اعتراف ناکامی کے باوجود حکومت ذمہ داری قبول نہیں کرتی

وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’اگر ملکی معاشی مسائل حل نہ ہوسکے تو  ہمارے وجود کو خطرہ لاحق ہے‘۔  انہوں نے واضح کیا کہ ملکی آمدنی قرضوں  کی قسط ادا کرنے کے لئے بھی کافی نہیں ہے جبکہ ایک خاص اشرافیہ کا ملک پر راج ہے۔  ’یہ ایک ایسا مافیا ہے جس کے خلاف اگر کچھ کیا جائے تو چاروں طرف سے یلغار ہو جائے گی۔  یلغار نہیں ہوگی تو عدلیہ ان کو  بچانے آجائے گی۔ اس طرح ملک  نہیں چلے گا‘۔

یہ باتیں  حکومت کے ایک  سینئر وزیر اور  ملک کے ایک تجربہ کا سیاست دان نے کی  ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے لیکن  ہم میں ایسے اقدامات کی ہمت نہیں ہے جن پر عمل کرنے سے ملک کی معاشی صورت حال تبدیل ہوسکتی ہے۔   دیگر باتوں کے علاوہ  انہوں نے ملک کے رئیل اسٹیٹ شعبہ کا حوالہ  دیا اور کہا کہ  یہ شعبہ 500 ارب روپے  کے ٹیکس ادا نہیں کرتا اور اس میں ملک ریاض جیسے لوگ موجود ہیں جن کا نام میڈیا پر لینا منع ہے۔ 

وزیر دفاع کی باتیں  کسی اپوزیشن لیڈر کی تقریر معلوم ہوتی ہے جو  قومی اسمبلی میں حکومت کے لتے لے رہا ہو یا  کسی انتخابی مہم میں سادہ لوح عوام کو  بے وقوف بنانے کے لئے چکنی چپڑی باتیں کرکے ساری ذمہ داری  فریق مخالف پر ڈال کر یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اگر اسے اقتدار مل گیا تو وہ ملک کی تقدیر بدل دے گا۔ خواجہ آصف شاید  ایک ہی تیر سے دو شکار کرنا چاہتے ہیں لیکن  ان کی چالاکی ملاحظہ ہو کہ اس کے ساتھ ہی وہ سرکاری عہدے سے بھی چمٹے  ہوئے ہیں اور  مراعات سے دست بردار ہونے پر بھی تیار نہیں ہیں۔ 

یہ تو قابل فہم ہے کہ تحریک انصاف کے  قومی اسمبلی سے  علیحدگی کے بعد سے  قومی اسمبلی   میں حقیقی اپوزیشن موجود نہیں ہے۔  خواجہ آصف نے  شاید اسی کمی کو پورا کرنے کے لئے آج ایوان میں دھؤاں دار تقریر کی ہے۔ یا وہ یہ نوشتہ دیوار دیکھ رہے ہیں کہ طوعاً کرہاً  حکومت کو بہر طور انتخابات کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا، اس لئے کچھ ایسی باتیں ریکارڈ پر لائی جائیں  جنہیں انتخابات  میں سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔ تاہم  یہ نوبت آنے سے پہلے وزیر دفاع اور ان کی حکومت کو بعض بنیادی باتوں کا جواب دینا پڑے گا۔

سب سے پہلا سوال تو یہی ہے  کہ  وزیر دفاع نے ملکی معاشی معاملات میں جن کمزوریوں و برائیوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور ایوان میں بیٹھے ہوئے بعض عناصر کا حوالہ دیتے ہوئے ، ان پر بڑی مقدار میں ٹیکس چوری کرنے کا جو الزام لگایا ہے، اس کی اصلاح کس کی ذمہ داری ہے؟ ملک کا عام شہری تو یہی باور کرتا ہے کہ جب کوئی پارٹی یا پارٹیاں مل کر حکومت قائم کرتی ہیں تو وہ  ان تمام علتوں کو ختم کرنے کی ذمہ داری  قبول کرتی ہیں جن کی وجہ سے ملک میں طبقاتی تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہےاور ایک خاص اشرافیہ کسی ایسے مافیا کی صورت اختیار کرچکی  ہے  جس پر کوئی عام ادارہ تو کیا حکومت بھی ہاتھ ڈالنے سے  خوفزدہ ہو۔

جو پیغام  خواجہ آصف نے عام کیا ہے ۔ سادہ الفاظ میں اسے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ   حکومت کی مکمل ناکامی کا اعتراف ہے۔  اعلان کیا گیا ہے کہ  موجودہ حکومت  عوامی مفادات کا تحفظ کرنے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں  کامیاب نہیں ہوئی ۔   حکومت مان رہی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرسکی۔ سرکاری ادارے خسارے  میں جارہے ہیں لیکن انہیں بند کرنے کی بجائے ان کا بوجھ بدستور   قومی خزانے پر لادا گیا ہے۔ متعدد شعبے  وزیر دفاع کے الفاظ میں ہزاروں ارب روپے کے ٹیکس و محصولات ادا نہیں کرتے  لیکن حکومت ان سے  ٹیکس  وصول  کرنے کے قابل نہیں ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی جماعت یا جماعتوں کو بدستور اقتدار میں رہنے کا کیا حق حاصل ہے؟

اپریل  2022 میں مسلم لیگ (ن)  اپنی حلیف جماعتوں کے ساتھ مل کر یہ دعویٰ کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی تھی کہ تحریک انصاف کی حکومت ملکی معیشت کو تباہ کررہی ہے،  اس لئے اسے تبدیل کرنا ہی قومی مفاد میں ہے۔ تاہم  بعد از وقت رونما ہونے والے حالات میں  یہ واضح ہوگیا کہ شہباز شریف کی کثیر الجماعتی حکومت کے پاس بھی ملکی معاشی مسائل کا حل نہیں تھا یا وہ اتنی کمزور اور غیر فعال  حکومت  ہے کہ کوئی بھی اہم فیصلہ کرنے اور اس پر عمل کروانے  کے قابل نہیں ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ موجودہ حکومت بہر طور اقتدار سے چمٹے رہنے ہی کو قومی مفاد کے لئے بہترین حل سمجھتی ہے؟ خواجہ آصف کے پاس اگر دیگر سوالوں کا  جواب نہیں ہے تو کم از اس سوال کا جواب تو وہ دے سکتے ہیں کہ  جب حکومت ناکام ہے اور ملکی نظام غیر فعال اور طاقت ور گروہوں کے پاس یرغمال ہے تو حکومت کیوں ان عناصر کی سہولت کار بنی ہوئی ہے؟

خواجہ آصف نے خطابت کے جوش میں  یہ بھی فرمایا ہے کہ  ملکی معیشت کو تباہ کرنے والے مافیا کے نمائیندے ایوان میں بھی بیٹھے ہیں لیکن وہ اپنے تمام تر بلند آہنگ کے باوجود ان کا نام زبان پر نہیں لاسکے۔ اس حوالے سے یہ تو بہر حال پوچھا ہی جاسکتا ہے کہ یہ  لوگ کسی نہ کسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے ہی انتخاب جیت کر قومی اسمبلی تک پہنچے ہیں۔ اگر  یہی عناصر قومی دولت کو لوٹنے میں  سرفہرست ہیں  اور اپنے کاروبار پر ٹیکس ادا کرنے پر تیار نہیں  ہیں تو انہیں سیاسی پارٹیوں کے ٹکٹ کیوں پلیٹ میں رکھ کر پیش کئے جاتے  ہیں؟ کیا سیاسی لیڈر اور پارٹیاں اپنے مفاد کے لئے ان  عناصر کی ناجائز دولت میں حصہ وصول کرکے  قوم و ملک کے مسائل میں اضافہ کا سبب نہیں بنتیں؟ پھر  حکومت کا ایک ذمہ دار وزیر کس منہ سے بعض   ان دیکھے عناصر کو گناہ گار بتاتے ہوئے خود   بے قصورہونے کا ڈھونگ کرسکتا ہے؟

عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد قومی ہم آہنگی اور اشتراک  کے لئے ضروری  تھا کہ ملک پر لولی لنگڑی حکومت مسلط کرنے کی بجائے،  فوری طور سے عام انتخابات کا اہتمام کیا جاتا اور ایک ایسی حکومت منتخب کروائی جاتی جس کے پاس عوام کا مینڈیٹ ہوتا اور وہ فیصلے کرتے ہوئے کسی خوف میں مبتلا نہ ہوتی۔  لیکن یہ آسان راستہ اختیار کرنے کی بجائے ملک کو شدید انتشار اور بے چینی میں مبتلا رکھنا ضروری سمجھا گیا۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ عمران خان نے ملک میں تقسیم  و نفرت کی سیاست کی ہے لیکن اس سیاست کو بڑھاوا دینے میں موجودہ حکمران جماعتوں نے بھی حصہ ادا کیا ہے۔ بصورت دیگر انہیں انتخابات سے بھاگنے کی بجائے یہی  راستہ اختیار کرنا چاہئے تھا کیوں کہ جب سیاسی معاملات بگاڑ  کا شکار ہوں تو انہیں ٹھیک کرنے کے لئے انتخابات ہی واحد راستہ ہوتے ہیں۔

بدقسمتی سے حکومت مسلسل انتخابات سے بھاگ رہی ہے۔ حکومتی ترجمان دعوے کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے حکم پر جب تحریک انصاف سے مذاکرات کئے گئے تھے تو جولائی میں اسمبلیاں توڑ کر ستمبر /اکتوبر میں انتخابات کروانے  کی پیش کش کی گئی تھی لیکن عمران خان نے الٹی میٹم دے کر اس خیر سگالی کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ تاہم سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر حکومت جولائی میں اسمبلیاں توڑنے اور ستمبر /اکتوبر تک انتخابات منعقد کروانے کا ارادہ رکھتی ہے تو بجٹ پیش ہوجانے کے بعد بھی ، اس کا اعلان کرنے میں اب کیا  امر  مانع ہے؟ حکومت کے اسی رویہ کی وجہ سے  ملک  کے سیاسی مستقبل کے بارے میں چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔ کسی کا خیال ہے کہ حکومت انتخابات کو سال دو سال کے لئے مؤخر کرنے کا کوئی ’آئینی‘ راستہ تلاش کررہی ہے۔ کوئی کہتاہے کہ ملک میں کوئی ایسا غیر منتخب  نظام  مسلط کرنے کا منصوبہ ہے جو  رائے عامہ کے جائزوں سے بے پرواہ ہوکر مشکل معاشی فیصلے کرے  تاکہ ایک بار ملکی معیشت کو درست راستے پر ڈالا جاسکے۔  عوام کے مصائب پر ’خون کے آنسو‘ بہانے والے خواجہ آصف ہی بتائیں  کہ کیا اس قسم کی سرگوشیاں ملکی معیشت اور عوامی بہبود کے لئے کوئی اچھا اشارہ ہیں؟

ملک کی سیاسی بے یقینی کے بارے میں اگر ڈرائنگ رومز یا سیاسی و صحافتی حلقوں میں نت نئی سرگوشیاں ہورہی ہیں تو یہ تو نہیں ہوسکتا کہ حکومت کو ان کی خبر نہ ہو۔ پھر حکومت ان افواہوں کو ختم کرنے کے لئے انتخابات کے بارے میں کوئی واضح اعلان کرنے سے کیوں کترا رہی ہے؟ ملکی تاریخ  میں متعدد بار طویل دورانیے کی آمرانہ حکومتیں قائم رہی ہیں۔ اگر  شخصی حکومت کسی ملک کے مسائل کا حل ہوتی تو پاکستان  مسائل کے موجودہ بھنور میں گرفتار نہ ہوتا۔ اور وہ سارے ممالک جہاں شخصی آمریت قائم ہے، وہاں  دودھ و شہد کی نہریں بہہ رہی ہوتیں۔

بدقسمتی سے یہ  تاثر درست نہیں ہے۔  عوام کی   تائد سے بننے والی حکومت ہی ملک و قوم کو درپیش مسائل حل کرنے کی اہل ہوتی ہے۔ البتہ اس کا جواب ملکی سیاست دانوں کو دینا ہوگا کہ وہ کیوں عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد ان سیٹھوں یا مافیاز  کے مفادات کے محافظ بن جاتے ہیں  جو خواجہ آصف کے بقول ملکی دولت لوٹ رہے ہیں  اور  عوام کی غربت اور ملک کے معاشی مسائل کا حقیقی سبب  ہیں۔