بھارت میں ٹرین کاحادثہ: تین سو لوگ ہلاک سینکڑوں زخمی
بھارتی ریاست اوڈیسا میں تین بھارتی مسافر ٹرینوں کے تصادم سے مرنے والوں کی تعداد تین سو تک پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ جبکہ 850 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی صورت حال کا جائزہ لینے جائے حادثہ پر پہنچے ہیں۔
فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق حکومت کے ایک عہدیدار نے کہا کہ اس ریل حادثے کو دو دہائیوں سے زائد کے عرصے میں ملک کا سب سے مہلک ترین حادثہ قرار دیا گیا ہے۔ اوڈیسا فائر سروسز کے ڈائریکٹر جنرل سدھانشو سارنگی نے بھی کہا کہ ’ریسکیو کا کام ابھی بھی جاری ہے اور بہت سے افراد شدید زخمی‘ ہیں۔
رائٹرز کی ویڈیو فوٹیج میں ہفتے کی صبح بھی پولیس اہلکاروں کو سفید کپڑوں میں ڈھکی لاشوں کو ریلوے پٹریوں سے ہٹاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ ٹرینوں کا یہ تصادم جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً شام 7 بجے اس وقت ہوا جب بنگلور سے ہاوڑہ، مغربی بنگال جانے والی ہاوڑہ سپر فاسٹ ایکسپریس کولکتہ سے چنئی جانے والی کورومنڈیل ایکسپریس سے ٹکرا گئی تھی۔
ریاست کے چیف سیکریٹری پردیپ جینا نے ٹوئٹر پر کہا کہ جمعہ کو ہونے والے حادثے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اوڈیسا کے بالاسور ضلع میں 200 سے زیادہ ایمبولینسوں اور 100 اضافی ڈاکٹروں کو جائے حادثہ پر بلالیا گیا ہے۔
ویڈیو فوٹیج میں دیکھا گیا کہ بچ جانے والے افراد کو تلاش کرنے کے لیے امدادی کارکنان تباہ شدہ ٹرینوں میں سے ایک پر چڑھے ہیں، جب کہ مسافر مدد کے لیے دہائیاں دے رہے تھے۔ حکام نے حادثے کی متضاد وجوہات بتائیں جن پر ٹرین پہلے پٹری سے اتری اور دوسری کے ساتھ ٹکرا گئی، ریلوے کی وزارت نے کہا کہ اس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
حادثے کے بعد ایک وسیع سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا جس میں فائر ڈپارٹمنٹ کے سینکڑوں اہلکار اور پولیس افسران کے ساتھ ساتھ سونگھنے والے کتے بھی شامل ہیں جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کی ٹیمیں بھی اس مقام پر موجود ہیں۔ حادثے کے بعد سینکڑوں نوجوان اوڈیسا کے علاقے سورو میں ایک سرکاری ہسپتال کے باہر خون کا عطیہ دینے کے لیے پہنچے۔
بھارتی ریلوے کے مطابق اس کا نیٹ ورک روزانہ ایک کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو نقل و حمل کی سہولت فراہم کرتا ہے لیکن سرکاری اجارہ داری کا حفاظتی ریکارڈ پرانے انفراسٹرکچر کی وجہ سے خراب ہے۔
ریاست کے وزیر اعلی نوین پٹنائک نے مہلک ٹرین حادثے کے متاثرین کے احترام کے طور پر 3 جون کو یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی خود جائے حادثہ پر پہنچے ہیں تاکہ جانی نقصان کا اندازہ کرنے کے علاوہ امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرسکیں۔