سب جان لیں: فوج کی نہ دوستی اچھی ، نہ دشمنی
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 04 / جون / 2023
تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان نے برطانوی نیوز ایجنسی ’روئیٹرز‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں گرفتار کرکے فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا اور پھر جیل میں ڈال دیاجائے گا۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے ایک بار پھر اصرار کیا ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں تحریک انصاف ملوث نہیں تھی بلکہ یہ سب ڈرامہ ملٹری اسٹبلشمنٹ نے کیا تھ اتاکہ تحریک انصاف کو پھنسایا جائے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ فوج اب کھل کر سامنے آگئی ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اس انٹرویو اور عمران خان کے الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔طاقت ور حلقوں کی جانب سے عمران خان کو نظر انداز کرنے کے باوجود ان کی سیاسی پوزیشن میں کمی واقع نہیں ہوگی۔ اس کے لئے دیگر عوامل اہم کردار ادا کریں گے۔ جیسا کہ دیکھا بھی جارہا ہے کہ متعدد الیکٹ ایبلز شخصی اور انفرادی مفادات کی وجہ سے تحریک انصاف چھوڑ کر جارہے ہیں ۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف شاید اب بطور پارٹی ویسی سیاسی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے جو عمران خان کی مقبولیت اور حکومتی معاشی حکمت عملی کی ناکامی کے باعث اسے حاصل ہوسکتی تھی۔ سانحہ 9 مئی نے اس صورت حال کو تبدیل کردیا ہے۔ اگرچہ عمران خان کا اصرار ہے کہ ان کا ساتھ چھوڑنے والوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے جس کی وجہ سے وہ تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن یہ بیان بہر طور پورا سچ نہیں ہے۔
جو لوگ تحریک انصاف چھوڑ کر دوسری پارٹیوں میں جائے پناہ تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ان کے بارے میں کسی کو بھی یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ وہ کبھی اسٹبلشمنٹ کے مقابلے میں کھڑے ہوسکتے ہیں۔ جب عمران خان نے براہ راست فوج سے تصادم کا راستہ اختیار کرنے کا تہیہ کرلیا تو ان لوگوں کے لئے اپنے راستے الگ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ہوسکتا ہے کہ فوری گرفتاریوں اور اسٹبلشمنٹ کے اشاروں نے بھی کچھ کام دکھایا ہو لیکن یہ عناصر اپنے اپنے علاقے کی سیاست کرتے ہیں۔ ان کا ووٹ بنک صرف اسی لئے ان کے ساتھ ہوتا ہے کہ وہ ہر مرحلے پر اقتدار میں آنے والی پارٹی کے ساتھ مل کر اپنے علاقے کے لئے کچھ سہولتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اگر یہ لوگ تحریک انصاف میں شامل تھے تو اس کی وجہ بھی یہی یقین تھا کہ یہ پارٹی آئیندہ انتخاب میں کامیابی حاصل کرے گی۔ اب ان کی علیحدگی کو صرف عمران خان یا پی ٹی آئی سے ناراضی سمجھنے کی بجائے اس رویہ کو سیاسی بیرو میٹر سمجھنا چاہئے کہ مستقبل میں سیاسی طور سے ملک کا نقشہ کیا رنگ اختیار کرنے والا ہے۔
ان حالات میں اگر فوج یا حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عمران خان کو سیاسی حقیقت کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تو دوسری طرف عمران خان کو بھی سمجھنا ہوگا کہ سیاسی غلطی کو مان لینے سے ہی اصلاح کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ اگر عمران خان 9 مئی کے حوالے سے مسلسل متضاد بیانات دیتے رہیں گے اور یہ قیاس کرنے کی کوشش نہیں کریں گے کہ اس روز رونما ہونے والے واقعات نے ملکی سیاست کا نقشہ تبدیل کردیا ہے اور تحریک انصاف کے لئے حالات مشکل ہوگئے ہیں ۔ فوج کسی صورت ایسی پارٹی کو معاف کرنے پر تیار نہیں ہے جس نے نہ صرف عسکری تنصیبات پر حملے کئے بلکہ خود اس کے کچھ لوگوں کو ورغلا کر فوج میں ’بغاوت‘ کے آثار پیدا کرنے کی کوشش کی۔
البتہ اس موقع پر ملکی سیاسی قیادت کو عمران خان کی ہٹ دھرمی کے باوجود کوئی ایسا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس سے ملک میں آئینی عمل داری کے تقاضے پورے ہونے میں زیادہ رکاوٹیں حائل نہ ہوں۔ شہباز شریف کی قیادت میں حکمران سیاسی جماعتوں کو ایک طرف ملک میں بر وقت انتخابات کو یقینی بنانا چاہئے تو دوسری طرف یہ امید نہیں کرنی چاہئے کہ عمران خان کو سیاسی میدان سے نکال باہر کیا جائے تاکہ دوسری دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے لئے راستہ کھل جائے۔ یہ کہنے میں بھی مضائقہ نہیں ہونا چاہئے کہ سب سے بڑا چیلنج مسلم لیگ (ن) کو درپیش ہے۔ اسی لئے اس کے بعض عناصر کسی بھی قیمت پر عمران خان کے ساتھ سیاسی مفاہمت پر راضی نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ عمران خان کو نیچا دکھا کر ہی پنجاب پر دوبارہ شریف خاندان کا تسلط قائم کیا جاسکتا ہے۔
گو کہ اس قسم کی سوچ سیاسی خام خیالی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ ملک میں اگر فوجی قیادت کے ساتھ ساز باز کے ذریعے سیاسی کامیابی کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس سے جمہوری فصل کاشت نہیں ہوسکتی۔ جمہوریت کسی ایک پارٹی یا شخصیت کا نام نہیں ہے اور نہ ہی ایک پارٹی کو کسی ایک علاقے میں ہمیشہ کے لئے بالادستی کی یقین دہانی کروانے کو جمہوریت کہا جاسکتا ہے۔ جمہوریت چند بنیادی اصولوں کا نام ہے جن میں سر فہرست آئین و قانون کا احترام ہے۔ اسی لئے اگر عمران خان اور تحریک انصاف نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا سیاسی بت توڑنے کے لئے فوج کی انگلی پکڑ کر سیاسی کامیابی حاصل کی تو اس کا عبرعات ناک انجام بھی وہی بھگت رہے ہیں۔ ماضی کو زیادہ دور تک نہ بھی کنگھالا جائے تو بھی مسلم لیگ (ن) کے لئے یہ نوشتہ دیوار ہونا چاہئے کہ 2017 میں کیسے پارٹی کے لئے حالات خراب کرکے نوازشریف کو سیاست سے باہر رکھنے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اگر مختلف وجوہ کی بنا پر اب حالات کچھ موافق ہوئے ہیں تو اس اہم پارٹی کو فوج کے ساتھ سانجھے داری کا ایک نیا سلسلہ شروع کرنے سے اجتناب برتنا چاہئے۔ فوج کا کردار اگر سرحدوں کی حفاظت تک ہی محدود رہے، تب ہی اس ملک میں معاشی بہتری اور جمہوری نظام مستحکم ہونے کے امکانات پیدا ہوں گے۔
عسکری قیادت کو 2021 میں ’عمران پروجیکٹ‘ کی ناکامی کے بعد یہ بات سمجھ آگئی تھی۔ اسی لئے جنرل قمر جاوید باجوہ بار بار یہ اعلان کرتے رہے تھے کہ فوج اب سیاست میں حصہ نہیں لے گی۔ البتہ انہوں نے بنفس نفیس چونکہ ملکی سیاست میں جوڑ توڑ میں حصہ لیا تھا ، اس لئے جب جنرل باجوہ نے سیاست سے تائب ہونے کا اعلان کیا تو وہ عسکری حلقوں میں سب تک یہ پیغام مناسب طریقے سے نہیں پہنچاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ ریٹائرڈ فوجی افسروں کے علاوہ بعض حاضر سروس فوجی بھی قیادت کی طرف سے سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ ہونے کے باوجود تحریک انصاف کی سہولت کاری میں مصروف رہے۔ عمران خان اس انفرادی حمایت کی وجہ سے اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ وہ اس حمایت کی بنیاد پر فوجی قیادت کو بھی ایک بار پھر رام کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ایسے ہی غلط فیصلوں اور اندازوں کے بطن سے 9 مئی کا سانحہ رونما ہؤا ۔
اس سانحہ سے فوج کو بھی سبق سیکھنا چاہئے کہ کیسے ملکی سیاست میں بالادستی کے لئے تیار کئے گئے منصوبے خود ادارے کے ڈسپلن کو کمزور کرنے کا باعث بنے۔ یہ صورت حال تبدیل کرنے کے لئے فوری سرزنش کے طریقوں سے قصور واروں کو سزا دینا ہی کافی نہیں ہوگا۔ بلکہ عسکری قیادت کو تہ دل سے اس عہد پر قائم رہنا ہوگا کہ سیاست میں مداخلت سے فوج کو بطور ادارہ نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ فوج کو مستقبل میں اس قسم کی بدمزگی اور پریشانی سے بچانے کے لئے فوج کو سیاسی جوڑ توڑ سے الگ رکھنے کے ٹھوس اور قابل عمل منصوبہ پر عمل کرنا ہوگا۔
اسی طرح عمران خان کو اس خیالی سراب سے باہر نکل آنا چاہئے کہ انتخابات کی صورت میں ، ان کے نامزد کردہ امیدوار ہی کامیاب ہوں گے اور تحریک انصاف حالیہ توڑ پھوڑ کے بعد بھی دو تہائی اکثریت حاصل کرسکتی ہے۔ اسے چھوٹا منہ بڑی بات نہ سمجھا جائے تو عرض کیا جائے کہ پنجاب کی سیاست میں بابائے قوم محمد علی جناح سمیت کسی قومی لیڈر کو کبھی ایسی پوزیشن حاصل نہیں ہوئی کہ عوام محض اس کے نام پر ووٹ دے کر سیاست کا پانسہ بدل دیتے ۔ یہ پوزیشن نہ ذوالفقار علی بھٹو کو حاصل ہوئی ، نہ نواز شریف کبھی اس پوزیشن میں تھے اور نہ ہی عمران خان یہ کارنامہ سرانجام دے سکتے ہیں۔
اگر عمران خان یہ سچ ماننے پر آمادہ ہوں تب ہی وہ یہ سمجھ سکیں گے کہ سانحہ 9 مئی کو فوجی قیادت کی سازش قرار دے کر ، وہ نہ تو اپنے ووٹ بنک میں اضافہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی قومی سیاست میں ان کی دوبارہ کامیابی کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔ بہتر ہوگا کہ وہ اس روز ہونے والے واقعات کی مذمت کریں، اس روز ہونے والے توڑ پھوڑ سے لاتعلقی کا اعلان کریں اور کسی بھی طریقے سے اس سانحہ میں تحریک انصاف کے کردار پر شرمندگی کا اظہار کریں تاکہ انہیں نئی سیاسی حکمت عملی تیار کرنے میں آسانی ہو۔ یہ کہہ دینے سے کہ ان پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلاکر انہیں جیل میں بند کردیا جائے گا، وہ ملکی سیاست میں کوئی بڑا طوفان برپا نہیں کرسکیں گے البتہ اپنی سیاسی پوزیشن اور سودے بازی کی حیثیت کو ضرور نقصان پہنچائیں گے۔
بعینہ حکومت کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عمران خان سمیت کسی بھی شہری کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمے چلا کر سزائیں دلوانے سے حکومت کی کا اعتبار ختم ہوگا، ملک کا نظام انصاف مذاق بن جائے گا اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ رانا ثناللہ ایسی باتیں کرکے جو سیاسی ’فائدہ‘ اٹھا چکے ہیں، وہ سب کے سامنے ہے۔ اب شہباز شریف کو کابینہ میں اس حوالے سے باقاعدہ پالیسی طے کرکے اعلان کرنا چاہئے کہ قصورواروں کو ان کے جرم کی سزا ضرور ملے گی لیکن منتخب لیڈر کے طور پر وہ کسی صورت شہریوں کو فوجی عدالتوں کے حوالے نہیں کریں گے۔
شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) اگر یہ دو ٹوک اعلان نہ کرسکے تو اس کا نقصان عمران خان اور تحریک انصا ف سے زیادہ مسلم لیگ کی سیاست کو پہنچے گا۔