مندری طوفان جمعرات کو کراچی پہنچے گا
بحیرہ عرب میں موجود سمندری طوفان ’بائپر جوائے‘ جمعرات کو کسی وقت سندھ میں کیٹی بندر اور بھارتی گجرات کے درمیان خشکی سے ٹکرائے گا۔ تیز ہوائیں، بارش اور اونچی لہریں طوفان کے نزدیک آنے کی اطلاع دے رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بائپر جوائے طوفان کراچی کے جنوب میں 300 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ طوفان کے اطراف میں 150 کلو میٹر فی گھنٹہ اور مرکز میں 170 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔ اس کے مرکز کے اردگرد سمندر میں لہروں کی اونچائی 30 فٹ تک ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آج کسی بھی وقت طوفان کا رخ شمال مشرق کی جانب ہوجائے گا۔ کل سہ پہر یا شام کو کیٹی بندر اور بھارتی ریاست گجرات کے ساحل سے ٹکرائے گا۔ کراچی میں قائم سائیکلون وارننگ سینٹر طوفان کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔
قبل ازیں این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری الرٹ میں کہا گیا تھا کہ سمندری طوفان مزید شمال/شمال مغرب کی جانب بڑھ چکا ہے اور کراچی سے صرف 350 کلومیٹر جنوب میں موجود ہے۔
وفاقی وزیر ماحولیات شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ عوام کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ لوگوں سے اپیل ہے کہ سمندری علاقوں سے دور رہیں۔ اسلام آباد میں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے کہا کہ بائپر جوائے پیش گوئی کے مطابق آگے بڑھے رہا ہے۔ کل کیٹی بندر میں خشکی سے ٹکرائے گا، کراچی میں یہ طوفان خشکی سے نہیں ٹکرائے گا لیکن بلند لہریں، تیز ہوائیں اور بارشوں کی صورت میں اس کے ممکنہ اثرات ہوسکتے ہیں۔
انخلا کے عمل میں تمام ادارے اور محکمے تعاون کر رہے ہیں۔ تمام اقدامت بروقت اٹھائے جارہے ہیں۔ 75 ریلیف کیمپس قائم کردیے گئے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کیمپس اسکول کالجز میں قائم کیے گئے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ کراچی میں ابھی بھی اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے۔ اس کے لیے کمشنر کراچی اور ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے رابطے میں ہے۔ انخلا کا عمل جاری ہے، اب تک 62 ہزار لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرلیا گیا ہے۔
پاکستان رینجرز کی جانب سے شاہ بندر سجاول، ٹھٹہ، گھارو اور بدین کی ساحلی پٹی میں متوقع سمندری طوفان کی زد میں آنے والے متاثرین کے لیے خشک راشن کی ترسیل کا عمل جاری ہے۔ ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق راشن بیگز، اشیائے خورونوش، پینے کا صاف پانی اور دیگر ضروریات زندگی پر مشتمل مجموعی طور پر 11 راشن ٹرک متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کر دیے ہیں، جس میں ایک موبائل کچن اور 4 ٹرک فلاحی تنظیم کے تعاون سے مہیا کیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے سمندری طوفان بائپر جوائے کے اثرات سے نمٹنے میں پاکستان اور بھارت کو مدد کا یقین دلایا ہے۔
گزشتہ روز بائپر جوائے کمزور ہو کر کیٹیگری 3 کے ’انتہائی شدید سمندری طوفان‘ میں تبدیل ہو گیا تھا اور مشرقی وسطی مقام سے شمال مشرقی بحیرہ عرب کی جانب بڑھ گیا۔