ملک کو پی ڈی ایم کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا: فواد چوہدری
پی ٹی آئی کے سابق رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ہم حل کی طرف جائیں گے اور پوری امید ہے کہ بے شمار ایسے لوگ ہیں جو جیلوں میں گئے ہیں جو براہ راست ان معاملات سے جڑے نہیں تھے۔ ان لوگوں اور کارکنوں کو جیلوں سے باہر نکالنا ہم سب کی مجموعی ذمہ داری ہے۔
فواد چوہدری نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی طور پر ممکن نہیں ہوگا کہ ہم ان حالات میں اپوزیشن کی جگہ خالی چھوڑ دی جائے اور شریف، زرداری یا فضل الرحمٰن کو کھل کھیلنے کا موقع دیا جائے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں غربت بڑھے اور اگلی نسلیں بحران کا شکار ہوں گی تاہم یہ بحران حل کرنے کے لیے ہم اپنی کوششیں کریں گے۔
جو کچھ ہوا وہ ہم سب کی ذمہ داری تھی کہ نہ ہوتا لیکن بدقسمتی سے ہوا۔ کئی بے گناہ کارکن اندر گئے ہیں اور ان کو باہر نکالنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام لوگوں کے ساتھ بڑی اچھی گفتگو ہوئی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں اس کا حل کیسے نکال پاتے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارا جو نظریہ ہے اس کے لیے ضروری ہے ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ آج پی ٹی آئی کی سابق قیادت کے ساتھ ہماری گفت شنید ہوئی ہے۔ اسد عمر کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ پرویز خٹک، اسد قیصر، علی زیدی، حماد اظہر، فرخ حبیب، شہزاد وسیم، عاطف خان، شہرام ترکئی اور تمام لوگوں سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔
ہم اڈیالہ جیل شاہ محمود قریشی سے ملنے آئے تھے۔ ان سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ پاکستان کو ایک مستحکم حل کی طرف جانا ہے اور حل نکالنا ہے۔ پاکستان 25 کروڑ کی آبادی کا ملک ہے۔ عوام کو آصف زرداری اور نواز شریف کے سہارے نہیں چھوڑا جا سکتا ہے اور موجودہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں پر عوام کو کسی صورت نہیں چھوڑا جا سکتا۔
پاکستان کے اندر معاشی، سیاسی اور آئینی حوالے سے غیریقینی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ پی ڈی ایم حکومت اس کی براہ راست ذمہ دار ہے۔ ملک کے حالات میں 9 مئی کے بعد اقدامات ہوئے ہیں۔ ہم سب نے 9 مئی کو جو کچھ ہوا اس کی سخت مذمت کی ہے۔ جو عناصر اس میں شامل ہے، اس کے خلاف کارروائی جاری ہے اور قانون اپنا راستہ لے گا۔