نئے بجٹ میں تاجروں کو سہولت ملے گی: وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ تاجر اور کاروبار دوست بجٹ ہوگا۔ بجٹ میں عوامی فلاح وبہبود اور سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔
اتوار کو نجی نیوز چینل پر ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت گنجائش کے مطابق عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پائیدار نمو اور اقتصادی اہداف حاصل کرنے کے لیے حکومت طویل المدتی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ حکومت کی توجہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی پر ہے۔ ملک کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں، بجٹ کو عوامی امنگوں کے مطابق بنانے کی کوشش ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کاروبار اور سرمایہ کاری کا فروغ ہماری اولین ترجیح ہے اور کوشش ہوگی کہ بزنس کمیونٹی پر اضافہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ حکومت گزشتہ حکومت کی طرف سے پیدا کردہ اقتصادی مشکلات اور چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ملک کے اقتصادی مسائل حل کرنے کیلئے تمام شراکت داروں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔
وزیر خزانہ نے ڈیفالٹ کی تاریخوں کا اعلان کرنے والوں پر تنقید کی اور اصرار کیا کہ مخلوط حکومت نے سنگین چیلنجوں کے باوجود ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا ہے۔ تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کو ریاستی اداروں اور قوم کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی بجائے ملک کا خیر خواہ ہونا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو معلوم ہے کہ بجٹ میں تاجروں کو مزید مراعات کی ضرورت ہے۔ ہم اس شعبے کو اٹھانے اور ملک کو صحیح راستے پر ڈالنے کے لیے مختلف طویل المدتی تجاویز پر کام کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، وزیر خزانہ سحق ڈار سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور میوچل فنڈز ایسو سی ایشن کے مشترکہ وفد سے ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ملاقات کے دوران لوگوں کو اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے کے لیے کچھ تجاویز بھی پیش کیں۔