھی انہیں راضی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کیا اس طریقہ سے سیاست میں اسٹبلشمنٹ کا کردار کم ہو سکے  گا؟  گزشتہ روز انہوں نے   تسلیم کیا کہ وہ مائنس ون فارمولا قبول کرنے پر آمادہ ہیں بشرطیکہ  اسٹبلشمنٹ انہیں اس بات پر قائل کرے کہ ان کے سیاست چھوڑنے سے  ملک کا فائدہ ہوگا۔   واضح رہے مائنس فارمولا اس طریقہ کو کہا جاتا ہے جو  ماضی میں اسٹبلشمنٹ نے  نمایاں سیاسی لیڈروں کو نیوٹرل  اور غیر متعلق کرنے کے لئے استعمال کیا تھا۔ اسی ہتھکنڈے کے ذریعے ایم کیو ایم کے الطاف حسین کو ان کی اپنی ہی پارٹی  سے نکلوا دیا گیا اور  ایم کیو ایم  پاکستان کے نام سے نئی سیاسی پارٹی بنوا لی گئی۔ اسی طریقے سے نواز شریف کو ہمہ قسم عہدوں کے لئے نااہل قرار دلوا کر سیاست سے نکالنے کی کوشش کی گئی تھی۔

اب اگر عمران خان کے خلاف بھی اسی قسم کا کوئی منصوبہ  بنایا جارہا ہے تو عمران خان کو اسے قبول کرنے اور اسٹبلشمنٹ کو اس کا حق دینے کی بجائے واضح کرنا چاہئے کہ اس طریقہ کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ ماضی میں وہ دوسرے سیاست دانوں کے خلاف اسٹبلشمنٹ کے منصوبہ کو کامیاب بنوانے کے لئے آلہ کار کا کردار ادا کرتے رہے تھے۔  اب اس طریقہ کی مزاحمت کے لئے انہیں ماضی  میں کی گئی سیاسی غلطیوں کا اعتراف کرنا پڑے گا۔ عمران خان  عدم تحفظ کا شکار ہیں اور سیاسی  غلطیوں کا اعتراف کرکے ملک میں سیاسی مکالمہ کا راستہ ہموار کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ 

سیاست دانوں کا یہی طرز عمل  ملک میں جمہوریت کے لئے نقصان دہ رہا ہے۔   ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے میثاق جمہوریت کے ذریعے اس طریقہ کو مسترد کرنے کا   معاہدہ کیا تھا لیکن پھر   دونوں پارٹیاں خود ہی ایک دوسرے کے خلاف سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لئے اسٹبلشمنٹ کا دست و بازو بن گئیں۔ اسے بھی حالات کی ستم ظریفی کہا جائے گا کہ عوامی انقلاب اور ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے  والی پارٹیاں اب مل کر اسٹبلشمنٹ کی چھتر چھایہ سے لطف اندوز ہورہی ہیں۔ اس کی ایک وجہ عمران خان کا  غیر سیاسی رویہ بھی ہے۔ وہ سیاست دانوں کی بجائے اسٹبلشمنٹ سے ’مفاہمت‘ کرنا چاہتے ہیں۔  پھر  حکومت میں شامل پارٹیوں پر یہی طریقہ اختیار کرنے کا الزام کس منہ سے لگاتے ہیں۔

اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ   اس ماہ کے شروع میں     تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات  میں حکومت نے بجٹ کے بعد جولائی میں  نگران حکومت قائم کرنے اور ستمبر اکتوبر میں عام انتخابات کروانے کی پیش کش کی تھی۔ عمران  خان نے  14 مئی تک  اسمبلیاں توڑ کر انتخابات کروانے کا الٹی میٹم دے کر ان مذاکرات کو ناکام بنایا۔ اب وہ پوچھ رہے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ انہیں بتائے کہ اکتوبر میں انتخاب  منعقد ہونے سے  ملکی معیشت کیسے ٹھیک ہوجائے گی۔ البتہ اگر وہ اس سوال کا جواب دے سکیں تو بہتر ہوگا کہ پنجاب کے انتخابات قومی اسمبلی سے پہلے کروانے سے ملک کا سیاسی بحران کیسے ختم ہوجاتا؟   عمران خان اگر مصالحانہ رویہ اختیار کرتے تو وہ خود اور ملک   موجودہ   مشکل میں گرفتار نہ ہوتے۔

عمران خان کے اس دعوے سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ ملک اب  ناقابل واپسی راستے پر گامزن ہے۔  تحریک انصاف اسٹبلشمنٹ کی بجائے سیاسی قوتوں سے مکالمہ پر راضی ہو تو حالات درست ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔