ملکی معیشت، سیاسی استحکام اور مقام عبرت
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 27 / مئ / 2023
وزارت خزانہ نے ملکی معیشت پر عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نژاد امریکی ماہر اقتصادیات عاطف میاں کی نکتہ چینی کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے معیشت بحال کرنے کی ٹھوس منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ بس اب ملک میں سیاسی استحکام کا انتظار ہے جو جلد ہی حاصل کرلیا جائے گا۔ اس کے بعد ملکی معیشت رو بہ پرواز ہوگی۔ اسحاق ڈار کی اس خوش فہمی پر اعتبار کر بھی لیا جائے تو بھی اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ملک میں سیاسی استحکام کے امکانات پیدا ہوچکے ہیں؟
دنیا بھر کے ماہرین مختلف ممالک کی معاشی صورت حال کا تجزیہ کرکے نتائج اخذکرتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک تجزیہ عاطف میاں نے بھی کیا ہے جس میں بعض مسلمہ اصول بیان کرکے واضح کیا گیا ہے اگر درآمد شدہ پیٹرولیم کو قیمت خرید سے کم پر فروخت کیا جائے گا اور ادائیگیوں کے توازن کا خسارہ کم کرنے کے لئے درآمدات بند کرکے صنعتوں کا گلا گھونٹا جائے گا تو اس سے قومی پیداوار میں کمی ہوگی اور ملک کے لئے قرضوں کی ادائیگی مشکل تر ہوجائے گی۔ اس کے نتیجے میں غربت بڑھے گی، بے چینی میں اضافہ ہوگا اور ملک کے لئے سنبھلنا مشکل ہوجائے گا۔ اسی تناظر میں عاطف میاں نے بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اصرار کیا ہے کہ موجودہ حکومت معیشت کے حوالے سے نااہلی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ عاطف میاں کے الفاظ میں ’ اگر آپ معیشت کو لاحق بنیادی مسائل کو سمجھنے سے انکار کرتے رہیں تو یہ دعوے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کہ ’ہم دیوالیہ نہیں ہوئے‘۔ کسی بحران میں قوت فیصلہ کی کمی بری چیز ہے لیکن نااہلی اس سے بھی بڑا نقص کہا جائے گا‘۔
عاطف میاں نے پاکستانی معیشت کا موازنہ گزشتہ دو سالوں میں ڈیفالٹ کرنے والے دو ممالک گھانا اور سری لنکا سے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرنسی کی قدر میں نصف رہ گئی، گھانا کی کرنسی کی قیمت میں بھی پچاس فیصد ہی کمی ہوئی ہے لیکن ڈیفالٹ کرنے کے باوجود سری لنکا کی کرنسی کی قیمت صرف ایک تہائی کم ہوئی چونکہ اس ملک میں معاشی اصلاحات کے لئے سخت فیصلے کئے گئے۔ لیکن پاکستان روپیہ مسلسل رو بہ زوال ہے اور یہ رجحان تبدیل ہونے کا کوئی امکان بھی نہیں ہے۔
وزارت خزانہ نے اس تنقید پر دوصفحات پر مشتمل بیان میں عاطف میاں کی باتوں کو ’علمی و نظری‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عاطف میاں کو اندازہ نہیں ہے کہ عملی معیشت کیسے کام کرتی ہے۔ اس وضاحت کے مطابق پاکستان کا مقابلہ گھانا اور سری لنکا سے نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ ان کی معیشت کا حجم پاکستان کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس کے علاوہ عاطف میاں پاکستانی معیشت کا جائزہ لیتے ہوئے ملک کے سنگین سیاسی بحران سے غافل دکھائی دیتے ہیں۔ ملک کے حالات پرسکون نہیں ہیں جس کے معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سیاسی استحکام کے امکانات روشن ہیں جس کے بعد ملکی معیشت سرپٹ بھاگنے لگے گی‘۔ حالانکہ سرسری تجزیہ میں بھی یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ اگر پاکستان کی معیشت گھانا یا سری لنکا سے بہت بڑی ہے تو اسے سنبھالنے کے لئے بھی بڑا حوصلہ اور زیادہ مستقل مزاجی کی ضرورت ہوگی کیوں کہ اس کا بگاڑ بھی زیادہ نقصان دہ ہوگا۔
معاشی معاملات کے بارے میں یہ سرکاری پوزیشن اکثر ماہرین کی رائے اور پاکستانی عوام کی امیدوں کے برعکس ہے۔ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد اتحادی جماعتوں کی کمزور حکومت قائم ہوئی تھی جو معیشت سنبھالنے کے قابل نہیں تھی کیوں کہ اسے مشکل معاشی فیصلے کرنے اور انہیں نافذ کروانے میں دقت پیش آرہی تھی۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بعض حوصلہ مندانہ اقدامات ضرور کئے تھے جس کے نتیجہ میں آئی ایم ایف پروگرام بحال ہؤا اور ملکی معیشت میں بہتری کا امکان پیدا ہؤا۔ لیکن یہ فیصلے مسلم لیگ (ن) کی سیاسی قیادت کے لئے قابل قبول نہیں تھے۔ اسی لئے چند ماہ بعد ہی مفتاح اسماعیل کو نکال کر اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنا دیا گیا۔ عوامی حمایت حاصل کرنے کے جوش میں اسحاق ڈار بھی آئی ایم ایف کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے برطانیہ سے پاکستان واپس آئے تھے۔ انہوں نے بعض طے شدہ امور میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی ۔ اسی عاقبت نااندیشانہ حکمت عملی کا نتیجہ تھا کہ آئی ایم ایف سے تعلقات خراب ہوگئے جو ابھی تک بحال نہیں ہوسکے۔ اسحاق ڈار مالیاتی پروگرام میں مسلسل تعطل کی ذمہ داری آئی ایم ایف پر عائد کرتے ہیں لیکن یہ نہیں مانتے کہ ان کے طرز عمل نے ایک بار پھر عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ عدم اعتماد میں اضافہ کیا۔ اب اس کی قیمت پاکستانی معیشت اور عوام کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔
بہتر ہوتا کہ وزارت خزانہ کے ذریعے عاطف میاں یا کسی دوسرے اقتصادی ماہر کے بیان پر تردید جاری کرنے کی بجائے اسحاق ڈار اپنی ناقص پالیسیوں اور مجبوریوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے خاموش رہتے۔ موجودہ حکومت انتخابات سے خوفزدہ ہے۔ یہی خوف تحریک انصاف کے ساتھ حکومت کے تنازعہ کی بنیاد ہے۔ بلکہ سپریم کورٹ کے ساتھ تصادم کا آغاز بھی اسی لئے ہؤا کہ عدالت عظمی پنجاب اور خیبر پختون خوا میں اسمبلیاں تحلیل ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات کے آئینی اصول کو نافذ کرنے پر اصرار کررہی ہے۔ حکومت کسی نہ کسی عذر کی بنیاد پر یہ انتخابات ٹالنا چاہتی ہے۔ جبکہ عمران خان کا خیال تھا کہ انتخابات کی صورت میں وہ واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ حکومت کی ایک مجبوری تو یہ ہے کہ یہ متعدد چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیوں کی حمایت پر کھڑی ہے اور اتحادیوں کو خوش رکھنے کے لئے ان کے مالی مطالبات پورے کرنے پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت بھی جانتی ہے کہ انتخابات کو عارضی طور سے ٹالا تو جاسکتا ہے لیکن آئینی انتظام پر عمل کرتے ہوئے اس سے مفر ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی اصلاحات کے دعوے کرتے ہوئے بھی حلقہ جاتی سیاست کے لئے فنڈز فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے جو ملکی معیشت کو مزید زیر بار کرتا ہے۔
اب سانحہ9 مئی کو عذر بناکر تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف شدید مہم جوئی کی جارہی ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ عمران خان کی سیاست ختم ہوگئی اور کبھی تحریک انصاف کو دہشت گردی میں ملوث قرار دے کر پابندی لگانے کی بات کی جاتی ہے۔ اصل مقصد صرف یہ ہے کہ کسی طرح عمران خان کی سیاسی حمایت کو محدود کرکے انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ کیا جائے تاکہ حکمران اتحاد میں شامل سیاسی جماعتیں ہی کامیاب ہوسکیں۔ اس طرز عمل کو بھی دھاندلی اور سیاسی انجیئنرنگ ہی کہا جائے گا۔ کسی سیاسی پارٹی کے بعض ارکان یا لیڈر اگر قانون کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہوئے ہیں تو انہیں مروجہ طریقہ کار کے مطابق سزا دی جاسکتی ہے لیکن کسی احتجاج اور اس حوالے سے ہونے والے تشدد و ذیادتیوں کو بہانہ بنا کر اس سیاسی پارٹی کو تنہا کرنے یا پابندی لگانے کی کوششیں نہ جمہوری ہیں اور نہ ہی اس سے کوئی مثبت نتائج مرتب ہوسکتے ہیں ۔
ملک کے سب سیاسی تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ سیاسی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے بغیر ملک میں بے چینی ختم نہیں ہوسکتی۔ موجودہ تنازعہ جلد از جلد انتخابات کے ذریعے ہی حل ہوسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے حکومت کو تحریک انصاف کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے کی بجائے بات چیت کا آغاز کرنا چاہئے تھا۔ لیکن ابھی تک اس کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔ اسی لئے وزارت خزانہ کی یہ امید پورا ہونے کا امکان بھی موجود نہیں ہے کہ ملک میں جلد سیاسی ااستحکام پیدا ہوجائے گا۔ عمران خان کی مقبولیت یا ووٹ بنک کے بارے میں کوئی واضح اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں۔ لیکن بہر حال اس کی اتنی تعداد ضرور ہے جو شہباز شریف کی قیادت میں قائم حکومت کو بے چین کئے ہوئے ہے۔ پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے ، اب مکرر گزارش ہے کہ تحریک انصاف کو زیر کرنے کے لئے 9 مئی کے سانحہ کو حجت کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کرکے کوئی متفقہ لائحہ عمل تلاش کیاجائے تاکہ ملک پیچھے جانے کی بجائے آگے کی طرف بڑھ سکے۔
عمران خان نے بھی اس حوالے سے کوئی قابل قدر طرز عمل اختیار نہیں کیا۔ ان کی مسلسل یہی کوشش رہی ہے کہ کسی طرح اسٹبلشمنٹ کو راضی کرکے اپنے لئے کوئی سیاسی راستہ نکالا جائے۔ ان کا اصرار رہا ہے کہ تحریک انصاف کی کمیٹی ا س شخص سے مذاکرات کرے گی جس کے پاس ’حقیقی اختیار‘ ہے۔ ایسے بیانات میں آرمی چیف کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ تاہم آج تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کے لئے 7 رکنی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ابھی اس اعلان کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی یہ وضاحت سامنے آسکی تھی کہ ’حکومت‘ سے عمران خان کی کیا مراد ہے کہ لندن سے نواز شریف نے ایک ٹوئٹ بیان میں مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بات چیت صرف سیاست دانوں سے کی جاتی ہے۔ شہدا کی یادگاروں کو جلانے ، ملک کو آگ لگانے والے دہشت گردوں اور تخریب کاروں کے گروہ سے کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو گی‘۔
یہ انتہاپسندانہ طرز عمل ہے جس سے ملک میں سیاسی مفاہمت کا ماحول پیدا نہیں ہوگا۔ بلکہ معاشی بحالی کے لئے وزارت خزانہ کے بیان میں جس سیاسی استحکام کی امید ظاہر کی گئی ہے، اس کا حصول بھی ممکن نہیں ہوگا۔ ہٹ دھرمی یا طاقت کے زور پر تحریک انصاف کو ملکی سیاست سے نکالنا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ اس طریقے سے ہوسکتا ہے کہ اتحادی پارٹیاں ایک انتخاب جیت جائیں لیکن عمران خان سیاسی فیکٹر کے طور پر موجود رہیں گے۔ کسی بھی سیاسی لیڈر کو صرف عوام کے ووٹوں سے ہی شکست دی جاسکتی ہے۔ سازش یا دھاندلی سے حاصل کی ہوئی انتخابی کامیابی کا حشر بھی وہی ہوتا ہے جس کا سامنا اس وقت عمران خان کو ہے۔ کیا نواز شریف اور ان کے سیاسی ہم سفر اس سے عبرت حاصل کریں گے؟