ہماری سیاست کا مستقبل؟

ان دنوں احباب اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ ہماری مستقبل کی سیاست کا بیانیہ یا نیا منظرنامہ کیا ہوگا؟ اس میں جناح تھرڈ کی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا اکتوبر /نومبر میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ہوسکیں گے؟ یا وہ اگلے برس کے مارچ اپریل تک چلے جائیں گے؟ کیا نوازشریف کی ان انتخابات مین شرکت ہوسکے گی؟

کیا نوازشریف کی جعلی سزائیں ختم کردی جائیں گی اور وہ اپنی پارٹی کی قیادت سنبھالتے ہوئے بنفسِ نفیس انتخابی مہم چلا سکیں گے؟ اور چوتھی بار وزیراعظم منتخب ہوسکیں گے؟ نئے انتخابی اتحاد کس طرح تشکیل پائیں گے کون کس کے ساتھ مل کر الیکشن لڑے گا اور یہ کہ اگلے انتخابی نتائج کیا ہونگے؟ کنگز پارٹی کا اعزاز کسے حاصل ہوگا؟

جن لوگوں کو پاکستانی سیاست کی تھوڑی بھی سمجھ بوجھ ہے وہ یہ ادراک کرسکتے ہیں کہ جس لیڈر یا پارٹی کو ہٹایا جاتا ہے اُسے اُسی موقع پر منعقد ہونے والے انتخابات میں لایا نہیں جاتا۔ دوسرے لفظوں میں اُسے آنے یا جیتنے نہیں دیا جاتا چاہے وہ پاپولر کیوں نہ ہو پاپولیریٹی کی ایسی کی تیسی کردی جاتی ہے۔ اس کے لیے لازم نہیں کہ 2018 کی طرح بیلٹ باکس میں باقاعدہ دھاندلی کروائی جائے یا ووٹوں میں ہیرا پھیری کی جائے۔ ایک بات خود ہمارے عوام کے اذہان میں بیٹھی ہوئی ہے کہ وہ ہٹائی گئی پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے۔ جس کے اوپر یہ ٹھپہ لگ جائے کہ طاقتوروں نے اُسے نہیں آنے دینا۔ ہمارے لوگ بالعموم جیتنے والی پارٹی کے ساتھ جاتے ہیں جس پارٹی کے متعلق انہیں ہارنے کا خدشہ ہو اس سے لوگ عموماً کنارہ کشی کر لیتے ہیں۔

اسی طرح کے اندازے طاقتوروں کے بھی ہوتے ہیں۔ اگر انہیں خدشات ہوں کہ ’ملک دشمن‘ لوگ آگے آ سکتے ہیں تو طاقتور الیکشن کا التوا کروا دیتے ہیں یا پھر ایسے طریقے سے کرواتے ہیں جن میں مثبت نتائج کی یقین دہانی لازم ہو۔ ایوب سے ہوتے ہوئے ملاحظہ کرتے جائیں چھپن کے آئین کا لازمی تقاضا فریش مینڈیٹ کا حصول تھا۔ مگر ایوب نے یہ تقاضا پورا نہ ہونے دیا اور جب وہ انتخابی معرکے میں گئے تو جیسے تیسے اپنی جیت کو یقینی بنایا۔ جنرل یحییٰ نے اگرچہ منصفانہ انتخابات کروائے جن کو آج تک کسی نے کبھی بھی متنازع نہیں بتلایا، نہ اس نوع کے الزامات آج تک کبھی عائد کیے جاسکے مگر ان غیر متوقع انتخابی نتائج کو قبول کیا گیا نہ ان پر عملدرآمد ہونے دیا گیا۔ ان لوگوں نے ملک تڑوانا قبول کرلیا لیکن عوامی مینڈیٹ کے سامنے سرنگوں ہونا قبول نہیں کیا۔

ضیاء الحق اور پرویز مشرف کیاجوڑ توڑ کرتے پائے گئے اس کی تفصیل میں گئے تو دیگر تمام سوالات چھوٹ جائیں گے۔ جن جنرلز نے مارشل لا نہیں لگایا، انہوں نے بھی سیاست کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لیے کیا کیا مہارتیں دکھائیں، ان کی بھی ایک طویل کہانی ہے۔ باقی سب کوچھوڑتے ہوئے جنرل باجوہ کے مفاداتی کردار کو ہی بطور مثال سمجھا جاسکتا ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت ہم 2018 کی صورتحال میں کھڑے ہیں۔ جنرل باجوہ نے ہماری قومی زندگی کے پورے پانچ سال ضائع کروانے کے علاوہ کوئی مثبت کارکردگی نہیں دکھائی۔ 2018 میں کوئی مانے نہ مانے ن لیگ کی واضح جیت یقینی تھی۔ اس حوالے سے درویش کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ آج پھر وقت نے نوازشریف کو واپس اُسی مقام پر لاکھڑے کیا ہے۔

بلاشبہ وہ اپنے ساتھ مولانافضل الرحمن جیسے اتحادیوں کو ضرور اکاموڈیٹ کریں گے لیکن ان کے پاس ”استحکامِ پارٹی“ کے لوگوں کو ٹکٹیں دینے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر یا بہت کم ہے کیونکہ ن لیگ کے اپنے لوگ بھی ایسے کسی رویے کو پسند نہیں کریں گے۔ اور وہ یہ بھگت چکی ہے۔ مقابلہ بہرحال ون ٹو ون ہی ہونا ہے۔ اگر پی ٹی آئی کا ہوا کھڑے رہتا تو عین ممکن تھا کہ ن اور پی پی والے انتخابی ایڈجسٹمنٹ کرتے اب بدلے ہوئے حالات میں ن لیگی اتحاد کے بالمقابل واضح بات ہے کہ پی پی کی قیادت میں دوسرا اتحاد بنے گا جس میں اے این پی کے علاوہ جناح ثالث کے بھگوڑے بھی شامل ہوں گے۔

اسلام آباد سنگھاسن پر اس نے بیٹھنا ہے جس نے پنجاب فتح کرنا ہے۔ پنجاب کی صورتحال اس وقت سب سے دلچسپ ہے۔ ہمارے شیخ چلی یا طالبان خان کو ابھی تک یقین نہیں ہے کہ وہ فارغ ہوچکے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے لیڈران جتنے بھی نکل گئے ہیں چاہے سارے چلے جائیں لیکن اُن کا ووٹر اُن کے ساتھ ہے۔ یہ ایک جعلی متھ ہے جو شیخ اور بیرسٹر جیسے ذہنی مریض خواہ مخواہ پھیلاتے اور تیس مارخان کو بے وقوف بناتے دکھتے ہیں۔ ہمارا ووٹر اتنا بیوقوف نہیں ہے، شعبدہ باز جتنا خیال کرتے ہیں۔ اس وقت استحکام پارٹی کے پاس لیڈران کی تو بہتات ہے لیکن کارکنان کی کمی ہے۔ جبکہ پی پی کے پاس پنجاب میں کھڑے کرنے کے لیے مناسب لیڈران کا شدید بحران ہے اور یہ بحران استحکام پارٹی کے ملاپ یا تعاون سے دور کیا جاسکتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ طاقتوروں کا ہاتھ کس کے سر پر ہوگا؟ اس امر کا امکان بھی موجود ہے کہ بچی کھچی پی ٹی آئی شاہ محمود کی قیادت میں تحریکِ لبیک سے سمجھوتہ کرنے تک پہنچ جائے۔ البتہ اس کی ترجیح پی پی بھی ہوسکتی ہے لیکن جناح ثالث تنہا پرواز کو ترجیح دے گا۔ جبکہ دوسری طرف طالبان خان کی نااہلی یقینی ہے۔ جو ملک بدری یا جیل یاترا تک جاسکتی ہے۔ درویش برسوں سے استدلال کرتا چلا آرہا ہے کہ پی ٹی آئی کوئی سیاسی پارٹی نہیں۔ یہ تو جناح تھرڈ کا فین کلب یا پریشرگروپ ہے جو کسی بھی چھیڑ خانی کی صورت یا تیس مارخان کی نااہلی پر بکھر جائے گا۔

یوں ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے، جہاں سے شروع ہوتی ہے وہیں پہنچ جاتی ہے۔

جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا/ کریدتے ہو جو اب راکھ، جستجو کیا ہے۔ اب پی ٹی آئی کے اس خلا کو جناح تھری کے منحرفین پی پی کے ساتھ مل کر پورا کرنے کی کاوش کرسکتے ہیں۔ ہمارے بہت سے تجزیہ نگار ن لیگ کے بالمقابل شاہ محمود کی پارٹی کو دیکھ سکتے ہیں لیکن درویش کی نظر میں پیپلز پارٹی کے ساتھ استحکام پارٹی اور ق لیگ مل سکتے ہیں۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ نوازشریف کے مقدمات کس طرح اور کب ختم ہونے ہیں؟ جو بھی صورتحال ہو نوازشریف کے لیے لازم ہے کہ وہ 14 اگست کو بہرصورت وطن واپس آجائیں۔ اُن کا لاہور میں بھرپور استقبال ن لیگیوں کے لیے طاقت کا اظہار ہوگا۔ الیکشن کب ہونے ہیں، اس میں ابھی تھوڑا اُلجھاؤ ہے۔