نئے قانون کے تحت سوموٹو فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق دے دیا گیا

  • سوموار 29 / مئ / 2023

صدر عارف علوی نے سپریم کورٹ ریویو اینڈ ججمنٹس آرڈر ایکٹ 2023 پر دستخط کردیے جس کے بعد یہ قانون (ایکٹ) بن گیا ہے۔

اٹارنی جنرل  نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ 2023 کی کاپی اور نوٹی فکیشن سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔ یہ قانون جمعہ سے نافذ ہوگا۔ نئے قانون کے تحت  آرٹیکل 184 (3) کے تحت مقدمات کی نظرثانی کی درخواست دی جاسکے گی۔

نئے قانون کے تحت نواز شریف اور جہانگیر ترین 60 دن کے اندر اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کرسکیں گے۔ ایکٹ کے تحت 184(3) کے فیصلے کے خلاف 60 روز کے اندر اپیل دائر کی جاسکے گی۔ ایکٹ کا اطلاق اس قانون کے بننے سے پہلے کے فیصلوں پر بھی ہوگا۔ ایکٹ کا دائر کار سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے فیصلے اور رولز پر بھی ہوگا۔ ایکٹ نافذ ہونے کے بعد نواز شریف اور جہانگیر ترین بھی ایکٹ سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔

ایکٹ کے تحت نظرثانی درخواست کی سماعت لارجر بینچ کرے گا۔ لارجر بینچ میں ججز کی تعداد مرکزی کیس کا فیصلہ سنانے والے ججز سے زیادہ ہوگی۔ فیصلہ دینے والے جج نظر ثانی بنچ کا حصہ نہیں ہوں گے۔

سپریم کورٹ (ریویو آف جج منٹس اینڈ آرڈرز) ایکٹ 2023 بل، 14 اپریل کو قومی اسمبلی اور  5 مئی کو سینیٹ سے منظور ہوا۔ سپریم کورٹ فیصلوں پر نظرثانی اور احکامات ایکٹ 2023 رکن اسمبلی شزا فاطمہ نے بطور نجی بل پیش کیا تھا جس پر آج صدر مملکت نے دستخط کیے۔

نئے ایکٹ کے تحت سپریم کورٹ ازخود نوٹس کیس فیصلوں پر بھی اپیل دائر کی جا سکے گی۔ نظر ثانی اپیل میں فریق کو اپنی مرضی کا وکیل کرنے کا حق حاصل ہوگ۔ سپریم کورٹ فیصلوں پر نظرثانی اور احکامات ایکٹ 2023 ماضی میں 184/3 کے فیصلوں پر بھی ہوگا۔

دریں اثنا قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے سپریم کورٹ فیصلوں پر نظرثانی و احکامات ایکٹ 2023 کا گزٹڈ نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔ سپریم کورٹ نظرثانی اور احکامات ایکٹ کا گزٹڈ نوٹی فکیشن سیکریٹری قومی اسمبلی محمد قاسم سمد خان نے جاری کیا۔