مولانا فضل الرحمان کے ناقابل قبول دلائل
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 05 / جون / 2023
پاکستان جمہوری اتحاد کے صدر مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بعض ایسی باتیں کی ہیں جن سے ملک کا جمہوری ڈھانچہ اور عدالتی نظام تہ و بالا ہوسکتا ہے۔ ضروری ہوگا کہ ان امور پر پی ڈی ایم اور حکومتی اتحاد اپنی پوزیشن واضح کرے تاکہ حکومت کے ارادوں اور ملک میں جمہوری نظام کے بارے میں کوئی ابہام باقی نہ رہے۔
اس گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے انتخابات کے بارے میں سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ ’ ہم نے ہمیشہ اتفاق رائے سے فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن کے حوالے سے بھی ہم متفقہ فیصلہ ہی کریں گے‘۔ ملکی سیاست میں طویل مدت سے سرگرم رہنے کی بدولت مولانا بخوبی جانتے ہوں گے کہ ملک میں بروقت انتخابات کا انعقاد کسی سیاسی جماعت یا سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی پسند ناپسند کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ آئین پاکستان میں طے شدہ معاملہ ہے جس سے جمہوریت اور آئین و قانون کا نام لینے والا کوئی شخص انحراف نہیں کرسکتا۔ پی ڈی ایم کے سربراہ کی اس بات کو تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے کہ ملک میں انتخابات کے لئے حکومتی اتحاد کو متحد اور ہم خیال ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ کسی وقتی پالیسی یا حکومتی حکمت عملی کا معاملہ نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کو صرف اس کا اعلان کرنا ہے۔
ملک میں اس وقت شدید بحران اور بداعتمادی کی جو کیفیت پائی جاتی ہے، اس کی بنیاد انتخابات کے بارے میں موجودہ حکومت کا غیر واضح اور مشکوک طرز عمل ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے رویہ پر تنقید کرنے کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ حکومت بروقت انتخابات کے آئینی تقاضے سے ہی منحرف ہوجائے۔ نہ ہی ملکی حالات کا حوالہ دے کر انتخابات کو ٹالا جاسکتا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ تو یہی ہے کہ ملکی آئین اسمبلیوں کی مدت کا تعین کرتا ہے جو اب پوری ہونے والی ہے۔ آئین میں کوئی ایسی شق موجود نہیں ہے جس کے تحت کسی بھی حالت میں اس مدت میں غیر ضروری توسیع کی جاسکے۔ موجودہ حکمران اتحاد کے پاس پارلیمنٹ میں کسی آئینی تبدیلی کے لئے دو تہائی اکثریت بھی نہیں ہے۔ گو کہ یہ طریقہ بھی ناقابل قبول اور ایک نئے تنازعہ کا سبب ہوسکتا تھا لیکن اگر پارلیمنٹ ملکی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے آئینی ترمیم کے ذریعے موجودہ حکومت یا اسمبلیوں کی مدت میں توسیع کرسکتی تو پھر بھی صورت حال مختلف ہوتی۔
انتخابات کے فوری اور بروقت انعقاد کی دوسری بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک میں موجود سیاسی بحران ہی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے شروع ہؤا تھا۔ عمران خان نے جب سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی متنازعہ رولنگ کے بعد قومی اسمبلی توڑی تھی تو انہوں نے فوری انتخابات کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں بھی وہ اسی مطالبے پر قائم رہے۔ تاہم سپریم کورٹ کی مداخلت اور فیصلہ کی وجہ سے یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ حالانکہ اگر حکومتی اتحاد کے اس دعوے کو ہی پیش نظر رکھا جائے کہ عمران خان وزیر اعظم کے طور پر اپنی پسند کا آرمی چیف لاکر اقتدار پر طویل مدت کے لئے قبضہ کرنا چاہتے تھے تو یہ سوال بھی کیا جاسکتا ہے کہ یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے تحریک عدم اعتماد منظور کرکے تحریک انصاف کی حکومت ختم کرنا ہی کیوں ضروری تھا؟ یہ موقع تو عمران خان نے قومی اسمبلی توڑ کر اور نئے انتخابات کا اعلان کرکے خود ہی فراہم کردیا تھا۔ سیاسی جماعتیں انتخابات میں تحریک انصاف کو شکست دے کر عمران خان کے ’عزائم‘ کو ناکام بنا سکتی تھیں۔ 2022 کے آغاز میں تحریک انصاف کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے عمران خان اور ان کی حکومت غیر مقبول تھے۔ اور انہیں شکست دینا مشکل نہیں ہونا چاہئے تھا۔
اس کے برعکس اپوزیشن کی اتحادی جماعتوں نے انتخابات میں جانے کی بجائے پارلیمانی امور میں سپریم کورٹ کی مداخلت کا خیر مقدم کیا۔ یہ رویہ بعد میں موجودہ حکومت کے لئے اس وقت مشکلات کا سبب بنا جب سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبیاں ٹوٹنے کے بعد 90 دن کی مقررہ مدت میں انتخابات کروانے پر اصرار کیا۔ بوجوہ حکومت نے سپریم کورٹ کے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا اور عدالت عظمی اس فیصلہ پر عمل نہیں کرواسکی۔ تاہم یہ نکتہ یہاں موضوع بحث نہیں ہے لیکن انتخابات کے بارے میں موجودہ حکومت کا طرز عمل ضرور قابل توجہ ہے اور اسے بہر صورت تبدیل ہونا چاہئے۔
عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد شہباز شریف کی سربراہی میں اپریل 2022 قائم ہونے والی حکومت کو بخوبی اندازہ تھا کہ اس کے پاس ایک سال کے لگ بھگ مدت ہے۔ حکمران سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں جو کمی اس وقت محسوس کی جارہی ہے، اس کے بارے میں تمام سیاسی لیڈروں کو قبل از وقت اندازہ تھا۔ حکومتی بوجھ اور خراب معاشی حالت کی وجہ سے یہ صورت حال ناگزیر تھی۔ اب حالات کو بہانہ بنا کر انتخابات معطل یا مؤخر کرنے کی کوششیں موجودہ حکمران جماعتوں کی نیک نیتی اور آئینی احترام کے بارے میں شبہات پیدا کررہی ہیں۔
جیسے سانحہ 9 مئی کو عذر بناکرریاستی ہتھکنڈوں کے ذریعے تحریک انصاف کو ختم کرنا غلط ہو گا بالکل ویسے ہی اس روز ہونے والے وقوعات کا حوالہ دے کر انتخابات مؤخر کرنے کی کوئی کوشش بھی قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ انتخابات ہی سیاسی جماعتوں کو عوام کی طرف سے بولنے اور پارلیمنٹ میں ان کی نمائیندگی کرنے کا جواز و استحقاق فراہم کرتے ہیں۔ حکومت اگر مقررہ آئینی مدت سے تجاوز کرے گی اور انتخابات ٹالنے کی کوشش کی جائے تو اسے آئین کی خلاف ورزی کا ہی نام دیا جائے گا۔ انتخابات کے انعقاد کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ عوام اپنی پسند کے لوگوں یا پارٹی کو اقتدار تک پہنچا سکیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ حکمران جماعتیں صرف اس وقت انتخاب کروائیں جب انہیں اپنے جیتنے یا اپوزیشن کے ہارنے کا یقین ہو۔ یہ طریقہ جمہوریت کو دفن ، آئین کو مسترد اور نظام پر عوامی اعتماد کو تباہ کرنے کے مترداف ہوگا۔ اسی لئے مولانا فضل الرحمان کی طرف سے انتخابات کے بارے میں سوالات پر لیت و لعل پریشان کن اور تکلیف دہ ہے۔
اسی گفتگو میں مولانا فضل الرحمٰن نے یہ بھی کہا ہے کہ ’عدلیہ کے جانبداری کا مظاہرہ کرنے پر ہم عوامی عدالت میں گئے۔ جمہوریت میں یہی ہوتا ہے کہ ملک کے کسی ادارے کی کارکردگی پر عوام کو اعتراض ہوتا ہے تو وہ اپنی رائے دیتے ہیں جس کا احترام ہونا چاہیے‘۔ مولانا کی اس دلیل کو حجت مان لیا جائے تو ملک کانظام انصاف چوپٹ ہوکر رہ جائے گا۔ کوئی بھی سیاسی جماعت یا کوئی شخص چند ہزار لوگوں کو جمع کرکے احتجاج کرے گا اور عدالتیں اس کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گی۔
مولانا عام طور سے ناپ تول کر متوازن انداز میں بات کرنے کی شہرت رکھتے ہیں لیکن عدالتی نظام کے بارے میں ان کا مؤقف انصاف و قانون کے بنیادی اصول سے متصادم ہے۔ عدالتیں قانون اور شہادتوں کی روشنی میں فیصلے کرتی ہیں۔ منصف یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے فیصلوں کو عوامی پزیرائی نصیب ہوگی یا عوام کی اکثریت انہیں مسترد کردے گی۔ بلکہ وہ قانون کے مطابق حکم جاری کرتے ہیں اور سب لوگوں کو یہ فیصلہ تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اگر عدالتی فیصلوں کو عوامی قبولیت سے منسلک کردیا جائے تو اس سے ملک کا عدالتی نظام ہی نہیں بلکہ سارا آئینی انتظام تباہ ہوجائے گا۔ اسی لئے مولانا کا سپریم کورٹ کے باہر احتجاج اور دھرنا بھی غلط تھا اور اب عدالتی طریقہ کا رکو عوام کی منظوری سے منسلک کرنے کی دلیل بھی بے وزن اور ناقابل قبول ہے۔
اسی بات چیت میں مولانا فضل الرحمان نے 9 مئی کے سانحہ کا حوالہ دیتے ہوئے کور کمانڈر ہاؤس اور جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والوں کے خلاف آرمی ایکٹ متحرک کرنے کی بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں ایسا وقوعہ پہلے کبھی نہیں ہؤا۔ اس لئے غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کرنے پڑیں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ آرمی ایکٹ پاکستانی قوانین کا حصہ ہے، اس لئے عسکری تنصیبات پر حملے کرنے والوں پر اس ایکٹ کا اطلاق ہوگا۔ البتہ آرمی ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے فوجی عدالتوں کا ذکر نہیں کیا۔ یہ ایک مثبت پہلو ہے ورنہ حکومتی نمائیندے تو مسلسل سانحہ 9 مئی میں ملوث لوگوں کے مقدمے فوجی عدالتوں میں چلانے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ حالانکہ آئینی طور سے اس وقت ایسی عدالتیں فعال نہیں ہیں۔
مولانا کی یہ بات اگر قانونی طور سے درست ہے کہ آرمی ایکٹ پاکستانی قوانین کا حصہ ہے اور اس کا شہریوں پر بھی اطلاق ہوسکتا ہے تو اس کا فیصلہ مناسب عدالتی فورم پر ہونا چاہئے ۔ سیاسی بیان بازی کے ذریعے سراسیمگی پیدا کرنا کسی حکومت یا سیاسی لیڈر کو زیب نہیں دیتا۔ اگر آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں کے خلاف فیصلے کرنے کا قانونی جواز موجود ہے تو عدالتیں اپنے سامنے آنے والے مقدمات میں موجود حقائق و شواہد کے مطابق فیصلے کرسکتی ہیں۔ لیکن اگر یہ قانون صرف مسلح افواج کے ارکان پر لاگو ہوتا ہے تو کسی صورت عام شہریوں کے خلاف اس ایکٹ کے تحت کارروائی نہیں ہونی چاہئے۔ فوجی عدالتوں سے شہریوں کو سزائیں دلانے کا طریقہ ملک میں جبر و استبداد اور انسان دشمن ریاستی طرز عمل کے ایک نئے باب کا اضافہ کرے گا۔
سانحہ 9 مئی افسوسناک واقعہ ہے۔ اب قوم کو اس سانحہ سے آگے بڑھ کر اس روز ہونے والے نقصان پر قابو پانے کی کوشش کرنا ہوگی۔ تاہم انتخابات ٹالنا، عدالتوں کو دباؤ میں لانا یا شہریوں کو فوجی عدالتوں کے سپرد کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمان جیسے لیڈر کو شہریوں کے حقوق سلب کرنے کی بجائے ، ان کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہونا چاہئے۔