عمران خان کو فوج نہیں سیاسی پارٹیاں مشکل سے بچا سکتی ہیں!

تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت دھیرے دھیرے پارٹی سے لاتعلقی  اختیارکررہی ہے لیکن  پارٹی چئیرمین ابھی تک  یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ’طاقت ور عناصر‘ ان سے بات چیت کریں گے اور  شکوک و شبہات دور ہوجائیں گے۔ آج فواد چوہدری نے تحریک انصاف اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا تو پارٹی سیکرٹری  جنرل اسد عمر نے دو ہفتے کی قید سے رہائی کے فوری بعد  پارٹی کے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد وہ پارٹی  میں قائدانہ کردار ادا نہیں کرسکتے۔

عمران خان نے   ایک براڈ کاسٹ میں موجودہ سیاسی  مشکلات پر غم و غصہ کا اظہار کرنے کے ساتھ ایک بار پھر بات چیت کی پیش کش کی ہے اور کہا کہ وہ ایک کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں  جو کسی بھی ایسے شخص سے  بات چیت کی مجاز ہوگی  جس کے پاس اس وقت ’حقیقی اختیار ‘ ہے۔ واضح رہے عمران خان اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ ملک میں غیر علانیہ مارشل لا نافذ ہے اور آرمی چیف جنرل  عاصم منیر  اصل حکمران ہیں۔ وہ موجودہ حکومت کو کٹھ پتلی  اور بے اختیار قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ روز نیب میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ سیاسی فریقین کے درمیان مکالمہ سے ہی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اس بیان سے امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید  تبدیل شدہ صورت حال میں تحریک انصاف کے سربراہ اب سیاسی بات چیت پر آمادہ ہو رہے ہیں اور حکمران جماعتوں کے ساتھ مواصلت سے ملک کے علاوہ تحریک انصاف کو موجودہ  بحران سے نکالنے پر راضی ہیں۔ تاہم  آج کا بیان ان امیدوں کے برعکس ہے۔

تحریک انصاف کے چئیرمین کی طرف سے فوج کو مذاکرات کی ’دعوت‘  بھی غیر مشروط نہیں ہے بلکہ اس میں بھی کچھ شرائط عائد کی گئی ہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ’ وہ‘  کمیٹی کو بتائیں کہ ان کے پاس ملک کے مسائل کا کوئی حل ہے؟  اور ملک میرے بغیر بہتر طریقے سے چل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ  کمیٹی کو یہ بھی بتایا جائے  کہ اکتوبر میں الیکشن کرانے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا۔  سانحہ 9 مئی کے بعد   اگرچہ تحریک انصاف چھوڑنے والا ہر لیڈر  عسکری تنصیبات اور اس روز ہونے والی لاقانونیت کی مذمت کرتا  رہا ہے  لیکن عمران خان نے ابھی تک دوٹوک الفاظ میں اس المیہ کی مذمت نہیں کی ۔ صدر مملکت عارف علوی نے ایک پبلک بیان میں براہ راست اپنے پارٹی لیڈر سے کہا تھا کہ انہیں 9 مئی کو رونما ہونے والے واقعات کی مذمت کرنی چاہئے۔ البتہ عمران خان کا مؤقف رہاہے کہ   عسکری تنصیبات پر حملے تحریک انصاف کے کارکنوں نے نہیں کئے تھے بلکہ  پارٹی کے خلاف سازش کرنے والے عناصر نے یہ حملے کروائے تھے  تاکہ اس کا الزام تحریک انصاف پر عائد کرکے اس کے لئے حالات مشکل بنائے جائیں۔

یہی وجہ ہے کہ عمران خان کا تسلسل سے مؤقف رہا ہے کہ پہلے انہیں  ثبوت فراہم کئے جائیں پھر  وہ دیکھیں گے کہ اگر ان لوگوں کا تعلق تحریک انصاف سے ہؤا تو انہیں وہ خود  حکام کے حوالے کردیں گے۔  ایسے بیان دیتے ہوئے عمران خان یہ بھول جاتے ہیں کہ جلاؤ گھیراؤ کے  جو واقعات 9 مئی کو دیکھنے میں آئے تھے، ان کی  عذر خواہی بدتر از گناہ والا معاملہ ہے۔ عمران خان کے نہ ماننے سے یہ سچ  تبدیل نہیں ہوجائے گا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی  پہلے سے کی گئی تھی اور تحریک انصاف کی  اعلیٰ قیادت اس منصوبہ بندی سے آگاہ تھی۔  اسد عمر نے آج پریس  کانفرنس میں اگرچہ اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ  صرف عمران خان پر اس روز ہونے والے واقعات کی ذمہ داری عائد نہیں کی جاسکتی لیکن انہوں نے بھی عمران خان اور پارٹی قیادت کو لاتعلق ثابت کرنے کا حوصلہ نہیں کیا کیوں  کہ یہ  ایسا خلاف واقعہ بیان ہے جو اس وقت عسکری و سول قیادت قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

9 مئی کو لاہور میں کور کمانڈر کے گھر اور دیگر عسکری تنصیبات  پر ہونے والے حملوں کے  حوالے سے یہ سوال ضرور اٹھایا جاتا رہا ہے کہ  اگر یہ حملے کسی ایک پارٹی کی ناجائز حکمت عملی کا نتیجہ  بھی  تھے  تو بھی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان حملوں کو ناکام بنانے کے لئے  مؤثر کارروائی کیوں  نہیں کی ۔ جب کہ اب یہ واضح بھی ہورہا ہے اور حکام خود تسلیم بھی کرتے ہیں کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد   ملک بھر میں تحریک انصاف کے چند ہزار حامی ہی احتجاج کے لئے باہر نکلے تھے۔ ان میں سب سے بڑی  تعداد لاہور شہر میں سڑکوں پر نکلی تھی۔ یہ تعداد ہرگز  اتنی زیادہ نہیں تھی جس پر کسی بڑے تشدد کے بغیر قابو نہ پایا جاسکتا۔ خاص طور سے لاہور میں کور کمانڈر کے گھر پر حملہ اور خود کور کمانڈر کی وہاں موجودگی سے سکیورٹی فورسز کی صفوں میں انتشار   کا پتہ چلتا ہے۔  تاہم فوج کے اندرونی نظام میں احتساب کا طریقہ  چونکہ ادارہ جاتی نوعیت کا   ہوتا ہے ، اس لئے اس بارے میں بہت زیادہ معلومات عام کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ 

آئی ایس پی آر نے البتہ اس ناکامی کو  فوج کا ’صبر تحمل ‘ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ  فوج نے طاقت کا استعمال نہ کرکے درحقیقت  دشمن عناصر کی سازش کو ناکام بنایا ہے۔ اس بیان  کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ حکام کے پاس عمران خان کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر رونما ہونے والے ردعمل کا پورا خاکہ موجود تھا اور وہ    اس کی سنگینی، شدت اور اثرات سے بھی آگاہ تھے ۔ تاہم  کسی حکمت عملی کے تحت  تحریک انصاف کے  احتجاج کو روکنے کی عملی کوشش نہیں کی گئی۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکام چاہتے تھے  کہ عوام تک یہ تصویر واضح ہوجائے کہ تحریک انصاف  اپنے سیاسی مقاصد کے لئے تشدد اور لاقانونیت کو ہتھکنڈے کے طور پر  استعمال  کرتی ہے۔  اس حکمت عملی کے بارے میں سوال اٹھائے جاسکتے ہیں لیکن  اب یہ واضح ہورہا ہے کہ  تحریک انصاف کی قیادت اس جال میں خود ہی پھنسی تھی۔  عمران خان کو ریڈ لائن قرار دے کر ملک میں آگ لگادینے کی باتیں عام طور سے کی جاتی رہی تھیں بلکہ عمران خان تو چند روز پہلے تک یہ  کہتے رہے ہیں کہ اگر انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا تو پھر ایسا ہی ردعمل آئے گا۔

افسوس کا مقام یہی  ہے کہ عمران خان  صورت حال کی سنگینی اور خود اپنے لئے پیدا  ہونے والی  مشکلات کا درست جائزہ لینے اور اس کے مطابق حکمت عملی بنانے میں ناکام ہورہے ہیں۔ وہ مسلسل فوجی قیادت پر دباؤ ڈال کر اسے کسی نہ کسی مفاہمت پر راضی کرنا چاہتے ہیں حالانکہ 9 مئی کے براہ راست تصادم کے بعد فوج کے ساتھ عمران خان کے تعلقات کا ایک باب ہمیشہ کے لئے بند ہوچکا ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے باوجود فوج نے ’غیر جانبداری‘ کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے  عمران خان کو احتجاج کرنے اور مسلسل لوگوں کو اکسانے   کا پورا موقع دیا۔ ان کی سیاسی سرگرمیوں پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ۔ یہ الگ بات ہے کہ عمران خان کسی بھی احتجاج میں قابل ذکر تعداد میں لوگوں کو جمع کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، لیکن وہ بدستور  سوشل میڈیا پر  سرگرمیوں سے   غلط اندازے قائم کرتے رہے کہ ان کی مقبولیت آسمان سے باتیں کررہی ہے ۔  ان کے ایک اشارے پر لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر  نکل آئیں گے اور ملک میں انقلاب برپا ہوجائے گا۔

اس میں تو شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ  اگر عمران خان کی گرفتاری کے بعد عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آتی اور کسی ایک مقام پر  بھی احتجاج کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرجاتی تو  غم و غصہ کے اس اظہار کو نظر انداز کرنا ، حکومت اور فوج کے لیے ممکن نہ ہوتا۔   دعوؤں اور اعلانات کے باوجود تحریک انصاف  کے لیڈروں کو بھی اندازہ تھا کہ وہ عمران خان کی گرفتاری پر  مؤثر اور قابل ذکر عوامی احتجاج  کا اہتمام نہیں کرسکیں گے۔ شاید اسی لئے بعض حساس مقامات پر حملے کرکے فوج کو دفاعی پوزیشن میں لانے اور نظام کو معطل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ تحریک انصاف اس  کوشش میں ناکام ہوگئی اور اب اسے  سیاست میں تشدد استعمال کرنے اور عسکری تنصیبات  پر جلاؤ گھیراؤ کرنے کے  الزامات کا  سامنا ہے۔

کسی غلطی کے بعد، اسے مان لینے اور اس  سے تائب ہونے  میں  ہی عافیت ہوتی ہے لیکن عمران خان اپنے گھمنڈ میں یہ آسان راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔  عسکری قیادت کو  مشروط بات چیت کی دعوت دیتے ہوئے   ، وہ یہ بھول رہے  ہیں کہ عسکری قیادت کے ساتھ مواصلت کے سارے  امکانات ،  انہوں نے خود ہی 9 مئی کو بھڑکنے والے فسادات کی آگ میں جلاکر بھسم   کردیے تھے۔  اب انہیں از سر نو تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس وقت عمران خان اور تحریک انصاف جس مشکل سے دوچار ہیں، اس سے نکلنے کا ایک ہی ممکنہ حل باقی ہے یعنی وہ سیاسی  پارٹیوں کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات پر آمادہ ہوں ۔   خود کو کسی اونچے مینارے پر سرفراز کرکے ’کمیٹی‘ سے بات چیت کی پیش کش کرنے کی بجائے وہ تمام سیاسی لیڈروں  کو  بنفس نفیس ملاقات   کی پیش کش کریں  تاکہ  بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ نکالا جاسکے۔

وزیر اعظم شہباز شریف اگر چہ  روزانہ تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف تند و تیز بیانات دیتے ہیں لیکن اس امکان کو مسترد نہیں کرنا چاہئے کہ حکمران جماعتوں میں اب بھی ایسے مدبر اور سیاسی سوچ رکھنے والے لیڈرموجود ہیں  جو آگ  بھڑکانے کی بجائے ، اسے بجھانے  پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے عمران خان کو تسلیم کرنا پڑے  گا کہ  انہوں نے جس مشکل میں خود کو اور  پارٹی کو پھنسا لیا ہے، اس سے انہیں فوج نہیں بلکہ سیاسی قوتیں ہی  باہر نکال سکتی ہیں۔ اسی طریقہ سے ملک میں جمہوریت کو درپیش اندیشوں کو بھی کم کیا جاسکے گا اور  ملکی معاملات میں فوج کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے  کے لئے اقدام  ہوسکے گا۔

اس کے برعکس عمران خان اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ پنجاب  میں انتخابات سے متعلق 4 اپریل  کے فیصلہ کو نافذ کروانے کے لئے کوئی ایسا حکم جاری کرے گی جس سے حکومت تحلیل ہوجائے گی اور عمران خان پنجاب میں انتخاب جیت کر ایک بار پھر سیاسی میدان کے سب سے بڑے  لیڈر کے طور پر سامنے آئیں گے تو وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہیں،  جو ان کے لئے مزید  سیاسی مشکلات  پیدا کرے گی۔ چیف جسٹس پہلے بھی سیاسی اتفاق رائے پر زور دیتے رہے ہیں۔ تبدیل شدہ حالات میں ان کے لئے  یہی مؤقف سپریم کورٹ کو اس تنازعہ سے  باہر نکالنے کا واحد باعزت راستہ ہوگا۔