آئی ایم ایف کا پروگرام خطرے میں ہے: موڈیز

  • جمعرات 15 / جون / 2023

موڈیز نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے پاس عالمی مالیاتی ادارے کو 6.7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے تحت 2.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے پر قائل کرنے کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے۔

 ریٹنگ ایجنسی نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر ملک، آئی ایم ایف پروگرام حاصل کرنے میں ناکام رہا تو وہ دیوالیہ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف  وزیر خزانہ اسحٰق ڈار آئی ایم ایف حکام کو نویں جائزے کی تکمیل کے لیے قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ منظوری 1.1 ارب ڈالر کی قسط حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے صرف 2 ہفتے رہ گئے ہیں۔ ناکامی کی صورت میں معیشت پر شدید نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ بیل آؤٹ پیکیج کا اختتام 30 جون کو ہوگا۔ بلومبرگ نے سنگاپور میں مقیم موڈیز کے خودمختار تجزیہ کار گریس لم کے حوالے سے بتایا کہ خطرات بڑھ رہے ہیں کہ شاید پاکستان، آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل نہ کرسکے جس کا اختتام جون میں ہو رہا ہے۔

حکومت دوست ممالک اور ڈونر ایجنسیوں کی مدد سے پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچانے کی جہدوجہد کر رہی ہے۔ لیکن خراب معاشی کارکردگی اس کی مضبوط وجہ ہے کہ مددگار فاصلہ رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت کے حالیہ تخمینے کے مطابق مالی سال 2023 میں معاشی نمو 0.29 فیصد رہی لیکن غیرجانبدار تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ معاشی نمو 2 تا 3 فیصد سکڑ سکتی ہے۔

ریٹنگ ایجنسی نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر پاکستان ڈیفالٹ کرسکتا ہے کیونکہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال کمزور ہے۔ مرکزی بینک کے پاس 4 ارب ڈالر سے کم کے ذخائر رہ گئے ہیں۔ موڈیز کے علاوہ دیگر ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج کو مسترد کرتا ہے تو پاکستان دیوالیہ ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے متعدد بار اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام پیشگی شرائط پوری کردی ہیں، ماہرین اور تجزیہ کار بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی درکار شرائط کو پورا کر دیا ہے۔

پاکستان میں مالیاتی شعبے کا خیال ہے کہ بیل آؤٹ پیکج کی ناکامی سے ملک کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ دوسری طرف رواں برس کے آخر تک عام انتخابات کے بعد آنے والی نئی حکومت کے لیے تباہ کن معاشی حالات سے گزرنا آسان نہیں ہوگا۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے موجودہ مالی صورت حال کے بارے میں کہا ہے کہ ہمیں بیرونی اخراجات اپنی چادر کے اندر رہ کر کرنے چاہئیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے  کہا کہ آج اخبارات میں چھپا ہے کہ آئم ایف نے بجٹ میں دی گئی چھوٹ پر اعتراض کیا ہے۔ ہم نے ان شعبوں کو سہولیات دی ہیں جو گروتھ کا باعث بنتے ہیں۔ گروتھ ہوگی تو معیشت کا پہیہ چلے گا، ہمیں ایک خودمختار ملک ہونے کے ناطے اتنی اپنی مرضی کرنے کی اجازت تو ہونی چاہیے۔ ہم بطور ملک بہت آہستہ چل رہے ہیں۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم نے کرنسی کی اسمگلنگ کو ہر صورت روکنا ہے۔ اس کیلئے کریک ڈاؤن کرنا ہے، صرف کسٹمز یہ اسمگلنگ نہیں روک سکتا۔ اس کی اسمگلنگ روکنے کیلئے تمام ایجنسیوں کو مل کر کوشش کرنا ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ نویں اقتصادی جائزہ پر میں نے آئی ایم ایف کو مدعو کیا۔ لیکن تین ماہ وہ پاکستان نہیں آئے۔ جنوری میں پاکستان آئے۔ میری کوشش تھی کہ دوسری مرتبہ بھی آئی ایم ایف پروگرام مکمل کرتے، آئی ایم ایف ہو یا نہ ہو پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا۔