پی ڈی ایم سے کہتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کا پلان اے سے پلان بی میں بدل سکتا ہے: عمران خان
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پی ڈی ایم جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا پلان اے سے پلان بی میں جانے میں پتا نہیں چلتا۔ جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے وہ آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم والے سمجھتے ہیں کہ وہ بچ جائیں گے۔ جب پلان بی بنے کا تو آپ کو پتا بھی نہیں چلے گا۔ عمران خان نے پی ٹی آئی کے یوٹیوب چینل پر نشر ہونے والے خطاب کا آغاز نیب چیئرمین احمد نذیر بٹ کو ہرجانے کا نوٹس بھیجنے کے اعلان سے کیا۔ یہ خطاب کسی بھی دوسرے ٹی وی چینل سے نہیں دکھایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نیب چیئرمین کو 15 ارب کے ہرجانے کا لیگل نوٹس بھجوایا ہے۔ اس آدمی نے سب کچھ بدنیتی پر کیا، نیب انکوائری جب تحقیقات میں تبدیل ہوتی ہیں تو ملزم کو بتایا جاتا ہے، مجھے بار بار نوٹس نہیں دیا گیا۔ ان کی وجہ سے باہر کی دنیا میں یہ خبر گئی کہ عمران خان کو کرپشن کیس میں پکڑا ہے۔ اس سے میرے فلاحی اداروں کے لیے رقم جمع کرنے کی مہم متاثر ہو سکتی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی شکایت کروں گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ جو تحریکِ انصاف کے کارکنوں کے ساتھ ہوا اس کے بعد نفرت پھیلائی جا رہی ہے جو یہیں ختم نہیں ہو گی۔ ہمارے 25 لوگ ہلاک ہوئے ہیں ان کے خاندان ڈر کر سامنے نہیں آ رہے۔ جو کارکن گرفتار ہوئے یا چھپے ہوئے ہیں، ان کے بارے میں بھی کچھ پتا نہیں چل رہا۔
اس دوران ایک ٹوئٹ بیان میں عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ ان مذاکراتی کمیٹی کے ارکان پرویز خٹک اور اسد قیصر کو اسٹیبلشمنٹ نے مذاکرات کے بہانے بلا کر سیف ہاؤس میں رکھا ہؤا ہے۔ ان سے پی ٹی آئی چھوڑنے کا کہا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ بند کمروں میں فیصلہ ہو گیا ہے کہ پارٹی کو ختم کرنا ہے۔ عمران خان کو اکیلا کرنا ہے۔ عمران خان اکیلا ہو چکا ہے، عمران خان کے اردگرد کوئی بھی نہیں ہے۔ نہ میں کسی کو کال کر سکتا ہوں، نہ میں کسی سے بات کر سکتا ہوں کیونکہ سب چھپے ہوئے ہیں۔
عمران خان نے ایک بار پھر دہرایا کہ الیکشن میں ان کی جماعت ہی جیتے گی چاہے کچھ بھی کر لیا جائے۔