جناح ثالث کے لئے راست اقدام
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 02 / جون / 2023
کسی بھی جیتے جاگتے باشعور انسان کو وقت سے ہر لمحہ سیکھنا چاہیے۔ اسی کا نام ارتقا ہے، بصورت دیگر جمود ہے۔ کوئی بھی شخص خواہ عمر کے کسی بھی حصے میں ہو جب خود کو عقل کل سمجھنے لگتا ہے تو اس کا شعوری سفر اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔
درویش کی زندگی کا اچھا خاصا حصہ مذہبی جنونی اور مولوی کی حیثیت سے گزرا ہے۔ اسی اپروچ کے زیر اثر اس نے اوائل عمر میں مولانا مودودی کی تقریباً تمام کتب پڑھ ڈالی تھیں۔ مولانا کے بعد ان کے جانشین اور ان کی جماعت کے امیر میاں طفیل محمد سے اتنی قربت رہی کہ وہ اپنا جو دکھ درد اپنے بچوں سے بھی شیئر نہیں کرتے تھے، وہ اس ناچیز کے سامنے بیان کرتے تھے۔ کبھی موقع ملا تو یہ تمام یادداشتیں تحریر کی جائیں گی۔ میاں صاحب نے جب جماعت کی ذمہ داری پر مزید فائز رہنے سے معذرت کرلی اور ان کی جگہ قاضی حسین احمد امیر بنائے گئے تو ان دنوں کی ملاقاتیں، یادیں اور خط کتابت ایک امانت اور اثاثے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
قاضی صاحب کی پالیسیوں، ذات پرستی بلکہ اگر اجازت مرحمت فرمائی جائے تو کئی شعبدہ بازیوں سے میاں صاحب اچھے خاصے نالاں تھے۔ میاں صاحب سے تمام تر عقیدت مندی کے باوجود کئی معاملات میں اختلاف رائے بھی ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر درویش افغان جہادی رہنما گلبدین حکمت یار کو افغانستان میں آگ لگانے اور خون بہانے کا بڑا ذمہ دار سمجھتا تھا جبکہ محترم میاں صاحب انہیں ایک مخلص اسلامی لیڈر یا جہادی رہنما خیال کرتے تھے۔ ان کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے جب ناچیز نے میاں صاحب کے سامنے یہ کہا کہ میاں صاحب حکمت یار نے اپنےساتھیوں کا طیارہ اڑا دینے کا جو بیان دیا ہے اس میں مجھے حکمت تو کہیں دکھائی نہیں دی بلکہ حماقت ہی حماقت ہے۔ تو وہ اس درویش سے اچھے خاصے ناراض ہوئے۔
سب کو معلوم ہے کہ میاں صاحب صدر جنرل ضیاالحق کے زبردست حمایتی تھے بلکہ اس سے بڑھ کر وہ افواج پاکستان کے لئے بحیثیت مجموعی بڑی حدتک ہمدردانہ خیالات یا جذبات رکھتے تھے۔ وہ انہیں پاکستان کے محافظ کی طرح دیکھتے تھے۔ حتیٰ کہ البدر اور الشمس کی سرگرمیوں کوبھی پروفیسر غلام اعظم کے ساتھ ساتھ غلط نہ سمجھتے تھے۔ بلکہ اس سب کو اسلام اور پاکستان سے محبت کا باعث خیال کرتے تھے۔ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر وہ جنرل یحییٰ خان کے متعلق بھی بری رائے نہ رکھتے تھے۔
اس کی شراب نوشی اور دیگر خرافات کے حوالے سے درویش کے ایک سوال پر میاں صاحب نے ایسی باتوں کی نفی تو نہ فرمائی مگر یہ ضرور کہا کہ میں جب بھی انہیں ملنے گیا کبھی کسی ایسی صورتحال سے یا ایسی خرافات سے واسطہ نہیں پڑا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اس طرح کے صاف ستھرے ماحول کا خصوصی اہتمام کرتا ہو۔ مگر میرے علم میں وہاں کبھی ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ اس کے برعکس وہ کم از کم میرے سامنے کسی مجوزہ آئینی ڈھانچے یا فریم ورک میں اسلامی شقوں کی حمایت میں رطب اللسان پایا گیا۔ فوجی حکمرانوں یا آمروں بشمول ایوب، یحییٰ اور ضیا کی جماعت اسلامی نے مودودی صاحب اور میاں صاحب کے ادوار میں اس نوع کی مخالفت کبھی نہیں کی جس کی کوئی بھی جمہوری الذہن شخص امید یا توقع کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس جماعت کا عمومی رویہ ان ڈکٹیٹروں کی حمایت کا رہا۔
ایک مرتبہ اس حوالے سے درویش نے میاں صاحب کے سامنے اچھی خاصی جرح کی کہ آپ جیسے نیک اور صالح لوگ فوجیوں کی ناجائز حمایت کیوں کرتے ہیں۔ میاں صاحب نے پہلے تو ناجائز حمایت کوتسلیم نہیں کیا۔ یہی اصرار کیا کہ ہمارا تعاون اس قرآنی آیت کی موافقت میں ہے کہ تعاون علی البر و التویٰ والا تعاون علی الاثمہ والعدوان۔ یہ کہ ہم نیکی اور اچھائی میں تو تعاون کرتے ہیں لیکن غلط باتوں پر مخالفت کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے تفصیل کے ساتھ اپنی اس نوع کی جماعتی پالیسی پر روشنی ڈالی۔ درویش کو اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے مصری صدر جمال عبدالناصر کے اخوان المسلمون کے ساتھ برے سلوک کو بطور تمثیل بیان فرمایا۔ ہم نے شروع میں ایوب خان کی مخالفت کی تھی جبکہ اخوان نے ابتداً سید قطب کی قیادت میں ناصر سے تعاون کیا تھا مگر پھر اختلافات اتنے شدید ہوتے چلے گئے اور مخالفت اتنی شدت تک چلی گئی کہ صدر ناصر نے اخوان کی ابھرتی یا اٹھتی ہوئی طاقت کو بدترین مظالم سے کچل کر رکھ دیا۔ اس سے ہم نے یہ سبق سیکھا کہ ہم اپنے حکمرانوں سے چاہے وہ فوجی ڈکٹیٹر ہی کیوں نہ ہوں اختلاف یا مخالفت تو کریں گے، جہاں وہ کوئی غلط قد م اٹھائیں گے۔ مگر اس مخالفت کو دشمنی کی حد تک نہیں بڑھائیں گے۔
ان کے یہ الفاظ آج بھی کانوں میں ہیں کہ ہم انہیں چڑائیں گے نہیں۔ کسی بھی بات پر اور نہ خواہ مخواہ کی دشمنی ڈالیں گے۔ تاکہ ہم اپنا دعوتی کام بہتر اسلوب میں جاری رکھ سکیں۔ بلاشبہ آج کے بدلے ہوئے حالات میں ہم میاں صاحب کے اس زاویہ نگاہ یا پالیسی پر کہیں زیادہ تنقید کرسکتے ہیں۔ اور فوجی آمروں سے ان کا نرم رویہ آج ہمیں ناقابل دفاع محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت اگر اپنے جثے اور طاقت کا ادراک کئے بغیر فوج یا جنرلز سے براہ راست دست و گریبان ہو جائے گی تو کسی کامیابی کی بجائے الٹی منہ کی کھائے گی۔ آپ جتنے بھی طاقت ور ہوں۔ آپ کے پاس جتنی بھی افرادی قوت کا جنوں ہو، اپنے ملک کی فوجی و عسکری طاقت سے براہ راست ٹکراؤ کی پالیسی سے اجتناب فرمائیں۔ آپ اصولی و نظری تنقید جتنی چاہے مرضی کرلیں مختلف النوع سکیمیں اور پالیسیاں بھی اپنائیں لیکن براہ راست اگر آپ 9 مئی جیسے ’’راست اقدام‘‘ پر آ جائیں گے تو سمجھ لیں کہ آپ خود کش دھماکہ کرنے جا رہے ہیں، جس میں وہ ہوں نہ ہوں آپ ضرور بھسم ہو جائیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کی ہر دو باشعور سیاسی قیادتوں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے اپنے اوپر ہونے والی ان گنت زیادتیوں کے باوجود مخالفت کو ایک حد تک پروقار طور پر رکھا ہے کبھی بھی ریڈ لائن کراس نہیں کی۔ اپنی مختلف النوع سیاسی چالوں سے بارہا فوجی ڈکٹیٹروں کو پسپائی پر مجبور بھی کردیا ہے۔ اور بعض اوقات خود بھی کئی قدم پیچھے ہٹنا پڑا ہے لیکن براہ راست ان پر حملہ آور ہونے کی کاوش تو دور کی بات سوچ بھی اپنے نہاں خانوں میں نہیں پالی۔ بالخصوص نواز شریف نے انہیں ہمیشہ حکمت و تدبر سے برے حالات کو بہتری میں بدل کر سمجھداری سے راہ نکالی ہے۔ یا ایک طرح سے پسپائی دی ہے۔
ہمارے موجودہ جناح ثالث چونکہ سیاستدان نہیں ہیں بلکہ درویش کی رائے میں یہ شخص سیاسی اناڑی ہے شعور و فراست سے خالی یا پیدل۔ اپنی شخصیت یا خود نمائی و خودستائی کے خول میں گرفتار ایسا شخص ہے جسے کچھ ادراک نہیں کہ وہ براہ راست فوج اور اس کی تنصیبات یا جی ایچ کیو پر حملہ آور ہو کر کتنی بڑی حماقت کر چکا ہے۔ اور پھر بھی اس کےنتائج و عواقب کا احساس کرنے سے قاصر ہے۔ وہ نواز شریف اور دیگر سیاستدانوں کے خلاف جس نوع کی زبان استعمال کرتا چلا آ رہا ہے، غلط فہمی سے سمجھ بیٹھا ہے کہ میں اتنا پاپولر لیڈر ہوں کہ مجھے کون ہے جو ہاتھ ڈال سکتا ہے؟
یہ اس کی بھول ہے۔ دوسرے ہمارے جمہوری لوگوں کو یہ سمجھ ہونی چاہئے کہ اس شخص کا پورا بیانیہ یا ایجنڈا نہ تو آئینی و جمہوری ہے اور نہ اخلاقی و اصولی۔ ہوس اقتدار میں یہ شخص ملک کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہتا ہے جو ماقبل 47 اور 71 میں یہاں ہو چکا ہے۔ مگر اب کے نہیں ہوگا۔ اس لئے درویش کا مخلصانہ مشورہ ہے کہ قومی سیاست چو نکہ جناح ثالث کے بس میں نہیں، اس لئے وہ جو تباہی ڈھا چکے ہیں اسی پر اکتفا کرتے ہوئے اب انگلینڈ اپنے بال بچوں کے پاس چلے جائیں، وہاں ان کی تعلیم و تربیت کے ساتھ خود بھی سکون سے رہیں اور قوم کو بھی اس دلدل سے نکلنے دیں۔