عمران خان پر ہمہ جہت حملہ پی ڈی ایم کی الیکشن سٹریٹیجی ہے

اقتدار کے سینے میں دل نہیں صرف حکومت کرنے اور اسے لمبی کرنے کی خواہش ہوتی  ہے۔ اور پی ڈی ایم کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہر طرف شکست، چار سو بے یقینی، قدم قدم پر خطرہ اور رنگ رنگ کے خدشات منہ کھولے ڈرا رہے تھے۔

اگر عمران خان آرام سے حکومت کرنے نہیں دے رہا تھا تو مہنگائی الیکشن منعقد کرانے میں حائل تھی۔ دبکے رہنے سے حملہ کرنا بہتر سمجھا گیا۔ نو مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیمروں کے سامنے رجسٹرار کے دفتر کے شیشے توڑے گئے، عمران خان کو ٹی وی کیمروں کی موجودگی میں گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا گیا۔ چار دن وہ کہاں رہا صرف تکے لگائے گئے۔ لیکن ان چار دنوں میں مردان پشاور سوات اور لاہور سے لے کر کوئٹہ تک گھیراؤ جلاؤ کے ساتھ لاشیں گرتی گئیں۔ بعد میں نمائشی مینیکنز کو  شہدا کی یادگار، ڈمی کو تاریخی جہاز، کور کمانڈرز ہاؤس کو جناح ہاؤس، سیاسی کارکنان کو دہشت گرد اور لیڈرشپ کو غدار قرار دے کر دیوار شرم پر نمائش کے لئے لٹکائی گئی۔

فوجی عدالتیں، سوشل میڈیا پر مطلوبہ افراد کی تصاویر اور ان کی گرفتاری پر انعامات اور تلاش، خبریوں کو پوشیدہ رکھنے کی خوش خبری، کچے پکے سیاسیوں کی عمران چھوڑنے کی فرمائشی پریس کانفرنسز، اینکرز اور سرکاری یوٹیوبرز کا پھیلاؤ پذیر شرم انگیز بیانیہ، سافٹ وئیر اپڈیٹڈ اور توبہ تائبین کے خلاف مبنی بر استہزا سوشل کمپین ایک منظم جارحانہ پروپیگنڈا مہم کے شروعات ہیں جو الیکشن کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے تک مزید تیز کی جائے گی۔ دوسری طرف چین روس ایران اور سعودی عرب کی امداد سے بجٹ تک ایک مناسب حامی انتخابی ماحول تیار کیا جائے گا تاکہ تیل آٹا گھی اور دوسری اشیائے صرف کو کم از کم نرخ پر مہیا کرنے کا بندوبست ہو سکے۔ ایران کے ساتھ سرحدی تجارتی بازار کھولنا اور چین کے ساتھ سی پیک کو ری لانچ کرنا اسی بندوبست کا حصہ ہے۔

پاکستان کی اکانومی آئی ایم ایف مغربی ممالک اور  امریکہ کی نشئی امداد کی اتنی عادی ہو گئی ہے کہ اس کے بغیر سوچنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا۔ ہمارے مشیر صلاح کار ری سٹرکچرنگ کے ماہرین اکانومسٹ بجٹ کے سپن ڈاکٹرز، خوشخبریاں سنانے والے بقراط، بنکنگ سسٹم، جنگ امن ترقی بدحالی اور مزید قربانیاں دینے کی اپیلیں کرنے والے سب کے سب ڈالر کی پیداوار ہیں اور ڈالر کہاں سے آتا ہے یہ کوئی راز نہیں۔ عمران کے تجربے نے پورے لیبارٹری کو اڑا کر رکھ دیا تو آئی ایم ایف نے عسکری بجٹ میں کٹوتی اور اشیائے صرف سمیت ہر قسم کی سبسڈی پر پابندی لگانے اور مالی شفافیت پر مبنی پالیسیاں اختیار کرنے کی شرائط پر نئے قرضے دینے کی حامی بھر لی۔ جس کو ہمیشہ کی طرح سیلیبریٹ کیا گیا۔ مانگنے والے کے ہاں معذور بچے کی پیدائش پر اور پاکستان میں قرضہ ملنے پر ہمیشہ خوشیاں منائی جاتی ہیں۔

آئی ایم ایف کی آدھی شرائط کو لاگو کرنا شروع کیا گیا تو عوام کا احتجاج بد دعاؤں اور ہذیان گوئی کی شکل میں پٹرول پمپس، یوٹیلیٹی بلوں اور آٹا لینے کی قطاروں میں ظاہر ہونا شروع ہو گیا۔ اب حکومت کے لئے نہ پائے مانند اور نہ جائے رفتن والی صورتحال بن گئی۔ عمران آئین کے مطابق انتخابات کے لئے زور لگا رہا تھا اور حکومت قانون آئین اور سپریم کورٹ کو ایک طرف رکھ کر وقت لینے کی کوشش میں تھی۔

حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کے مطابق چلتی تو چلی جاتی اس لیے اس نے وہی کرنے کا فیصلہ کیا جو عمران خان نے جانے سے پہلے کیا تھا۔ اس نے بھی جاتے جاتے تیل کی قیمتیں کم کی تھیں اور اس حکومت نے بھی اسی حکمت عملی کو آگے بڑھاتے ہوئے اگلے دو ہفتوں تک مختلف اشیائے ضرورت کی قیمتیں تھوڑا تھوڑا کر کے کم کرنی ہیں جبکہ اہم تحفہ بجٹ میں دینے کا اعلان کرے گی۔ اس عوام دوست بجٹ کی منظوری کے فوراً بعد الیکشن منعقد کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔

اس بجٹ کے زور پر حکومت الیکشن کمپین چلائے گی اور کامیابی کی صورت میں مزید آسانیاں دینے کا بیانیہ اپنایا جائے گا۔ اگرچہ الیکشن جیتنے کے بعد حکومت نے ہر حالت میں آئی ایم ایف کے پاس اس درخواست کے ساتھ کے واپس جانا ہے کہ رابطہ وہاں سے دوبارہ جوڑا جائے جہاں سے ٹوٹ گیا تھا کیونکہ چین روس ایران سعودی عرب کے پاس ہمارے مسائل مستقبل اور مجبوریوں کا حل موجود نہیں ہے۔ یوں اس عوام دوست بجٹ کا ناقابل برداشت بوجھ ایک دفعہ پھر عوام پر منتقل کیا جائے گا۔ لیکن اس کی کس کو پرواہ ہے؟ اقتدار کے سینے میں دل نہیں ہوتا لمبی حکومت کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ آئی ایم ایف کو راضی کرنے کے لئے پہلے کی طرح ایک اور منی بجٹ پیش کردیا جائے گا۔

الیکشن کی تاریخ کے بعد کسی کیس میں عمران خان کو نا اہل کیا جاسکتا ہے جس کی تیاری کے لئے دن دوگنی اور رات چوگنی تعداد میں لوگ اسے چھوڑ رہے ہیں۔ اکیلے عمران کو ہینڈل کرنا کون سا مشکل ہو گا جب اس کے کارکن ملٹری کورٹس میں، پارٹی شاک میں اور ساتھی حکومت میں حصہ پانے میں کوشاں ہوں گے۔ الیکشن کے بعد عمران اپیل میں ہو گا جس کو حسب توقع لمبا کیا جاسکتا ہے اور ساتھ حکومت میں کوئی بغاوت پر تیار ہوا تو عمران کی نا اہلی ختم کرنے کی دھمکی سے راہ راست پر لایا جا سکے گا۔

قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا نون لیگ کے ساتھ آنے والی حکومت میں شریک اقتدار رہے گا جس کی خاطر وہ آج بھی انگلینڈ میں بڑے میاں کے ساتھ انتخابات کی حکمت عملی پر عمومی اور اے این پی کے لئے پختونخوا میں اپنا اتحادی بنانے پر خصوصی مذاکرات میں مشغول ہیں۔ مولانا اپنے لیے مرکز میں رسیلا حصہ لینے کے ساتھ ساتھ پختونخوا اور بلوچستان میں بھی حکومتیں بنانے کی تگ و دو میں ہیں۔

مشترکہ حکمت عملی اور زیادہ شیفتگی دکھانے کی وجہ سے شہباز شریف آنے والی حکومت کے لئے چنیدہ امیدوار ہیں جس کی وجہ سے مریم نواز کی ساری تیاریاں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ نواز شریف کو ججوں کے ذریعے آؤٹ رکھنے میں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ شہباز شریف کو مسلسل ان رکھا جائے۔

زرداری نے انتشار کے دوران ججوں کو عدالت بدر کرنے اور پی ٹی آئی پر پابندی لگانے میں سرگرمی نہیں دکھائی اس لیے بلاؤل کو باری دینے کی بجائے شہباز شریف کے ساتھ وزیراعظم کی کرسی کے لئے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ سندھ میں نون لیگ کی دلچسپی نہیں ہے لیکن پنجاب کے جنوبی حصے میں پیپلز پارٹی ضرور ڈینٹ ڈالنے کی کوشش کرے گی۔ سندھ کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب بلوچستان اور پختونخوا میں اپنے اتحادی بنا کر زرداری، شہباز شریف کو ضرور ٹف ٹائم دے سکتا ہے جس کی وجہ سے آنے والی حکومت جس کی بھی ہوگی کمزور ہوگی، کیونکہ ہمارے لیے کمزور حکومت ہی بہترین حکومت ہوتی ہے۔

شہباز شریف کے مستقل بڑے کردار کی وجہ سے نواز شریف اور اس کے درمیان اچھے تعلقات زیادہ دیر تک نہیں چل سکیں گے۔ نواز شریف مریم نواز کو زیادہ دنوں تک موجودہ پوزیشن پر نہیں رکھنا چاہیں گے۔ خانگی تقسیم کی صورت میں شہباز اور اس کے بچوں کو پنجاب دیا گیا تھا، مرکز نواز شریف اور اس کے بچوں کے حصے میں آیا تھا۔ اضطراری صورت حال میں تو سب ٹھیک تھا لیکن مستقل صورت میں رشتوں میں پیچیدگیاں ظاہر ہوں گی۔ پختون قوم پرست لیڈرشپ کے خلاف ایمل ولی خان کے بیانات مولانا کے ساتھ حکومتی اشتراک کے پس منظر میں سمجھنے چاہئیں۔ گورنر پختونخوا بھی بقول مولانا کے ایمل ولی خان کی حمایت بلکہ فرمائش پر لگایا گیا ہے۔ مریم کے علاوہ نواز شریف کے ایک اور آل ویدر فرینڈ محمود خان اچکزئی کو بھی شہباز، مولانا اور ان کے حامی نظر انداز کرنے کی کوشش میں ہیں۔

جماعت اسلامی کے لئے بھی الیکشن میں عافیہ صدیقی سٹنٹ کے علاوہ کچھ نہیں بچا۔ رہی پی ٹی آئی تو ممکن ہے پنجاب میں جہانگیر ترین اور پختونخوا میں ایک دوسرا ڈارک ہارس پی ٹی آئی کو بچا کر رکھے۔ کیونکہ پریشر گروپ کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)